شوکت ترین کو سینیٹر بنانے کا حکومتی مشن کتنا مشکل اور ناممکن ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار کنور دلشاد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اسحاق ڈار نے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ کر موقف اختیار کیا ہے کہ صدارتی آرڈیننس کے مطابق چالیس دن کے اندر حلف اٹھانا اُن پر اس لیے لاگو نہیں ہوتا کہ ان کی سینیٹ کی ممبرشپ کو 8 مئی 2018ء کو سپریم کورٹ

نے معطل کر رکھا ہے اور ان کا کیس سپریم کورٹ میں زیرِ التوا ہے‘ جونہی عدالت نے ان کی ممبرشپ بحال کی وہ حلف اٹھانے کے لیے پاکستان آ جائیں گے۔ اس اہم آئینی تناظر کو وفاقی حکومت کو مدِنظر رکھنا چاہیے۔ چنانچہ موجودہ حالات میں تو شوکت ترین کو خیبر پختونخوا اسمبلی سے ہی سینیٹر منتخب کرایا جا سکتا ہے جس کیلئے شوکت ترین صاحب کو انتخابی فہرست ایکٹ اور نادرا کے مشکل مرحلوں سے گزرنا ہو گا۔اگر اسحاق ڈار کی نشست خالی ہو جاتی ہے تو اس صورت میں وزیرِ خزانہ شوکت ترین آسانی سے پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کی اکثریت کے بل بوتے پر سینیٹر منتخب ہو سکتے ہیں‘ بشرطیکہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کی طرح حکومت کو کوئی پشیمانی نہ اُٹھانی پڑے کیونکہ جہانگیر ترین کے 30 کے لگ بھگ ارکان صوبائی اسمبلی اور اتحادی جماعت کے ارکان اسمبلی ممکنہ طور پر ہاتھ دکھا سکتے ہیں۔ یہاں پر مارچ 2021 کا فارمولہ‘ جو چودھری پرویز الٰہی نے اختیار کیا تھا‘ کامیاب ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا ہے۔ شوکت ترین کو اگر محفوظ راستہ دیتے ہوئے صوبہ خیبر پختونخوا کی اسمبلی سے کامیاب کرانا مقصود ہو تو پھر ان کو الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 27 کے مرحلے سے گزرنا پڑے گا اور شناختی کارڈ تبدیل کرتے ہوئے انتخابی فہرست میں اندراج کرانا ہو گا تاہم موجودہ انتخابی فہرست میں جہاں ان کا ووٹ درج ہے‘ اسی حلقے سے ووٹ ٹرانسفر کرانے لیے الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 31 ان کی راہ میں حائل ہو گی اور جب ان کے شناختی کارڈ میں تبدیلی اور ووٹ کے اندراج کا مرحلہ آئے گا تو میڈیا میں دلچسپ بحث شروع ہو جائے گی جو اُن کی شہرت کو متنازع بنا دے گی‘ لہٰذا شوکت ترین‘ جو اپنے ماضی اور حال کا شاندار پس منظر رکھتے ہیں‘ پر از سر نو نئی بحث کا آغاز ہو جائے گا۔ ان کے مخالف گروپ عدالت میں رٹ بھی دائر کر سکتے ہیں جیسا کہ اقبال جھگڑا‘ راحیلہ مگسی‘ کنول شوذب اور ملیکہ بخاری کے کیسز عدالتوں میں زیرِ سماعت رہے‘ جبکہ کنول شوذب اور ملیکہ بخاری کے کیسز کے فیصلے اسلام آباد ہائی کورٹ میں محفوظ ہیں۔