شوہر بولا یہ تو ہونا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ پڑھیے ایک سبق آموز حکایت

لاہور(ویب ڈیسک) تفسیر روح البیان میں ایک قصہ منقول ہے کہ شہر بخارا میں ایک سنار کی مشہور دکان تھی اس کی بیوی خوبصورت اور نیک سیرت تھی ایک سقا ( پانی لانے والا)اس کے گھر تیس سال تک پانی لاتا رہا بہت بااعتماد شخص تھا ایک دن اسی سقا نے پانی ڈالنے کے

بعد اس سنار کی بیوی کا ہاتھ پکڑ کر شہوت سے دبایا اور چلاگیاعورت بہت غمزدہ ہوئی کہ اتنی مدت کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اسی دوران سنار کهانا کها نے کے لئے گھر آیا تو اس نے بیوی کو روتے ہوئے دیکھا پوچھنے پر صورتحال کی خبر ہوئی تو سنار کی آنکھوں میں آنسو آگئے بیوی نے پوچھا کیا ہوا ؟ سنار نے بتایا کہ آج ایک عورت زیور خریدنے آئی جب میں اسے زیور دینے لگا تو اس کا خوبصورت ہاتھ مجھے پسند آیا میں نے اس اجنبیہ کے ہاتھ کو شہوت کے ساتھ دبایا یہ میرے اوپر قرض ہو گیا تها لہذا سقا نے تمہارے ہاتھ کو دباکر چکادیا میں تمہارے سامنے سچی توبہ کر تا ہوں کہ آئندہ کبھی ایسا نہیں کروں گا -البتہ مجھے ضرور بتانا کہ سقا تمہارے ساتھ کیا معاملہ کرتا ہے دوسرے دن سقا پانی ڈالنے کے لئے آیا تو اس نے سنارکی بیوی سے کہا کہ میں بہت شرمندہ ہوں کل مجھے شیطان نے ورغلا کر براکام کروا دیا میں نے سچی توبہ کرلی ہے آپ کو میں یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ ایسا کبھی نہیں ہوگا- عجیب بات ہے کہ سنار نے غیر عورت کو ہاتھ لگانے سے توبہ کر لی تو غیر مردوں نے اس کی عورت کو ہاتھ لگا نے سے توبہ کر لی. (تفسیر روح البیان)ایک بادشاہ کے سامنے کسی عالم نے یہ مسئلہ بیان کیا کہ زانی کے عمل کا قرض اس کی اولاد یا اس کے اہل خانہ میں سے کسی نہ کسی کو

چکانا پڑتا ہے اس بادشاہ نے سوچا کہ میں اس کا تجربہ کرتاہوں اس کی بیٹی حسن و جمال میں بے مثال تھی اس نے شہزادی کو بلا کر کہا کہ عام سادہ کپڑا پہن کر اکیلی بازار میں جاؤ اپنے چہرے کو کھلا رکهو اور لوگ تمہارے ساتھ جو معاملہ کریں وہ ہوبہو آکر مجھے بتاؤ شہزای نے بازار کا چکر لگا یا مگر جو غیر محرم شخص اس کی طرف دیکهتا وہ شرم و حیا سے نگاہیں جھکا لیتاکسی مرد نے اس شہزادی کے حسن و جمال کی طرف دھیان ہی نہیں دیا سارے شہر کا چکر لگا کر جب شہزادی اپنے محل میں داخل ہو نے لگی تو راہ داری میں کسی ملازم نے محل کی خادمہ سمجھ کر روکا گلے لگا یا بوسہ لیا اور بهاگ گیا شہزادی نے بادشاہ کو سارا قصہ سنایا تو بادشاہ روپڑا اور کہنے لگا کہ میں نے ساری زندگی غیر محرم سے اپنی نگاہوں کی حفاظت کی ہے البتہ ایک مرتبہ میں غلطی کر بیٹها اور ایک غیر محرم لڑکی کو گلے لگا کر اس کا بوسہ لیا تھا میرے ساتھ بھی وہی کچھ ہوا جو میں نے اپنے ہاتھوں سے کیا تھا. سچ ہے کہ زنا ایک قصاص والا عمل ہے جس کا بدلہ اداہوکر رہتا ہے بیٹها اور ایک غیر محرم لڑکی کو گلے لگا کر اس کا بوسہ لیا تھا میرے ساتھ بھی وہی کچھ ہوا جو میں نے اپنے ہاتھوں سے کیا تھا. سچ ہے کہ زنا ایک قصاص والا عمل ہے جس کا بدلہ اداہوکر رہتا ہے

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *