شہباز شریف کی ضمانت منظور ہونے کے پیچھے چھپی اصل کہانی ۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔شہباز شریف ضمانت پر رہا ہو گئے انہوں نے موجودہ حکومت کے دور میں ضمانت پر رہائی کی ہیٹ ٹرک مکمل کر لی۔ابھی تک انہیں کسی مقدمے میں کوئی سزا نہیں ہوئی البتہ وہ تین سو دن نیب کی حراست میں گزار

چکے ہیں۔ اب ان کی ضمانت عمل میں آئی ہے تو چہ میگوئیاں بھی شروع ہو چکی ہیں حتیٰ کہ پیپلزپارٹی کے بعض رہنماؤں نے ان کی رہائی کو ڈیل کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ یہاں اب سیاست کا چلن کچھ ایسا ہی ہو چکا ہے ہر کوئی گھات لگائے بیٹھا ہے کہ دوسرے کو پکڑے اور اس کی اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کا پروپیگنڈہ کرے،چونکہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کے معاملے پر پہلے ہی لڑائی جاری ہے، اس لئے شہباز شریف کی رہائی کو بھی اسی زمرے میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اب یہ تو آنے والے دنوں میں ہی کھلے گا کہ شہباز شریف کے باہر آنے سے سیاسی منظر نامے میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں تاہم یہ بات قابل غور ہے کہ شہباز شریف نے اس وقت ضمانت کی درخواست دائر کی جب سیاسی محاذ پر ٹھہراؤ آ چکا ہے۔جن دنوں لانگ مارچ اور استعفوں کا شور تھا، حکومت کے خلاف بڑے بڑے منصوبے بن رہے تھے، شہباز شریف ایک طرف ہو کر بیٹھ گئے تھے۔اس دوران کیا کچھ نہیں ہوا۔ پی ڈی ایم کی جماعتوں میں کیسی کیسی پیار کی پینگیں نہیں بڑھائی گئیں۔ خاص طور پر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے مفاہمت کے اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری بہن بھائی بن گئے۔ مریم نواز نے گڑھی خدا بخش جا کر شریف فیملی کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا، لیکن یہ چار دن کی چاندنی تھی،جو اب اندھیری رات میں ڈھل چکی ہے۔ جب یہ سارا غبار بیٹھ گیا۔

واقعات بدلتے بدلتے پہلے والی شکل میں آگئے تو پھر شہباز شریف نے مناسب سمجھا کر اب ضمانت پر رہائی کی کوشش کی جائے وگرنہ پھر جس نکتے پر شہباز شریف کی ضمانت ہوئی ہے، وہ تو پہلے دن سے موجود تھا۔اب یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ شہباز شریف کے باہر آنے سے پی ڈی ایم کے تنِ مردہ میں جان پڑے گی یا پھر وہ مزید ہچکیاں لینے لگے گا؟ ایک بات تو طے ہے کہ شہباز شریف جارحانہ سیاست کے قائل نہیں، وہ قدم پھونک پھونک کر رکھنے کے عادی ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ وہ لانگ مارچ یا استعفوں کی حمایت کریں۔ وہ حکومت کے خلاف کسی نئی حکمتِ عملی کو متعارف کرائیں گے۔ ابھی تک پی ڈی ایم نے حکومت کے خلاف جو مؤقف اختیار کئے رکھا ہے اس میں یہ تڑکا ضرور لگایا ہے کہ سلیکٹرز کٹھ پتلی وزیراعظم کی حمایت چھوڑ دیں۔یہ سوال بہت بار پوچھا گیا ہے کہ نوازشریف اور شہباز شریف میں کوئی اختلاف ہے؟ یہ بھی اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ نوازشریف کے بیانیئے کی کیا شہباز شریف حمایت کرتے ہیں۔اس کا جواب بڑا سادہ ہے۔ شہباز شریف ایک حقیقت پسند آدمی ہیں وہ یہ تو مانتے ہیں کہ نوازشریف کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو نشانہ بنایا گیا ہے، مگر ان کے نزدیک اس کا حل یہ نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ سے الجھا جائے، فوج کو اپنا مخالف بنا لیا جائے۔ یہ آج کی بات نہیں، اس وقت بھی جب نوازشریف اقتدار میں تھے اور کشیدگی کی وجہ سے کئی کئی ماہ ملک سے باہر چلے جاتے تھے،

یہ شہباز شریف ہی تھے جو پیچھے معاملات سنبھالتے تھے، صورتِ حال کو ٹھنڈا کرتے تھے اور نوازشریف کو واپسی کا سگنل دیتے تھے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہنا چاہئے کہ شہباز شریف ہمیشہ نوازشریف کے لئے ڈھال ثابت ہوئے ہیں جو لوگ اس بات کو نہیں سمجھ پاتے وہ دونوں بھائیوں میں اختلافات کی خبروں کو ہوا دیتے ہیں مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ش) کی باتیں کرتے ہیں۔ایک لمحے کو اگر آپ فرض کریں کہ شہباز شریف بھی اسی بیانیئے کو لے کر آگے بڑھتے جو نوازشریف کا ہے، تو آج مسلم لیگ (ن) کہاں کھڑی ہوتی؟ کیا اس کا شیرازہ نہ بکھر جاتا اور اسٹیبلشمنٹ کے غیظ و غضب کا شکار ہو کر قصہئ پارینہ نہ بن جاتی۔ یہ شہباز شریف ہی ہیں، جنہوں نے ایک کھڑکی کھلی رکھی ہوئی ہے۔ وہ سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ محاذ آرائی ان کی سیاسی لغت میں موجود نہیں۔ نوازشریف نے پورا زور لگا کر دیکھ لیا، کیا کچھ نہیں کہا۔مریم نواز نے بھی ان کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے وہی بیانیہ اپنایا، سخت لب و لہجہ اختیار کیا۔ کڑوی کسیلی باتیں کیں، جس پر بے شک تالیاں تو بچیں مگر حاصل کچھ نہیں ہوا اور مسلم لیگ (ن) کی سیاست بند گلی میں داخل ہوتی گئی۔ پی ڈی ایم میں دراڑوں کی جو مرضی وجوہات بیان کی جائیں، حقیقت یہ ہے کہ پیپلزپارٹی اور اے این پی اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیئے کی وجہ سے دور ہوئی ہیں۔ آصف علی زرداری اور اسفند یار ولی کو اتنا تو معلوم ہے کہ پاکستان میں سیاست اس بیانیئے کے تحت نہیں چل سکتی جو نواز شریف نے اپنا رکھا ہے۔

اس بیانیئے کی وجہ سے ملک میں جمہوریت کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اور پچھلے دس پندرہ برسوں میں جمہوریت کی جو ٹرین پٹری پر چڑھی ہے وہ اتر بھی سکتی ہے۔ اب اس تناظر میں شہباز شریف کا باہر آنا بڑی اہمیت رکھتا ہے۔یہ بھی امکان ہے کہ وہ پیپلزپارٹی اور اے این پی کو پی ڈی ایم میں واپس لانے کی کوشش کریں۔ ان کے اس بیانیئے کو تسلیم کر لیں کہ حکومت کو ہدف بنایا جائے اداروں کو نہیں۔ وہ چونکہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہیں اس لئے یہ چاہیں گے کہ مضبوط اپوزیشن کی نمائندگی کریں۔ وگرنہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر پی ڈی ایم سینٹ میں یوسف رضا گیلانی کو اپوزیشن لیڈر تسلیم نہیں کرتی تو پیپلزپارٹی اور اے این پی بھی قومی اسمبلی میں اپنے لئے علیحدہ نشستوں کی درخواست کر دیں اور یوں اپوزیشن تقسیم ہو کر کمزور ہو جائے۔یہ سوال بھی پوچھا جا رہا ہے کہ اب مریم نواز کی پوزیشن کیا ہو گی۔ وہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر ہیں شہباز شریف کی عدم موجودگی میں وہی سب سے اہم تھیں مگر اب چونکہ شہباز شریف باہر آ چکے ہیں، وہ مسلم لیگ (ن) کے صدر ہیں اس لئے ہر فورم پر نمائندگی وہی کریں گے، یہ حکومتی وزراء کی خواہش تو ہو سکتی ہے کہ ان دونوں میں ٹھن جائے۔ ن اور ش کا جھگڑا کھڑا ہو جائے۔ مگر ایسا ہوگا نہیں شہباز شریف کو بائی پاس کرنا ہوتا تو نوازشریف مریم نواز کو نائب صدر کی بجائے صدر بنا دیتے۔ شہباز شریف کے باہر آنے سے مسلم لیگ (ن) کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ سیاست کو سمجھنے اور مخالفین کی چالوں پر نظر رکھنے والا ایک مدبر سیاستدان اس کی رہبری کرے گا اور یہ الزام بھی کوئی نہیں دے گا کہ سیاست کو بچوں کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *