شہباز گل والا بیان ایک منصوبے کے تحت دلوایا گیا ، اس منصوبے میں تین اور لوگ بھی شامل ہیں ۔۔۔۔۔ تہلکہ خیز انکشافات پر مبنی خبر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ایس اے زاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔کسی بھی ملک کی بقا اور استحکام کیلئےریاستی رٹ لازم ہے۔ اگر ریاست کی رٹ کمزور ہو جائے تو اس ملک کی بقا خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ پاکستان ریاستی رٹ کے حوالے سے ایک مضبوط ملک ہے

اوریہاں ریاست کی رٹ قائم و مستحکم ہے۔ کسی کو بھی ریاستی رٹ چیلنج کرنے کی اجازت ہے نہ ہی کوئی ایسی جرأت کرسکتا ہے۔ یہ تو نظر آرہا ہے کہ شہباز گل کو اسلام آباد پولیس یا کسی ریاستی ادارے نے نہ تو بغاوت پر اکسانے کے مذموم بیان پر اکسایا نہ ہی بعداز گرفتاری اس پر کوئی زدوکوب ہوا۔ شہباز گل کو ان لوگوں نے اکسایا جن کیلئے شہباز گل نے اخلاقیات کی ساری حدیں پار کرنے میں کبھی کوئی تامل نہیں کیا۔ اور پھر شہباز گل نے شاہ کی زیادہ وفاداری میں ایسا بیان دیا جو ملکی تاریخ میں نہ کسی نے دیااور نہ ہی کوئی ایسا سوچ سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق یہ بیان ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت دیاگیا۔ اس منصوبے میں شہباز گل کے علاوہ تین اور لوگ بھی شامل تھے اور اس بیان کو پھر باقاعدہ تحریری شکل دی گئی۔ اس منصوبے میں پھر ایک نجی ٹی وی چینل کے کرتا دھرتائوں کو بھی شامل کیا گیا جن کے بارے میں تحقیقات بھی ہورہی ہیں۔ افواج پاکستان کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے بیان سے قبل متعدد بار پاک فوج میں تفریق پیدا کرنے، اعلیٰ فوجی قیادت کے بارےمیں غلیظ زبان استعمال کرنے کے علاوہ سانحہ لسبیلہ کے جانثار جوانوں اور افسران کے بارے میں ناپاک اور انتہائی مذموم مہم بھی چلائی گئی۔ ان تمام ناپاک کوششوں کے تانے بانے بنی گالہ سے جڑے تھے اور وہاں سے باقاعدہ ہدایات جاری ہوتی رہیں۔ ذرائع کے مطابق افواج پاکستان کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے منصوبے کیلئےتیار کی گئی

اور پھر اس کے مطابق شہباز گل کے بیان کی تحریر متعلقہ اداروں کو مل گئی ہے۔ شہباز گل پر مبینہ زدوکوب کا بیانیہ بنانے اور اس کو اچھالنے کے پیچھے شہباز گل کی رہائی مقصود نہیں ہے بلکہ اس کو پولیس حراست سے چھڑا کر قید خانے بھجوانا مقصود ہے۔ جس کے بعد کوئی کہانی شروع ہوسکتی ہے۔ عمران خان کو معلوم ہوا ہوگا کہ شہباز گل نے جو بیان دینا تھا وہ دے چکا ہے لیکن عدالت کے سامنے بیان دینے سے روکنا ضروری ہے۔ لیکن سارے ثبوت تو مل چکے ہیں۔ مبینہ طور پر شہباز گل کے ڈرائیور کو بھی بنی گالہ میں رکھا گیا ہے۔ اگر شہباز گل عدالت کے سامنے اقبالی بیان دے کروعدہ معاف گواہ بن جاتے ہیں تو پھر عمران خان اور مذکورہ منصوبے میں شامل دیگر افراد کیلئے بے پناہ مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پھر خود ان کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے اور شاید پھر ساتھ دینے والا بھی کوئی نہ ہو۔عمران خان نے گزشتہ روز F-9پارک اسلام آباد میں ایک جلسہ سے خطاب میں اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ افسران اور ایک خاتون جج صاحبہ کا نام لے کر نہ صرف نازیبا الفاظ استعمال کئے بلکہ ان کو وارننگز بھی دیں۔ جس کے بعد پیمرا نے ان کے لائیو خطاب ٹی وی چینلز پر دکھانے پر پابندی عائد کردی۔ لیکن یہ عجیب و غریب پابندی ہے کہ ان کے خطاب کے ٹکرز ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ گزشتہ روز راولپنڈی میں ایک نجی ٹی وی چینل نے نہ صرف ان کے جلسے کو پوری کوریج دی

بلکہ جلسے میں اسٹیج پر موجود کچھ لوگوں کے خطابات کو بھی لائیو دکھایا۔ جلسے کے ایک گھنٹے بعد متعدد نجی ٹی وی چینلزنے ان کے خطاب کو دکھایا۔ کیونکہ پیمرا نے کہا ہے کہ عمران خان کے ریکارڈ شدہ خطاب کو دکھایا جاسکتا ہے۔ یہ بھلا کیسی ٹھنڈی میٹھی پابندی ہے کیا مقصد حکومت کو بدنام کرنا ہے؟ حکومت کو چاہئے کہ اس نرم گرم پابندی پر پیمرا سے بات کرے کہ یا تو عمران خان کے جلسوں کی کوریج اور تقاریر پر مکمل پابندی عائد کردے اورجس نجی ٹی وی چینل نے گزشتہ روز راولپنڈی میں پی ٹی آئی کےجلسے کی پوری کوریج اور خطاب کو دکھایا تھا اس کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کرے یا پھر عمران خان کی تقاریر، جلسوں سے خطاب اور ان کے جلسوں کی کوریج پر لگائی گئی نام نہاد پابندی کو فوری ختم کردے۔عمران خان کو غلط مشورے دینے والے نہ تو عمران خان کے خیرخواہ ہیں نہ ہی ملک کے۔ لیکن عمران خان کو خود بھی سوچنا چاہئے تھا کہ جس راستے پر وہ گامزن ہیں اس راستے کے آخری سرے پر نہایت خطرناک اور گہری کھائی ہے اور معلوم نہیں کب اچانک وہ کھائی آجائے۔ انہوں نے یہ کیوں سمجھا اور ان کے کس بدخواہ نے ان کے ذہن میں یہ بات ڈال دی کہ وہ عوامی اور سیاسی دبائو ڈال کر اداروں اور حکومت کو زیر کر سکیں گے اور اس طرح وہ ایک بار پھر حصول اقتدار کا اپنا مقصد حاصل کرلیں گے۔ لیکن ان کو یہ سمجھ نہیں آئی کہ چند ہزار نوجوانوں کو تو ورغلایا جاسکتا ہے کیونکہ وہ ابھی سمجھ بوجھ حاصل کرنے کے مراحل سے گزر رہے ہوتے ہیں لیکن وہ اس طرح ریاست اور حکومت کو کبھی زیر نہیں کرسکتے بلکہ خود قانون کے شکنجے میں پھنس سکتے ہیں۔ اس وقت عمران خان کو کئی مقدمات کا سامنا ہے اور تقریباً سارے مقدمات ان کیلئے انتہائی خطرناک ہیں جن میں نااہلی، قید اور جرمانے ہوسکتے ہیں۔ ابھی صرف ایک ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔ تو عمران خان ضمانت کیلئے عدالت پہنچ گئے ہیں اس ایف آئی آر کا تعلق شہباز گل کیس سے نہیں بلکہ براہ راست عمران خان سے ہے۔ ذرائع کے مطابق عمران خان اداروں اور ریاست و حکومت کے خلاف بدزبانی اور اپنے خلاف کیسز کو مذاق سمجھتے رہے۔ ذرائع کے مطابق بہت جلد اور کسی بھی وقت چند اہم گرفتاریاں ہوسکتی ہیں۔