شہزاد اکبر کے استعفے کی اصل وجہ کیا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) بی بی سی کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔۔۔پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے احتساب اور امورِ داخلہ بیرسٹر شہزاد اکبر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔پیر کو ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ انھوں نے وزیراعظم کو اپنا استعفیٰ دے دیا ہے

اور وہ نیک نیتی سے امید رکھتے ہیں کہ ملک میں وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریکِ انصاف کے منشور کے مطابق احتساب کا عمل جاری رہے گا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان تحریکِ انصاف سے منسلک رہیں گے اور بطور قانون دان بھی کام کرتے رہیں گے۔پاکستانی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر یہ خبریں گذشتہ ہفتے سے گرم تھیں کہ وزیراعظم عمران خان نے شہزاد اکبر کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے تاہم اس وقت وزیراعظم کے ترجمان برائے سیاسی روابط شہباز گل نے ان خبروں کو غلط قرار دیا تھا۔ پاکستان کے ’بدعنوان افراد‘ کا احتساب اور ’لوٹی دولت‘ ملک واپس لانا، عمران خان کے سب سے بڑے وعدوں میں شامل تھے اور حکومت میں آنے کے بعد اسی کام کے لیے بیرسٹر شہزاد اکبر کو چنا گیا۔سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ ان سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ خاص طور پر اپوزیشن کے بعض رہنماؤں جن میں شہباز شریف، سابق وزیر اعظم نواز شریف، سابق صدر آصف علی زرداری اور کئی دیگر شخصیات پر لگنے والے بدعنوانی کے الزامات کو ثابت کریں گے تاہم ان مقدمات میں انھیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ان کے زیرانتظام ’ایسٹ ریکوری یونٹ‘ بھی متنازعہ رہا اور کوئی بڑی کامیابی سامنے نہیں لا سکا۔وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ وفاقی کابینہ کے گزشتہ چار اجلاسوں کے دوران سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو وطن واپس لانے سے متعلق شہزاد اکبر کو طلب کر کے

ان سے اس معاملے پر بریفنگ لی جاتی رہی۔اہلکار کے مطابق شہزاد اکبر جن کے پاس اثاثہ جات ریکوری یونٹ کی سربراہی بھی تھی، کی اس معاملے پر بریفنگ سے وزیر اعظم سمیت وفاقی وزرا مطمئن نہیں تھے۔اہلکار کے مطابق اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم نے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کو برطانیہ کے ساتھ مجرموں کے تبادلوں کے معاہدے کو حمتی شکل دینے کی ذمہ داری دی۔وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق مجرموں کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے وزارت داخلہ میں اب تک تین اجلاس ہو چکے ہیں اور ان اجلاسوں میں شہزاد اکبر کو مدعو نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس حوالے سے وزارت داخلہ کے حکام نے ان سے بریفنگ لی۔برطانیہ کے ساتھ مجرموں کے تبادلوں کے ساتھ ہونے والے ممکنہ معاہدے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ان مجرموں کو وطن واپس بھیجا جائے، جن کو عدالتوں نے سزا دی ہوئی ہے۔اہلکار کے مطابق ان اجلاسوں میں وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شریں مزاری سمیت ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی۔خیال رہے کہ بیرسٹر شہزاد اکبر سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو ملک واپس لانے کے لیے برطانوی حکومت سے معاہدے یا کسی قسم کا تعاون حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے مگر ایسا نہ ہو سکا۔وزیراعظم کے ترجمان برائے سیاسی روابط شہباز گل کی تردید کے باوجود یہ خبریں گردش کرتی رہی ہیں کہ انھوں نے وفاقی کابینہ کے

گزشتہ اجلاس میں نواز شریف کی واپسی کو مشکل قرار دیا تھا اور وزیراعظم نے اس پر ناراضگی کا اظہار بھی کیا تھا۔مسلم لیگ نون کے عطااللہ تارڑ نے ایک نجی نیوز چینل کے پروگرام میں کہا تھا کہ شہباز شریف کو قید میں بھیجنے میں ناکامی پر شہزاد اکبر کو عہدے سے فارغ کیا جا سکتا ہے۔ سابق پراسیکیوٹر نیب عمران شفیق نے کہا کہ شہزاد اکبرسے ایک توقع یہ تھی کہ ’یہ ان ملزمان کو ملک واپس لانے میں کامیاب ہوں گے جن کے کیسز پاکستان کی عدالتوں میں ہیں۔‘’وزیراعظم کو ان سے امید تھی کہ برطانوی حکام، نیشنل کرائم ایجنسی،ایسٹ ریکوری یونٹ، ایس ایف یو اور عدالتوں میں ان معاملات کا جائزہ لیں گے اور انٹرپول سے رابطے کریں گے اور مینج کریں گے کہ پاکستان سے بھاگے لوگوں کو واپس نہیں لا سکتے تو پھر کم از کم وہ پیسہ لایا جائے جو باہر ہے۔ اسی تناظر میں انھیں بطور مشیر وزارت داخلہ کا چارج بھی دیا گیا لیکن وہ مسلسل ناکام ہوئے۔ وہ کسی ملزم کو پاکستان لا سکے نہ ہی پیسہ لا سکے۔‘عمران شفیق کہتے ہیں کہ خاص طور پر برطانوی حکومت کے ساتھ ملزمان کی واپسی یا ثبوتوں کی حوالگی پر تعاون میں پیشرفت نہ ہونا وزیراعظم ہاؤس میں ان کی بڑی ناکامی سمجھی گئی۔’اس تمام عرصے میں وہ ایسا کوئی معاہدہ بھی نہیں کرا سکے جس سے ملزمان، پیسہ یا کم از کم ثبوتوں کی منتقلی کے حوالے سے دیگر ممالک کے ساتھ تعاون کی راہ ہموار ہو سکتی۔ یہ وہ بنیادی امور تھے جہاں دیگر ممالک کے ساتھ اشتراک اور تعاون

کی فضا قائم کرنا ان کے ذمے تھا اور وہ اس میں بری طرح ناکام رہے اور اختیارات ہونے کے باوجود وہ کوئی حکمت عملی تیار کر کے کام کروانے میں ناکام ہوئے جو مایوسی کا سبب بنا۔‘وہ کہتے ہیں کہ ان کی ذمہ داری قانون میں بس اتنی ہی تھی کہ وہ ایسی مشاورت دیں کہ معاملات میں کامیابی ہو مگر یہی ایک کام ان سے نہیں لیا گیا اور نہ ہی وہ کر سکے۔عمران شفیق کہتے ہیں کہ ایسٹ ریکوری یونٹ کے قیام پر پہلے دن سے ہی سوال اٹھ رہے تھے۔عمران شفیق نے یہ بھی کہا کہ وہ اس سے اتفاق نہیں کرتے کہ شہزاد اکبر شہباز شریف کو کٹہرے میں لانے میں ناکام رہے۔’یہ ذمہ داری اداروں کی ہے کہ وہ ثبوت اکٹھے کریں، تحقیقات کریں، کیسز بنائیں، گرفتار کریں۔ شہزاد اکبر کے پاس ایسا کوئی ادارہ نہیں تھا۔ عمران خان اگر ان سے کام لینا چاہتے تھے تو قانون سازی کراتے، ادارہ بناتے اور ان کے اختیارات طے کرتے۔‘’شہزاد اکبر کا احتساب کے حوالے سے پاکستان کے قانونی پیرامیٹرز میں کوئی کردار اور اختیار نہیں تھا۔ میں نے ان کا یہی کام دیکھا کہ پریس کانفرنس کرنا، الزامات لگانا۔ شہزاد اکبر کا کام یہی تھا کہ سنی سنائی باتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور احتساب کے بیانیے کو زبانی کلامی پھیلانا۔ حکومت سنجیدہ ہوتی تو انھیں قانونی کردار دیتی۔‘بی بی سی نے شہزاد اکبر سے متعدد بار رابطہ کیا لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ شہزاد اکبر پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور 2018 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی جیت کے بعد 20 اگست

2018 کو انھیں وزیراعظم کا معاونِ خصوصی برائے احتساب مقرر کیا گیا تھا۔ستمبر 2018 میں انھیں بیرونِ ملک اثاثوں کی نشاندہی اور حصول کے لیے قائم کردہ ایسٹ ریکوری یونٹ کا سربراہ بنا دیا گیا تھا جبکہ جولائی 2020 میں انھیں وزیراعظم کا مشیر مقرر کیا گیا تھا اور انھیں وزیر اعظم عمران خان کے احتساب کے دعوے پر عملدرآمد کی کوششوں کا سرخیل سمجھا جاتا تھا۔ اپنے دور میں ان کی زیادہ توجہ اپوزیشن بالخصوص شریف خاندان کے خلاف معاملات پر رہی جن پر وہ آئے روز پریس کانفرنسیں بھی کرتے نظر آتے تھے۔شہزاد اکبر نے یہ عہدہ سنبھالنے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں دعوی کیا تھا کہ وہ ’قومی خزانہ لوٹنے والے 100 بڑے مگرمچھوں کی نشاندہی کر چکے ہیں اور جلد ہی منی لانڈرنگ کا پیسہ واپس لایا جائے گا‘۔انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ سوئس اکاؤنٹس میں پاکستانیوں کے تقریباً 280 ارب ڈالرز موجود ہیں جن کی واپسی کو ممکن بنایا جائے گا۔ شہزاد اکبر اس کے علاوہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو پاکستان واپس لانے کی کوششوں کے دعوے بھی کرتے رہے لیکن یہ کام بھی تاحال مکمل نہیں ہو سکا۔ان کے دور کا ایک اور تنازعہ اس وقت سامنے آیا تھا جب بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض برطانیہ میں نیشنل کرائم ایجنسی سے ایک تصفیے کے نتیجے میں 19 کروڑ پاؤنڈ کی رقم واپس کرنے پر رضامند ہوئے تھے۔ نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق یہ پیسہ حکومت پاکستان کو واپس کیا جانا تھا لیکن ملک ریاض کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ یہ رقم سپریم کورٹ کو بحریہ ٹاؤن کی جانب سے واجب الادا رقم کی قسط کے طور پر جمع کرائی گئی ہے۔اس سوال پر کہ یہ رقم بحریہ ٹاؤن کراچی کے مقدمے میں ملک ریاض پر واجب الادا رقم کی مد میں سپریم کورٹ کو کیسے منتقل کی جا سکتی ہے، بیرسٹر شہزاد اکبر نے سوالات کے جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ رازداری کے حلف نامے کے تحت وہ اس کی مزید تفصیلات بتانے سے قاصر ہیں۔ (بشکریہ : بی بی سی )

Comments are closed.