شیخ رشید تحریک انصاف اور عمران خان کا کیا نقصان کر رہے ہیں ؟

لاہور (ویب ڈیسک) میں اکثر سوچتا ہوں کہ شیخ رشید احمد اپنی وزارت پر روزانہ کتنی توجہ دیتے ہوں گے؟ سارا دن تو ان کا اس اُدھیڑ بن میں گزر جاتا ہے کہ سیاست کیسے چمکانی ہے، چینلوں پر کیسے رونمائی کرانی ہے؟جو بندہ اس خبط میں مبتلا ہو جائے کہ ٹی وی چینلز پر

نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ میری ریٹنگ سب سے زیادہ ہے، وہ اور کسی کام کا نہیں رہتا۔ محکمہ ریلوے اس وقت خسارے اور معیار کے حوالے سے اپنے بدترین دور سے گزر رہا ہے، مگر ان سے کون پوچھے، وہ تو سیاست کے منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں اور جانتے ہیں کہ اپنی طرف توجہ کیسے مبذول کرانی اور اپنے اعمال سے کیسے ہٹانی ہے؟ اب وہ فوج اور وزیر اعظم کے سب سے بڑے سپوکس مین بنے ہوئے ہیں، انہیں ڈر کس بات کا ہے۔ریلوے میں چاہے کرپشن کے ریکارڈ ٹوٹ جائیں یا اس کی سروس زوال کی آخری حدوں کو چھونے لگے، کپتان نے ان سے کوئی سوال کرنا ہے اور نہ جواب مانگنا ہے، گویا اس وقت شیخ رشید احمد کی پانچوں گھی میں ہیں۔ وہ وزیر اعظم اور چیف آف آرمی سٹاف کی گڈ بکس میں ہیں، اپوزیشن پر تابڑ توڑ حملے کر رہے ہیں۔ ریلوے میں سیاہ و سفید کے مالک ہیں، وہاں کیا گل کھلائے جا رہے ہیں، کسی کو یہ جرأت نہیں کہ ان سے پوچھے…… ایسے آئیڈیل حالات تو کابینہ کے کسی وزیر کو بھی حاصل نہیں۔ سنا ہے کپتان گاہے بہ گاہے وزراء کی کلاس لیتے رہتے ہیں،لیکن شیخ صاحب کو غالباً کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔کپتان سمیت تحریک انصاف والے شاید سمجھ رہے ہوں کہ شیخ رشید احمد ان کی   لڑائی تن تنہا  لڑ رہا ہے اور شریف خاندان کو انہوں نے آڑے ہاتھوں لیا ہوا ہے، جبکہ میرا خیال اس سے مختلف ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں شیخ رشید احمد ایک ایسی گیم کھیل رہے ہیں

جو اُلٹا حکومت کے گلے پڑ سکتی ہے، وہ ایک ایسی آگ بھڑکا رہے ہیں جو بالآخر سب کچھ جلا کے راکھ بنا سکتی ہے۔ اب یہ بات کوئی کہنے کی ہے کہ مریم نواز نے ان پراٹیک کرنا بند نہ کئے تو وہ ایسے رازوں سے پردہ ہٹائیں گے کہ زمین و آسمان ہل جائیں گے۔ ایک خاتون کے جواب میں اتنا اشتعال پہلے کبھی دیکھا نہ سنا۔ ماحول کو گرمانے کی اس مشق کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ حکومت زیر بار ہو جائے گی۔ ماحول کو ٹھنڈا رکھنے میں ہی حکومت کی عافیت ہے، کیونکہ اپوزیشن تو چاہتی ہی یہ ہے کہ سیاسی ماحول گرم ہو، انتشار بڑھے اور حکومت اس کا شکار ہو جائے۔ آسان لفظوں میں یہ کہنا چاہئے کہ  شیخ رشید احمد جلتی پر تیل ڈال رہے ہیں …… ان کے مقاصد کیا ہیں اور وہ کس کے ایماء پر ایسا کر رہے ہیں؟ یہ بات ابھی راز ہے، لیکن اتنا یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ  شیخ رشید احمد کی وجہ سے اپوزیشن کی تحریک کو طاقت مل رہی ہے۔ اس میں جان پڑتی جا رہی ہے۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ ان کی باتوں سے مرعوب ہو کر مریم نواز اپنا بیانیہ چھوڑ دیں۔ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ اکیلے  شیخ رشید احمد اپوزیشن کو چاروں شانے چت کر دیں؟ ابھی تو میچ اس وقت پڑے گا جب مریم نواز گوجرانوالہ کے بعد راولپنڈی میں جلسہ کریں گی۔ تب اندازہ ہو گا کہ شیخ رشید احمد نے اپنے بیانات اور بڑھک بازی سے جو ماحول بنایا تھا، اس کا اپوزیشن کی تحریک پر کیا اثر ہوا۔

ویسے تو عمران خان ایک سے بڑھ کر ایک نادان دوستوں میں گھرے ہوئے ہیں، لیکن فرزند لال حویلی نے تو ان کے گرد ایسا گھیرا ڈال رکھا ہے جس سے وہ نکلنا بھی چاہیں تو نہیں نکل سکتے۔  شیخ رشید احمد بڑی مہارت سے خود کو ایک ایسے مقام تک لے آئے ہیں، جہاں خود کپتان بھی یہ رسک نہیں لے سکتے کہ انہیں ناراض کریں، کیونکہ کچھ بعید نہیں کہ شیخ رشید احمد اگلے ہی دن کسی دوسری جماعت میں شامل ہو کر یا پھر اپنی ہی جماعت کے پلیٹ فارم سے پی ٹی آئی کا تبرا شروع کر دیں۔ اپوزیشن کی حتی الامکان یہ کوشش ہو گی کہ ملک میں بے یقینی اور سیاسی انتشار کی فضا قائم ہو۔ ابھی تک حکومت کے نادان وزیروں، مشیروں اور ”خیر خواہوں“ نے بڑی کامیابی سے اپوزیشن کی اس خواہش کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ سارے وزراء اس طرح نوازشریف کے خلاف میدان میں کود پڑے ہیں، جیسے شادی بیاہ میں لوگ کھانے پر ٹوٹتے ہیں، جس کے منہ میں جو آ رہا ہے،بولے جا رہا ہے بلا سوچے بلا سمجھے، یہ دیکھے بغیر کہ اس کی وجہ سے حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے یا کم ہو رہا ہے؟ لاہور میں جلسہ ہوا تو سب اسے جلسی ثابت کرنے میں جت گئے۔ ابتداء  شیخ رشید احمد نے کی، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب تحریکیں چلتی ہیں تو ان کا آغاز اسی طرح ہوتا ہے۔ پہلے توپوں کا رخ صرف نواز شریف کی طرف تھا، مولانا فضل الرحمن کو پی ڈی ایم کی صدارت دی گئی ہے کہ وہ بھی نشانے پر آ گئے ہیں۔ انہیں بھی ریاست مخالف اور بھارتی بیانیہ کی تائید کرنے والا قرار دیا جائے گا۔وزراء کو دیکھو تو یوں لگتا ہے کہ ان  میں جگت بازی کا مقابلہ جاری ہے۔اب پی ڈی ایم کو اندھوں کا اصطبل کہنے سے کیا یہ مخالفانہ تحریک دب جائے گی؟ شیخ رشید احمد نے گویا تمام وزراء کو اپنے پیچھے لگا لیا ہے۔ جس طرح وہ روزانہ بڑھکوں اور جگتوں کی نئی گنگا بہاتے ہیں، انہی کی دیکھا دیکھی وفاقی و صوبائی وزراء بھی روزانہ سلطان راہی اور مصطفٰے قریشی کی پرانی فلمیں دیکھ کر میدان میں آ جاتے ہیں، مجھے لگتا ہے ان سب کا مقصد اپوزیشن کی تحریک کو دبانا نہیں،بلکہ وزیراعظم عمران خان کو خوش کرنا ہے۔ شاہ سے زیادہ شاہ کو وفاداری دکھانی ہے، حالانکہ ایسے بیانات اور مہم جوئی سے اپوزیشن کا توکچھ نہیں جاتا، حکومت دباؤ میں آ جاتی ہے۔کاش کوئی کپتان کو سمجھانے والا ہو۔ وزراء نے مچھلی منڈی کی طرح اپنی بے تکی مہمات سے جو ہڑبونگ مچا دی ہے،وہ خود ان کے لئے مناسب نہیں، اس طرح اپوزیشن کی تحریکیں نہیں دبتیں،بلکہ مزید اُبھرتی ہیں، مگر لگتا ہے کپتان کے گرد نادان دوستوں کا گھیرا اس قدر تنگ ہے کہ تصویر کا دوسرا رخ ان کی نظروں سے بالکل اوجھل ہو گیا ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *