شیخ رشید نے سب بتا دیا

لاہور (ویب ڈیسک) کل راولپنڈی کے ایک اسپتال میں انتقال کر جانیوالے سابق وزیراعظم پاکستان میر ظفراللہ خان جمالی جب یکم اکتوبر 2003 کو بطور وزیر اعظم امریکہ کے دورے پر گئے، تو وہاں انھوں نے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش اور سیکریٹری دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ سے ملاقاتیں کیں۔ ان کا یہ دورہ آگے چل کر

ان کی وزارت عظمی کے خاتمے کی ایک بڑی وجہ بنا کیونکہ اس دورے سے اس وقت کے فوجی صدر پرویز مشرف شدید ناراض ہوگئے ۔ اس دورے میں موجودہ وفاقی وزیر شیخ رشید احمد بطور وفاقی وزیر اطلاعات ان کے ہمراہ تھے وہ بتاتے ہیں کہ رمز فیلڈ کے ساتھ ملاقات میں جمالی نے کہا کہ میں نے اکیلے میں بات کرنی ہے اس طرح تقریباً تیس سے چالیس منٹ رمز فیلڈ اور جمالی کی ون ٹو ون ملاقات ہوئی۔ ‘ابھی میں باہر بیٹھا ہوا تھا کہ ڈی جی آئی ایس آئی جنرل احسان کا فون آیا کہ شیخ رشید آپ کہاں ہیں؟ میں نے بتایا کہ میں میٹنگ کے باہر بیٹھا ہوں اور جمالی صاحب کا انتظار کر رہا ہوں انھوں نے پوچھا کہ اندر میٹنگ میں جمالی صاحب کے ساتھ اور کون ہے؟ خارجہ سیکریٹری اور وزیر خارجہ ہیں۔ تو میں نے کہا کہ کوئی نہیں حالانکہ سفیر نے اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ اگر وزیر خارجہ بھی ساتھ ہوں تو بہتر ہے، لیکن جمالی صاحب نے ون ٹو ون ملاقات کو ہی ترجیح دی۔شیخ رشید کے مطابق دو تین منٹ منٹ ہی گزرے تھے کہ جنرل پرویز مشرف کا بھی فون آ گیا اور پرویز مشرف نے کہا کہ ”شیخو’ کدھر ہو، تو میں نے کہا جمالی صاحب کے ساتھ۔ انھوں نے کہا کہ جمالی صاحب کدھر ہیں تو میں نے کہا کہ رمز فیلڈ کے ساتھ۔ پھر پرویز مشرف نے پوچھا کہ رمز فیلڈ کے ساتھ اور کون ہے تو میں نے کہا کہ اور کوئی نہیں ہے تو انھوں نے کہا کہ خورشید قصوری اور سفیر کہاں ہیں تو میں نے بتایا کہ وہ دونوں میرے ساتھ کھڑے ہیں، تو انھوں نے کہا کہ ‘آل رائٹ، اوکے’ ۔ ایک دم میں کھنکا اور سمجھ گیا۔’ شیخ رشید کا خیال ہے کہ چوہدری برادران نے جمالی کو اس لیے چنا تھا کہ ان کے خیال میں ایک چھوٹے صوبے کا وزیر اعظم “پر” نہیں نکال سکے گا اور جس طرح چوہدری کہیں گے ویسے ہی ہو گا لیکن ایسا نہ ہوا۔ جمالی وزیراعظم نظر آنا شروع ہو چکے تھے اور امریکی دورے کے بعد تو ان کا خیال تھا کہ وہ بہترین پوزیشن میں ہیں۔ وہ مسلم لیگ ق کا کوئی عہدہ لینا چاہتے تھے اور چوہدری کسی صورت میں دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.