شیخ رشید کا حیران کن موقف

کراچی ( ویب ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ فوج دوسری پارٹیوں سے رابطہ کرتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں، ادارے پاکستان کی بہتری کیلئے ذہن بناتے ہیں اور جمہوریت کے ساتھ ہیں، شہباز شریف کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ نے وزارت داخلہ کو کوئی نوٹس نہیں دیا،

حدیبیہ پیپر کے حوالے سے قانونی ماہرین سے بات ہوئی ہے کیس ری اوپن کرنے میں کتنے دن لگتے ہیں اس پر کچھ نہیں کہہ سکتا۔ شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالے جانے سے متعلق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ تین چیزوں کا ذکر کروں گا، ایک ہے پی این آئی ایل اس میں ایف آئی اے لوگوں کو ڈالتی ہے دوسری چیز ہے بلیک لسٹ اس کا تعلق پاسپورٹ کے ادارے سے ہے ، تیسرا چیز ہے ای سی ایل جس میں کابینہ کمیٹی یعنی وزیر قانون اور وزارت داخلہ تو ابھی تک شہباز شریف کا نام پی این آئی ایل میں ہے، بلیک لسٹ میں ان کا نام کبھی بھی نہیں تھا اور کیبنٹ کو سرکولیشن کے لیے جو سمری بھیجی گئی ہے وہ کیبنٹ سے کل یا پرسوں آجائیگی، اگر ای سی ایل میں کیبنٹ کی سمری آگئی تو اس کا نوٹیفکیشن جاری کر دی گے اور پریس کانفرنس کر کے بتا دیں گے کہ آپ عدالت میں جائیں اور پندرہ دن کی ریو کی بھی اجازت ہوگی پندرہ دن کے اندر وزارت داخلہ میں شہباز شریف اپیل کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حدیبیہ پیپر کے حوالے سے قانونی ماہرین سے بات ہوئی ہے کیس ری اوپن ہونے میں کتنے دن لگتے ہیں اس پر کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ای سی ایل میرے انڈر میں ہے اگر سمری آئی ہوئی ہوگی تو اس کا نوٹیفکیشن جاری کر دینگے، 14,15 ملزم ہیں جس میں چار ملزم سلطانی گواہ بن چکے ہیں ۔ انکے خاندان کے پانچ آدمی مفرور ہیں اور یہ بڑا حساس کیس ہے اور کورٹ میں ہے ٹرائل شروع ہوچکا ہے ایسی صورتحال میں بھاگنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ہائیکورٹ کے فیصلے خلاف اپیل کریں گے قانونی فیصلہ تو سپریم کورٹ ہی کرسکتی ہے۔ کورٹ کا احترام اپنی جگہ پر موجود ہے لیکن یہ فیصلہ تاریخ ایک ایسا فیصلہ ہے کہ جس میں ایک ہی دن میں کیس لگااور پہلے سے ٹکٹ بک تھا اور پی این آئی ایل میں لسٹ کلیئر نہیں ہوئی تھی ، اور میرا خیال ہے جو فیصلہ ہے وہ بلیک لسٹ سے متعلق ہے اور اس میں ان کا نام ہے ہی نہیں ۔ شیخ رشید نے بجٹ پاس کروانے سے متعلق کہا کہ میرا خیال اور اطلاعات ہیں کہ جہانگیر ترین وغیرہ ووٹ دینگے چھوٹی موٹی بات چلتی رہتی ہے لیکن ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ عمران خان کو ووٹ نہ دیں یہاں یہ واضح کردوں کہ نہ میری اس حوالے سے عمران خان سے بات ہوئی ہے نہ ہی جہانگیر ترین سے ہوئی ہے۔

Comments are closed.