شیخ رشید کچھ بھی کہہ دیں عمران خان انکا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ ۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔سوال یہ ہے کہ شیخ رشید صاحب کو یہ نرگسیت کیسے لاحق ہو گئی کہ وہ کچھ بھی کہہ دیں انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا؟ شیخ رشید وہی ہیں جنہوں نے عمران خان کی نجی زندگی پر سنگین اٹیک تک کیے

اور عمران خان کو ٹی وی شو میں کہنا پڑ گیا کہ اللہ انہیں شیخ رشید جیسا سیاستدان نہ بنائے۔ وہ شیخ رشید کو چپڑاسی تک نہیں رکھیں گے۔ سیانے کہتے ہیں: بندے کو بڑا بول نہیں بولنا چاہیے‘ پلٹ کر منہ پر پڑتا ہے۔ وہی شیخ رشید ان کی حکومت میں وزیر داخلہ ہیں اور دھڑلے سے بیان دے رہے ہیں کہ ہم نے سوچا کچھ گیس سرکاری ملازموں پر ٹیسٹ کی جائے۔شیخ رشید ان چند سیاستدانوں میں سے ہیں جنہوں نے صرف ایک سیٹ کی بنیاد پر اپنی سیاست چمکائی ہوئی ہے۔ اس سے پہلے ڈاکٹر شیر افگن نیازی کا نام ذہن میں آتا ہے جو اکیلی سیٹ پر جیت کر آتے تھے اور ان کے بغیر اسمبلی نہیں چل سکتی تھی۔ شیخ رشید اور شیر افگن کے فائر ورکس سے بچنے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ انہیں حکومت میں شامل کر لیا جائے۔ یہ بات بینظیر بھٹو کو سمجھ آگئی اور انہوں نے شیر افگن نیازی کو اپنی حکومت میں وزیر بنا کر رکھا۔ بعض کو آپ اس وجہ سے وزیر بناتے ہیں کہ وہ اپوزیشن میں رہے تو جینا حرام کر دیں گے۔ مصطفی کھر کے بارے میں بھی یہی سوچ کر بینظیر بھٹو نے انہیں وزیر بنایا تھا۔ جب کسی نے کہا کہ محترمہ یہ وہی کھر ہیں جنہوں نے آپکی پہلی حکومت کے خلاف مصطفی جتوئی کے ساتھ مل کر سازش کی تھی اور آپ ہیں کہ انہیں وزیر بنا دیا۔ کہا جاتا ہے کہ بینظیربھٹو نے اعتراض کرنے والے سے پوچھا: اب وہی غلام مصطفی کھر کابینہ میں بیٹھ کر مجھے کیا کہتا ہے؟ یس پرائم منسٹر۔

شیخ رشید بھی سیاستدانوں کے اسی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ شیخ رشید نے بڑی کوشش کی تھی کہ وہ دوبارہ نواز شریف کے ساتھ مل جائیں۔2013 ء کے الیکشن کے بعد نواز شریف کو وزیراعظم کا ووٹ بھی دیا کہ شاید نظرِ کرم ہو جائے لیکن نواز شریف اس ” سمجھداری‘‘ کا مظاہرہ نہ کر سکے جو بینظیر بھٹو نے کی تھی۔ نواز شریف اس زعم میں رہے کہ شیخ رشید کو دبا لیں گے۔ وہی شیخ رشید نواز شریف سے مایوس ہوئے تو عمران خان نے انہیں جھپٹ لیا۔ خان صاحب کو بھی شیخ صاحب کی صلاحیتیوں کا علم تھا کہ یہ ون مین آرمی کیسے کسی کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھ سکتی ہے۔ یوں شیخ رشید نے ٹی وی چینلز سنبھال لیے جہاں انہوں نے روز شریف حکومت کے خلاف بولنا شروع کیا تو خان صاحب نے جلسے سنبھال لیے۔ خان صاحب نے بھی بینظیر بھٹو والا راستہ اپنایا کہ جو آپ کو برا بھلا کہتے ہیں انہیں ساتھ ملا لو اور انہیں اپنے بڑے مخالفوں پر استعمال کرو۔ یوں عمران خان نے شیخ رشید کو استعمال کیا تو شیخ صاحب نے خان صاحب کو تاکہ وہ نواز شریف سے بدلے لے سکیں۔قدرت کا کرشمہ دیکھیں ‘انہی نواز شریف کا پاسپورٹ شیخ رشید نے renew کرنا ہے جن سے نواز شریف نے وزیراعظم بننے کے بعد پارلیمنٹ میں سیدھی طرح ہاتھ بھی نہیں ملایا تھا۔ اس لیے آج شیخ رشید کا یہ کہنا بنتا ہے کہ سوچا کچھ گیس سرکاری ملازمین پر ٹیسٹ کر لی جائے۔شیخ رشید صاحب کے اس بیان سے ایک جرمن کہاوت یاد آئی کہ بیوقوف بھیڑیں اپنا قصائی خود چنتی ہیں۔

Comments are closed.