شیدے سبزی والے کا وزیراعظم عمران خان کو چیلنج

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔شیدے ریڑھی والے نے کل تازہ ترین سوال یہ پوچھا کہ اگر عمران خان جیسا تبدیلی لانے کا دعویدار حکمران بھی کوئی تبدیلی نہیں لا سکا تو پھر ملک میں تبدیلی کیسے آئے گی؟ مَیں نے پوچھا وہ کس تبدیلی کی بات کر رہا ہے،

کہنے لگا ”بابو جی اب آپ بھی یہ پوچھیں گے، آپ تو خود اپنے کپتان کے بہت بڑے حمایتی بنے رہے ہیں“۔ مجھے لگا وہ شرمندہ کر رہا ہے۔ میں نے کہا شیدے بھائی عمران خان کوشش تو کر رہا ہے۔ کم از کم بات بات پر وزیراعظم یہ تو فرماتے ہیں کہ نظام تبدیل کئے بغیر عوام کی زندگی نہیں بدل سکتی اور وہ کیا کریں۔ اس پر شیدا پھٹ پڑا۔ کیا صرف کہہ دینے سے تبدیلی آ جائے گی، کیا عوام کو کچھ دیئے بغیر مطمئن کیا جا سکتا ہے، مان جائیں کہ عمران خان نے بھی صرف باتیں ہی کی ہیں، عملی طور پر عوام کے لئے کچھ نہیں کیا۔شیدے کا جلال بتا رہا تھا کہ وہ میری چکنی چپڑی باتوں سے رام ہونے والا نہیں، مَیں نے چھکا لگاتے ہوئے کہا، شیدے تم بھی تو عوام پر ظلم ڈھانے میں شریک ہو، ریڑھی پر سبزی اور پھل مہنگے بیچتے ہو۔ زیادہ سے زیادہ منافع کمانا چاہتے ہو۔ تم سدھرو گے تو حالات سدھریں گے ناں۔ شیدا ایک لمحے کے لئے سکتے میں آیا، پھر اوسان بحال کرکے کہنے لگا، بابو جی آپ بھی ظالموں کے ساتھی بن گئے۔ کیا ایک ریڑھی والا مہنگائی کر سکتا ہے۔ پکڑ دھکڑ بھی ہمیشہ ریڑھی والوں کی ہوتی ہے، چھوٹے پرچون فروش قابو میں آتے ہیں، انہیں کوئی نہیں پوچھتا جو منڈیوں میں بیٹھے ہیں، پیچھے سے مال مہنگا ملتا ہے تو ریڑھی پر مہنگا ہوتا ہے، ہماری دیہاڑی تو وہی جو چار سو روپے ہوتی ہے۔ اس لئے آپ مجھے الزام نہ دیں، ویسے بھی میں اس تبدیلی کی بات نہیں کر رہا۔

”تو پھر تم کس تبدیلی کی بات کر رہے ہو؟“ مَیں نے جواباً پوچھا۔ بابو جی کیوں سورج کو چراغ دکھانے والی بات کر رہے ہیں، آپ تو روزانہ کالم لکھتے ہیں پھر بھی پتہ نہیں؟میں چاہتا تھا آج شیدا پھٹ پڑے، تاکہ یہ تو معلوم ہو کہ عام پاکستانی کیا سوچ رہا ہے، مَیں نے کہا ”شیدے تم بتاؤ، کیا دل میں ہے تمہارے؟“…… اس نے حیرت زدہ آنکھوں سے میری طرف دیکھااور کہا۔ بابو جی وہ نئے پاکستان کا خواب؟ ”کیا خواب؟“ وہی خواب جو میرے کپتان نے مجھے دکھایا تھا۔ ایک ایسا پاکستان جس میں قانون سب کے لئے برابر ہوگا، کوئی طاقتور کسی کمزور پر ظلم نہیں ڈھا سکے گا، ریاست ہر کمزور کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ کیا ایسا ہوا؟ مَیں نے کہا شیدے ایسا ہو تو رہا ہے۔ جہاں کوئی ظلم ہوتا ہے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ اس کا نوٹس لیتے ہیں۔ مجھے یوں لگا کہ شیدے سے آج مقابلہ کرنا آسان نہیں، وہ کیل کانٹے سے لیس ہو کر حملے کر رہا تھا۔ پھر وہ ایک اور موضوع چھیڑ بیٹھا۔ کہنے لگا بابوجی وزیراعظم یہ کہتے ہیں کہ پچھلی حکومتوں نے لوٹ مار کی، قرضوں پر قرضے لئے، خزانہ خالی چھوڑا اس لئے مہنگائی بڑھی اور ہم عوام کو کچھ نہیں دے پا رہے۔ شاید وہ ٹھیک کہتے ہوں، مگر بابو جی یہ تو بتائیں کیا تھانوں کو ٹھیک کرنے کے لئے بھی کپتان پر پچھلی حکومتیں پابندی لگا گئی ہیں۔ کیا دفتروں میں جو رشوت کا بازار گرم ہے، وہ بھی پچھلی حکومتوں کا کیا دھرا ہے۔

کیا وزیراعظم عمران خان جس ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں،اس میں ایسا ظلم ہوتا ہے، جیسا پاکستان میں غریبوں پر بااثر افراد، پولیس اور پٹواری کرتے ہیں۔ نئے پاکستان میں تو انصاف کی سہل فراہمی کے دعوے کئے گئے تھے، لیکن انصاف تو آج بھی صرف پیسے والوں کو ملتا ہے۔ اب ہزارہ ڈویژن والے اپنے مانسہرہ کے نوجوانوں کا انصاف مانگ رہے ہیں، مگر ان کے پاس تو اتنی سکت نہیں کہ کشمالہ طارق کے خلاف کوئی تگڑا وکیل کھڑا کر سکیں،مَیں شیدے کی باتوں کا ہمیشہ قائل رہا ہوں۔ اس میں ایک عام پاکستانی کی بصیرت موجود ہے۔ وہ میرے نزدیک عام پاکستانی کی سوچ کا بیرومیٹر ہے۔ وہ عام پاکستانی جسے حکمران ہمیشہ استعمال کرتے ہیں اور پھر بھلا دیتے ہیں، جس طرح ماضی کی حکومتوں نے بھلایا اور جیسے تبدیلی کا دعویٰ کرنے والوں نے بھلا دیاہے۔ یہ عام پاکستانی حکومت کے معاشی جبر کا شکار تو ہے ہی، لیکن جس جبر نے اسے زیادہ اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے وہ یہ احساس ہے کہ پاکستان میں اس کی حیثیت دوسرے درجے کے شہری جیسی ہے۔ وہ آج بھی قدم قدم پر اس امتیازی سلوک کا شکار ہوتا ہے، جو ہمارے ہاں ایلیٹ کلاس نے اپنی حاکمیت جمانے کے لئے تراش رکھا ہے۔ تھانوں میں آج بھی مظلوم کو زمین پر بٹھایا جاتا ہے اور طاقتور ظالم کو کرسی پیش کی جاتی ہے۔ سرکاری دفاتر میں آج بھی صرف رشوت یا سفارش سے کام ہوتے ہیں۔ شیدے ریڑھی والے جیسے دھکے کھاتے ہیں، اس ظالمانہ نظام کو تبدیل کرنے سے کپتان کو کس نے روک رکھا ہے؟

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *