شیر کو ہٹا کر جنگل کا اقتدار سنبھالنے والا ٹائیگر سب کچھ برباد کر بیٹھا ،

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محمد عرفان صدیقی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔جنگل میں شیر کی حکمرانی تھی، سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا، لیکن شیر پھر بھی مطمئن نہیں تھا کیونکہ اسے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جنگل میں اس کی حکمرانی میں کوئی نہ کوئی کمی ہے اور کوئی ہے جو اس کے

حق بادشاہت میں روڑے اٹکانے کی کوشش کرتا ہے، وہ سمجھتا تھاکہ جنگل میں کچھ سرکش قبائل ایسے بھی ہیں جو اس کے حکم کی بجاآوری کو ضروری نہیں سمجھتے یہی بات شیر کی بادشاہوں والی انا کو ٹھیس پہنچارہی تھی لہٰذا شیر بہادر نے اپنے مشیروں سے اپنے دل کی بے چینی کا ذکر کیا اور اس کے بعد اس کے مشیروں نے شیر بہادر کو جنگل میں اپنی بادشاہت کی گرفت مضبوط کرنے کے لئے طاقت کے استعمال سمیت کئی ایسے مشورے دیے جس سے شیر کو یقین ہوگیا کہ ان مشوروں پر عمل کرکے اس کی بادشاہت نہ صرف مضبوط ہوسکے گی بلکہ مستقبل میں اس کی بادشاہت کے خلاف کوئی بغاوت کا سوچ بھی نہیں سکے گا، اپنے مشیران خاص کے مشوروں پر عمل درآمد شروع کرتے ہی شیر کو احساس ہوگیا تھاکہ جنگل کے سرکش قبائل کو اپنی اطاعت پر بزور طاقت رضامند کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے بلکہ الٹا شیر کی بادشاہت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے لیکن اب دیر ہوچکی تھی، شیر کی بے جا سختی نے جنگل میں ہی رہائش پذیرٹائیگر کو اس کے مقابلے پر لاکر کھڑا کیاتھا اور اہم بات یہ تھی کہ جنگل کے باسیوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے ٹائیگر کو اپنا مشکل کشا تصور کرلیا تھا، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، شیر جنگل میں اپنی بڑھتی ہوئی مخالفت کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو پارہا تھا جبکہ جنگل میں ٹائیگرکی مقبولیت ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جارہی تھی شیر اور اس کے مشیروں نے جنگل کے باسیوں کو سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ

ٹائیگر مشکل کشا کیسے ہوسکتا ہے اسے تو بادشاہت کا کوئی تجربہ ہی نہیں ہے، اسے جنگل کے مسائل کا کوئی ادراک نہیں ہے، تم سب کی مشکلات بڑھ جائیں گی لیکن جانوروں کی بہت بڑی تعداد اب شیر کی مخالف ہوچکی تھی اسی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے ٹائیگر نے شیر سے بادشاہت چھوڑنے اور جنگل سے نکل جانے کا مطالبہ کردیا، شیر کے انکار پر شیر اور ٹائیگرکے درمیان ایک خطرناک لڑائی ہوئی جس میں جنگل کے کچھ طاقتو ر کرداروں نے لڑائی کے اصول و ضوابط سے ہٹ کر ٹائیگر کا ساتھ دیا جس کے سبب شیر زخمی ہو ا، باوجود اس کے کہ شیر کے وفادار ساتھی لڑائی جاری رکھنا چاہتے تھے لیکن شیر نے جنگل اور یہاں کے باسیوں کی بقاہ وسلامتی کو مقدم رکھتے ہوئے دکھی دل کے ساتھ جنگل چھوڑ جانے کا فیصلہ کیا، اب بادشاہت ٹائیگر کے پاس آچکی تھی، جسے بہت سے چیلنجز درپیش تھے سب سے پہلے اسے جنگل کے باسیوں کو یقین دلانا تھا کہ جنگل کے باسیوں کو درپیش تمام مسائل کا ذمہ دار شیر تھا جبکہ اب اس کے پاس جنگل کے باسیوں کو درپیش تمام مسائل کا حل موجود ہے، پھر اسے شیر کے وفادار ساتھیوں سے مقابلہ بھی کرنا تھا جو شیر کو زخمی ہونے اور اسے جنگل بدر کرنےکا بدلہ لینا اپنا فرضِ منصبی سمجھتے تھے، لیکن شیر کی جنگل میں عدم موجودگی کے سبب ان کے اندر بھی قیادت کا فقدان پیدا ہوچکا تھا شیر کے کئی ساتھی اب خود کو شیر سمجھنے لگے تھے اور شیر کی جگہ لینا چاہتے تھے

لیکن شیرکے تمام ساتھی یہ بھی جانتے تھے کہ شیر کی جگہ لینا کسی کےلئے ممکن نہیں کیونکہ شیر زخمی ضرورہوا تھا لیکن زندہ تھا اور جنگل کی رعایا مستقبل میں کبھی شیر کے علاوہ کسی دوسرے کوبادشاہ کے روپ میں دیکھنے کو تیار نہ ہوتی، دوسری جانب ٹائیگر نے اپنے مشیروں کی مدد سے بادشاہت کے حصول کے لئے ایک ٹیم تشکیل دی جس کا کام صرف جنگل کے باسیوں کو یہ یقین دلانا تھا کہ ان کے ہر مسئلے کا ذمہ دار سابق بادشاہ یعنی شیر ہے، جبکہ ایک اور ٹیم تشکیل دی جس کا کام جنگل کے باسیوں کو خوراک کی باآسانی فراہمی کو یقین بنانا تھا، جبکہ بھیڑیے کی قیادت میں ٹائیگر کی ٹیم شیر کے ساتھیوں کو ختم کرنے کے لئے تیار کی گئی، لیکن ٹاٹیگر کی تینوں ٹیمیں اپنی ناتجربہ کاری کے سبب بری طرح ناکام ہوچکی تھیں، صورتحال یہ تھی کہ نہ رعایا کو کھانا مل رہا تھا نہ ہی انکے دیگر مسائل حل ہورہے تھے، رعایا بھوک سے نڈھال تھی، کھانے کوکچھ نہیں تھا، پانی کے کنویں خشک ہوچکے تھے، رعایا محسوس کرنے لگی تھی کہ شیر کا دور، ان کےلئے بہتر تھا، لیکن شیر اب بھی زخمی تھا اور فوری طورپر واپس آنے کو تیار نہ تھا لہٰذاجنگل کی حالت اب روز بروز خراب ہورہی ہے، سب کا بھوک سے برا حال ہے، ٹائیگر پوری کوشش کے باوجود جنگل کے حالات بہتر کرنے سے قاصر ہے، رعایا کا دبائو روز بروز بڑھتا جارہا ہے شیر بھی باہر بیٹھ کر مناسب وقت کا انتظار کررہا ہے، جنگل کی صورتحال اب تیزی سے تبدیلی کا شکار ہے لیکن آگے کیا ہوگا آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن ٹائیگر کے لئے کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔

Comments are closed.