صابر شاکر نے تازہ ترین سیاسی تبصرے میں پوری قوم کو چونکا دیا

لاہور (ویب ڈیسک) قومی و ملکی سیاست کو سمجھنا زیادہ مشکل نہیں ہے۔ ستر سالہ تاریخ میں ہر طرح کا تجربہ کیا جا چکا ہے۔ سیاسی کلچر بہت ہی سادہ اور آسان ہے۔ یہ دیکھیں کہ سیاسی جماعتوں کا کردار اور رویہ اقتدار میں کیسا ہوتا ہے اور یہ جماعتیں اپوزیشن میں ہوں تو

نامور کالم نگار صابر شاکر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ان کے رویے کیسے ہوتے ہیں۔ حکومت کب اور کیسے گرتی ہے اور اگر اسے قبل از وقت گرانا مقصود ہو تو اس کے لوازمات کیا ہیں؟ مولانا کے پہلے دھرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہیں خالی ہاتھ جانا پڑا تھا‘ اب اپوزیشن زیادہ قوت کے ساتھ اٹیک کرنے کے موڈ میں ہے۔ پی ڈی ایم تشکیل تو پا چکی ہے لیکن اس کی تشکیل کیلئے سب کو جو پاپڑ بیلنے پڑے‘ وہ ہمارے سامنے ہے۔ پی ڈی ایم کے اہداف کے سلسلے میں دونوں بڑے خاندانوں (زرداری اور شریف) کے اہداف اب تک ایک نہیں ہیں۔ زرداری آج بھی دور کھڑے صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ شریف خاندان کے اہداف واضح ہیں کہ سینیٹ کے الیکشن سے پہلے پہلے ہر صورت میں حکومت گرانا ہے اور اس ہدف میں مولانا ان کے ہمنوا ہیں کیونکہ سینیٹ انتخابات کے نتیجے میں نون لیگ اور مولانا کی پارلیمانی قوت نہ ہونے کے برابر ہو جائے گی اور پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جائیں گی‘ اس لیے نون لیگ سینیٹ کے الیکشن کو متنازعہ بنانے کیلئے استعفوں کا آپشن بھی استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گی‘ یہ الگ بات کہ نون لیگ کے کچھ ارکان مستعفی ہونے سے انکار کریں گے یا نہیں۔ اس سیاسی ہلچل کے نتیجے میں اگر خدانخواستہ مارشل لا بھی لگے‘ جس کا اندیشہ بہت کم ہے‘ تو بھی شریف خاندان کو فائدہ ہی ہوگا‘ لیکن معاملات حد سے گزر گئے تو پھر کُچھ بھی ہو سکتا ہے‘ جس کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہئے۔ پیپلز پارٹی کا کردار اور فیصلے بڑے اہم ہوں گے کیونکہ آج سے پہلے شریف خاندان نے بھٹو اور زرداری خاندان سے کبھی بھی وفا نہیں کی۔ اس لئے احتجاجی تحریک کی کامیابی کا انحصار سو فیصد پیپلز پارٹی پر ہوگا۔ زرداری کے تمام وارث نیب سے محفوظ ہیں اور ان کا سیاسی مستقبل روشن ہے جبکہ شریف فیملی کا سیاسی مستقبل اب تک تاریک ہے۔ پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موجودہ سیاسی سیٹ اپ کے جاری رہنے سے پی پی پی کو کوئی نقصان نہیں ہے‘ اس لیے نون لیگ اپنی سیاسی تحریک کا آغاز گوجرانوالہ سے کررہی ہے اور مولانا ان کا ساتھ دے رہے ہیں جبکہ پس پردہ رابطوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔عمران خان صاحب کو بہرحال کسی ایک جماعت کے ساتھ سمجھوتہ کرنا پڑے گا اور وہ ہے پیپلزپارٹی کیونکہ اس موقع پر ان کی ضد نون لیگ اور پی پی پی کو ایک کر سکتی ہے اور اگر دونوں ایک ہوگئے تو پھر عمران خان صاحب کو مائنس ہونے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ پی ڈی ایم کے پاس تمام فلیورز موجود ہیں‘ سیاسی‘ قومی‘ علاقائی‘ مذہبی، ان سب کو اکٹھا ہونے سے روکنا ہی اصل کامیابی ہو گی‘ لیکن موجودہ حکومت کی سب سے بڑی اپوزیشن مہنگائی ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *