صبا فیصل کو آنکھوں میں آنسو لانے کے لیے گلیسرین استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی

لاہور (ویب ڈیسک) برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں صبا فیصل کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ دور حاضر میں بننے والے سینکڑوں ڈراموں میں سے صرف دو تین میں ہی کام کر رہی ہوتی ہیں تاہم یہ ان کے ڈراموں کی خوبصورتی اور ان کا معیار ہے

جو انہیں ہر جگہ نمایاں کر دیتا ہے اور لوگوں کو ایسا لگتا ہے کہ وہ ہر ڈرامے میں ہی کام کر رہی ہیں۔صبا فیصل ڈراموں میں منفی اور مثبت دونوں طرح کے کرداروں میں نظر آتی ہیں کبھی وہ ایک سخت گیر ساس بن جاتی ہیں اور کبھی انتہائی محبت کرنے والی سادہ لوح ماں کے کردار میں نظر آتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت آن ایئر ڈرامے ’قیامت‘ میں انہیں اپنا ’سخت مزاج ساس ‘ کا کردار کرنے میں بہت مزا آیا جو آج تک کسی دوسرے کردار میں نہیں آیا تھا۔صبا فیصل کا کہنا ہے کہ وہ منفی کرداروں کو اس لیے بھی انجوائے کرتی ہیں کیونکہ ایک تو ان میں پرفارمنس کا مارجن بہت ہوتا ہے اور دوسرا ایسے کرداروں کے ڈائیلاگ بھی زیادہ ہوتے ہیں۔صبا فیصل کا کہنا تھا کہ کسی بھی کردار کو کرتے ہوئے وہ اپنی ذات کو نفی کر کے پوری طرح کردار میں ڈھل جاتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ جو ہم کر رہے ہوتے ہیں وہ محض ایک کردار ہوتا ہے تاہم لوگوں کے ذہنوں میں اس کی چھاپ رہ جاتی ہے۔‘وہ کہتی ہیں ’لوگ مجھے سخت اور کھڑوس سمجھنے لگے ہیں جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے بات کرتے ہوئے جھجھکتے ہیں۔ جب میں کسی نئے سیٹ پر جاتی ہوں تو عملے کے لوگ اور ساتھی فنکار مجھ سے بے تکلف ہونے میں کچھ دن لگاتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہمیں لگا کہ آپ بہت سخت قسم کی خاتون ہوں گی، ہم تو بہت گھبرائے ہوئے تھے

لیکن آپ تو بہت نرم مزاج ہیں۔‘تاہم صبا فیصل اس امیج کے بارے میں ہنستے ہوئے کہتی ہیں کہ ’میں کبھی کبھی اس تاثر کا فائدہ بھی اٹھا لیتی ہوں۔‘صبا فیصل کا کہنا تھا کہ حقیقی زندگی میں ایک ماں اور ساس ہونے کی حیثیت سے ان کے ذاتی تجربات ان کی اداکاری میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔وہ کہتی ہیں ’بچوں سے متعلق بھی کوئی سین ہوتا ہے تو مجھے کبھی گلیسرین کی ضرورت نہیں پڑتی۔ میں محسوس کرتی ہوں کہ اگر میرے بچے ایسے ہوں تو مجھے کیسا محسوس ہو گا اور یہ کہ اس کردار پر کتنا مشکل وقت ہے یہ کس طرح سے اس سے گزر رہی ہو گی۔‘’میرےخیال میں بچوں کی وجہ سے ہمارے کام میں نکھار آتا ہے۔‘صبا کا کہنا ہے کہ ماں اور ساس ہونے کی حیثیت سے ان کے ذاتی تجربات ان کی اداکاری میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیںصبا فیصل کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے اداکاری شروع کی تو انہیں پہلے ڈرامے میں ہمایوں سعید کی والدہ کا کردار ملا جس پر وہ قدرے جھجھک رہی تھیں کہ انہیں بھابھی یا بہن کا کردار ادا کرنا چاہیے تاہم اس وقت انہیں جاوید فاضل نے بتایا کہ ’بہن یا بھابھی کے کردار ہر ڈرامے میں نہیں ہوتے لیکن ماں ہر ڈرامے میں ہوتی ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ میں نے یہ کردار کرنے کا فیصلہ کیا تاہم میں نے یہ طے کیا تھا کہ مجھے کیسی ماں کا کردار ادا کرنا ہے یعنی اس کا ایک مضبوط کردار ضرور ہونا چاہیے۔ محض جگانے اور چلائے پلانے والی نہ ہو۔‘صبا فیصل کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنے لیے کرداروں کے انتخاب میں بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا جس کا یہ نتیجہ نکلا کہ آگے چل کر انہیں وہی کردار ملے جو شاید ان کے لیے ہی بنائے گئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ’تب سے اب تک مجھے کوئی ثانوی قسم کا کردار نہیں ملا، میرا کردار متوازی ہوتا ہے اگر ایک طرف ہیرو ہیروئن ہوتے ہیں تو دوسری طرف اس کی ماں ہوتی ہے۔‘دور حاضر کے فنکاروں کے سوشل میڈیا پر مقبولیت کے حوالے سے فیصل کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں فنکاروں کو سوشل میڈیا پر متحرک ہونا چاہیے۔ان کا کہنا تھا تھا ’لوگ فنکاروں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں، ان میں تجسس ہوتا ہے لوگ سننا چاہتے ہیں کہ صبا فیصل کون ہے۔ یہ جو کچھ میں بول رہی ہوں یہ میرے اندر کی سچائی ہے یہ صبا فیصل بول رہی ہے ہے لوگ سننا چاہتے ہیں۔‘

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *