صف اول کے تجزیہ کاروں کی آراء

کراچی (ویب ڈیسک)نجی ٹی وی کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں میزبان علینہ فاروق شیخ کے پہلے سوال کیا پی ڈی ایم کا لاہور کا جلسہ کامیاب رہا؟ کا جواب دیتے ہوئے تجزیہ کاروں نے کہاکہ پی ڈی ایم کا جلسہ نہ ہٹ شو تھا نہ سپرفلاپ شو تھا،ن لیگ کو لاہور میں ووٹ مل جاتے ہیں

لیکن لوگ جلسوں میں نہیں آتے۔منیب فاروق نے کہا کہ لاہور جلسہ شرکاء کی تعداد کے حساب سے مناسب جلسہ کہا جاسکتا ہے،پی ڈی ایم کو حکومت گرانے کیلئے جنہیں اپنی کارکردگی سے متاثر کرنا تھا وہ بھی متاثر نہیں ہوئے،ن لیگ کو لاہور میں ووٹ مل جاتے ہیں لیکن لوگ جلسوں میں نہیں آتے، اپوزیشن اگلے ڈیڑھ مہینے میں لانگ مارچ کیلئے لوگوں میں جوش و جذبہ کہاں سے لائے گی۔مظہر عباس کا کہنا تھا کہ جلسوں کو کیمرے کی نگاہ سے نہیں دیکھتا ہوں، میں نے کبھی جلسوں کو شرکاء کی تعداد سے جج نہیں کیا، کارکنوں میں جوش و ولولہ جلسوں کی ایک کامیابی ہوتی ہے، پی ڈی ایم کے جلسوں کا ڈس ایڈوانٹج اس کی ٹائمنگ ہے، عمران خان نے 2013ء کے الیکشن کے فوری بعد تحریک شروع کردی تھی جس کا انہیں فائدہ ہوا،اپوزیشن اب 2018ء کے انتخابات کی بات کرے گی تو ٹیمپو نہیں بن پائے گا۔

Comments are closed.