صف اول کے صحافی نے اندر کی کہانی بیان کر دی

لاہور (ویب ڈیسک) فرمایا ہے پیارے وزیراعظم  نے کہ اگلے اڑھائی سال کارکردگی دکھانے کے ہیں، جس کی بنیاد پر آئندہ الیکشن جیتیں گے۔ گویا انہوں نے اس حقیقت کو کھلے دِل سے تسلیم کر لیا ہے کہ گذرے ہوئے اڑھائی برسوں میں حکومت کوئی کارکردگی نہیں دکھا سکی، جب وزیراعظم عمران خان

ایک ظہرانے پر، جو انہوں نے اتحادیوں کے اعزاز میں دیا،نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کہہ رہے تھے، تو مریم نواز گلگت میں یہ نوید سنا رہی تھیں کہ وزیراعظم کے جانے کا وقت آ گیا ہے، اب وہ منہ پر ہاتھ پھیر کر جو وارننگز دے رہے ہیں، وہ اُن کی اُس پریشانی کا نتیجہ ہیں،جو انہیں اقتدار ہاتھ سے جاتا دیکھ کر لاحق ہو چکی ہے۔ دیکھتے ہیں یہ لڑائی اب کس کروٹ بیٹھتی ہے؟ اڑھائی سال پورے ہوتے ہیں یا اپوزیشن نے اڑھائی ماہ کا حکومت کو گھر بھیجنے کی بابت جو فارمولا دیا ہے، وہ سچ ثابت ہوتا ہے؟وزیراعظم عمران خان نے حکومت کے اتحادیوں کو ظہرانے پر بلایا تھا، کیوں بلایا تھا؟ اس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا اس ظہرانے سے مطلوبہ مقاصد حاصل ہوئے؟ یا معاملات مزید بگڑ گئے؟ اس بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں، تاہم جس طرح اتحادیوں نے شکایات کے انبار لگائے، حکومتی بے اعتنائیوں کا ذکر کیا اور اپنی محرومیوں کی داستانیں سنائیں،اُس سے تو یہی لگتا ہے کہ سب اچھا نہیں اور اتحاد شاخِ نازک پر بنے آشیانے کی طرح ہے، جس کے ساتھ بعض مجبوریوں کے تانے بانے موجودہیں۔وزیراعظم عمران خان پہلے اڑھائی سال تو طفل تسلیوں کے سہارے گزار گئے ہیں، اگلے اڑھائی برس اب وہ امید دِلا کر گزارنا چاہتے ہیں،اِس لئے انہوں نے یہ یقین دلایا ہے کہ آئندہ کارکردگی بہتر رہے گی۔ کارکردگی اچانک کیسے بہتر ہو جائے گی؟ اس کا علم تو پیارے کپتان کو ہی ہو گا۔ بظاہر تو ایسے حالات نظر نہیں آتے کہ کایا پلٹ جائے اور سب اچھا ہی اچھا دکھائی دے۔

وزیراعظم کے اتحادی تو شاید اُن کی باتوں سے وقتی طور پر مطمئن ہو جائیں،لیکن اپوزیشن تو انہیں مزید ایک دن بھی دینے کو تیار نہیں۔اُس کے بارے میں وزیراعظم عمران خان نے اتنی لچک تو دکھائی ہے  کہ وہ اپوزیشن سے مذاکرات کے لئے تیار ہیں، مگر ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا ہے کہ وہ کسی رعایت دینے کی خاطر مذاکرات نہیں کریں گے اور نہ احتساب کے عمل کو روکیں گے، گویا ایک طرح سے انہوں نے یہ دروازہ بند ہی کر دیا ہے۔حکومت کی ایک اہم اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) ہے۔ ان دونوں جماعتوں میں کیسا تعلق چل رہا ہے،اس بارے میں کچھ بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا؟ پہلے کی طرح اِس بار بھی مسلم لیگ (ق) وزیراعظم کے ظہرانے میں نہیں گئی۔ چودھری مونس الٰہی نے یہ عجیب منطق بیان کی ہے کہ ہم حکومت کے اتحادی ہیں، وزیراعظم کے ظہرانے میں جانے کی کوئی شق ہمارے معاہدے میں شامل نہیں …… ”صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں“، کا یہ انداز کیا معنی رکھتا ہے؟مسلم لیگ(ق) اگر اتحاد سے بھی نہیں نکلنا چاہتی اور حکومت کے ساتھ بیٹھنا بھی گوارا نہیں کرتی، تو اس سے وزیراعظم عمران خان کو کیا فرق پڑے گا؟ کیا اس سے یہ تاثر نہیں مل رہا کہ کسی تیسری قوت نے ان دونوں میں مل بیٹھنے کا بندوبست کرا رکھا ہے؟کیا اس سے اپوزیشن کے اس الزام کو تقویت نہیں ملتی کہ سلیکٹرز نے موجودہ انتظامی ڈھانچہ ترتیب دیا اور جب تک اُن کی مرضی ہو گی، کوئی اِدھر سے اُدھر نہیں جا سکے گا۔ سنا ہے وزیراعظم عمران خان بھی مسلم لیگ(ق) کے  ساتھ نیم دلانہ تعلقات رکھے ہوئے ہیں۔

اس بار بھی انہوں نے سیاسی ذریعے سے دعوت دینے کی بجائے انتظامی افسر کے ذریعے اطلاع بھیجی، جو ظاہر ہے چودھری برادران کے لئے قابل ِ قبول نہیں تھی۔ ذرائع اس سرد مہری کی وجہ مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کو بتاتے ہیں، جسے ختم کرانے کے لئے چودھری برادران نے مولانا کو کچھ ایسی یقین دہانیاں بھی کرائیں، جن کا اُن کے پاس اختیار ہی نہیں تھا۔ اُن میں مبینہ طور پر حکومت ختم کرنے کی یقین دہانی بھی شامل تھی، جس کا مولانا اب تک ٹھنڈی آہ بھر کر ذکر کرتے ہیں۔یہ بات تو طے ہے کہ حکومت کے اتحادی ناراض تو ہو سکتے ہیں، علیحدہ نہیں ہو سکتے،اِس کی وجوہات چاہے کچھ بھی ہوں، حقیقت یہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کو اِس حوالے سے غالباً کوئی پریشانی نہیں، اِسی لئے وہ اتحادیوں کی شکایات کھلے دِل سے سنتے ہیں اور بعض یقین دہانیاں کرا کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اپوزیشن بھی اسی وجہ سے حکومتی اتحاد میں دراڑ ڈالنے کی کوئی کوشش نہیں کر رہی، اُس کا سارا زور حکومت کی ناقص اقتصادی کارکردگی کو نشانہ بنانے پر ہے۔ شاید اِسی لئے اب  وزیراعظم نے اپنا بیانیہ آئندہ اڑھائی برسوں میں کارکردگی بہتر بنانے سے جوڑا ہے۔ کیا اس بیانیہ تک آنے میں انہوں نے دیر نہیں کر دی۔ کیا آج یہ حقیقت ایک تسلیم شدہ سچائی نہیں بن گئی کہ گذشتہ ستر برسوں میں اتنی مہنگائی نہیں ہوئی،جتنی پچھلے دو برسوں میں بڑھی ہے۔ کیا آٹے، چینی، گھی، سبزیوں، پھلوں، دالوں، انڈوں، ادویات کو عام پاکستانی کے لئے ناقابل ِ رسائی نہیں بنا دیا گیا۔ کیا حکومتی مشینری مہنگائی مافیا اور ذخیرہ اندوزوں سے عوام کو بچانے کے لئے بالکل ناکام نہیں ہو گئی، کیا شہروں میں پانی کی فراہمی اور گندے پانی کے نکاس کی صورتِ حال بدتر نہیں ہوئی، کیا بے روزگاری میں اضافہ نہیں ہوا، کیا جرائم نہیں بڑھے؟ یہ سب سامنے کی حقیقتیں ہیں۔ اڑھائی برس میں یہ مسائل اِس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اگلے اڑھائی برسوں میں اگر یہ پہلے والی سطح پر ہی آ جائیں تو بڑی کامیابی ہوگی،لیکن ابھی تو ان اڑھائی برسوں پر بے یقینی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *