صف اول کے صحافی نے ایسی رپورٹ جاری کردی کہ آپ ساری گیم سے واقف ہو جائیں گے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) نامور صحافی انصار عباسی اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جہانگیر ترین اکیلے نہیں ہیں، کئی اور لوگ بھی ہیں۔ کم از کم 14؍ شوگر ملز کو ایف آئی اے لاہور کی جانب سے ’’حتمی نوٹس‘‘ بھیجا گیا ہے اور ساتھ ہی ’’شوگرمنافع خوروں ‘‘ کے مختلف کرداروں کیخلاف کئی مقدمات بھی

درج کیے گئے ہیں۔ اگرچہ یہ کہا جاتا ہے کہ چینی کے کاروبار میں جہانگیر ترین بڑے کھلاڑی ہیں لیکن اس کے باوجود شہباز شریف کی فیملی ایف آئی اے کی ’’اہداف کی فہرست‘‘ میں سرفہرست ہے، حالانکہ اس سے پہلے درجہ بندی میں جہانگیر ترین کا نام سب سے پہلے تھا۔ ایف آئی اے نے اپنی ایف آئی آر میں الزام عائد کیا ہے کہ شہباز شریف اور ان کے بیٹوں نے 2008ء سے 2018ء تک چھپا کر ’’بیرونی ذرائع‘‘ سے جعلی اکائونٹس کھول کر 25؍ ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی ہے۔ یہ اکائونٹس کم اجرت پر رکھے گئے آر ایس ایم ایل کے ملازمین (چپڑاسی اور کلرک) کے نام پر کھولے گئے۔ جہانگیر ترین کی جے ڈی ڈبلیو ملز، جو پبلک لمٹیڈ لسٹڈ کمپنی ہے، کے معاملے میں جہانگیر ترین پر الزام ہے کہ انہوں نے بے ایمانی سے جے کے فارمز لمیٹڈ (سی ای او علی ترین) کے اثاثے 4.35؍ ارب روپے میں خریدے اور اس طرح انہوں نے پبلک شیئر ہولڈرز کو دھوکا دیا اور 20؍ نومبر 2013ء کے معاہدہ فروختگی کے ذریعے اپنے بیٹے کو فائدہ پہنچایا۔ خسرو بختیار کے خاندان کی آر وائی کے شوگر مل کو بھی حتمی نوٹس بھیجا گیا ہے جو سٹہ بازوں کی تحقیقات سے متعلق ہے۔ ترین کی طرح، آر وائی کے شوگر مل پر الزام ہے اس نے بے ایمانی سے سٹہ بازوں کے واٹس ایپ گروپ کے خفیہ نیٹ ورک کے ساتھ مل کر چینی کی قیمتیں بڑھائیں۔ ایسے ہی نوٹسز دیگر شوگر ملوں کو بھی بھیجے گئے ہیں جن میں ٹو اسٹار شوگر ملز، کشمیر شوگر ملز، حسین شوگر ملزم، چنار شوگر ملز، حمزہ شوگر ملز، جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز، تاندلیاں والا شوگر ملز، العربیہ شوگر ملز، اتحاد شوگر ملز، المز شوگر ملز،

مدینہ شوگر ملز اور رمضان شوگر ملز شامل ہیں۔ ان تمام شوگر ملوں کو ایک جیسے ہی نوٹس بھیجے گئے ہیں اور ان سے ایک جیسا ریکارڈ طلب کیا گیا ہے چاہے یہ شوگر ملز جہانگیر ترین کی ہوں، شہباز شریف، خسرو بختیار فیملی کی یا پھر کسی اور کی۔ ان نوٹسز کے مطابق، ان شوگر ملز کی انتظامیہ پر الزام ہے کہ یہ شوگر ملز بروکرز اور فرنٹ مین کے ساتھ ملی بھگت کرتے ہوئے اب شوگر سٹہ باز گروہں میں تبدیل ہوگئی ہیں اور یہ گروہ بے ایمانی سے چینی کی قیمتوں میں اضافہ کر رہا ہے اور اس مقصد کیلئے فراڈ واٹس ایپ کے خفیہ گروپس کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ یہ گروہ صارفین کے ساتھ دھوکا کر رہے ہیں، چینی کی قیمتیں غیر منصفانہ انداز سے بڑھا رہا ہے اور اس جرم سے حاصل ہونے والی آمدنی کو خفیہ اور جعلی بینک اکائونٹس میں اثاثوں کے ذریعے چھپایا جا رہا ہے۔ ان نوٹسز میں لکھا ہے کہ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ جعلی اور بوگس کھاتوں یا پھر کچے کھاتوں کے ذریعے جرائم سے حاصل ہونے والی آمدنی چھپائی جا رہی ہے۔ شواہد سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شوگر ملز سٹہ گروہوں کے ساتھ گٹھ جوڑ بنائے ہوئے ہے۔ ان شوگر ملز میں اکائونٹس سنبھالنے والوں سے کہا گیا ہے کہ وہ چینی کے اسٹاک کا تمام ریکارڈ پیش کریں اور بتائیں کہ سٹہ کھلاڑیوں کو اور ان کے ذریعے یکم نومبر 2020ء سے اب تک کتنی چینی فروخت کی گئی ہے جیسا کہ کمپنی کے اصل لیجرز / وائوچرز میں بتایا گیا ہے۔ یکم نومبر 2020ء سے فروخت کی گئی چینی کا وہی ریکارڈ مانگا گیا ہے جو ایف بی آر بھی طلب کر چکا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.