صف اول کے صحافی نے خوفناک حکومتی گیم پلان سے پردہ اٹھا دیا

لاہور (ویب ڈیسک) پی ڈی ایم میں اگرچہ کئی جماعتیں شامل ہیں مگر اصل اہمیت نون لیگ اور جمعیت کی ہے۔ اس بازی کا تمام ترانحصار ان پر ہے۔ پیپلزپارٹی بلاشبہ اہم ہے لیکن اس نظام سے اس کے مفادات وابستہ ہیں۔ وہ سندھ حکومت نہیں کھوناچاہتی۔ نون لیگ اور جمعیت کے پاؤں میں ایسی کوئی زنجیر نہیں۔

نامور کالم نگار خورشید ندیم اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اگر ہوتی توان کا رویہ بھی پیپلزپارٹی سے مختلف نہ ہوتا۔ پی ڈی ایم کی جماعتوں کو اب یہ سوچنا ہے کہ پیپلزپارٹی کی اس مجبوری کو کیسے اپنی حکمتِ عملی میں جگہ دینی ہے اور پیپلزپارٹی کو یہ دیکھنا ہے کہ ایک فیصلہ کن موڑ پر اس کے قدموں کی لڑکھڑاہٹ، کہیں اس کیلئے عمر بھر کا پچھتاوا نہ بن جائے۔ سیاستدانوں کو بحیثیت مجموعی غور کرنا ہوگا کہ سیاستدانوں کی تقسیم بالآخر سب کیلئے نقصان دہ ہوگی۔ تاریخ نے اگر انہیں غلطیوں کی تلافی کا ایک موقع دیا ہے تو اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔دوسرے فریق کی پوری کوشش ہے کہ جمعیت علمائے اسلام اور نون لیگ کا رشتہ کمزورہو۔ بالکل تحریکِ پاکستان کی طرح، جب مسلمانوں کے مخالفین کی یہ خواہش تھی کہ جمعیت اور مسلم لیگ میں فاصلہ بڑھے۔ شیخ رشید صاحب کو نئی اسائنمنٹ غالباً یہی ملی ہے۔ پہلے دونوں کو لڑانے کی کوشش ہوگی۔ اس میں اگر کامیابی نہ ہوئی تودونوں کوغدار ثابت کیا جائے گا۔ مولانا صاحب کو تاریخی حوالوں سے کانگرس اور ہندوستان نواز ثابت کرنے کی کوشش ہوگی۔ نواز شریف اصل ہدف ہیں۔ ان کو غدار بنانے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ چند لوگ اس پر مامورہیں۔ مولانا فضل الرحمن کو اس کیلئے ابھی سے متنبہ ہونا ہوگا۔ اگلی باری ان کی ہے۔ اب علامہ اقبال کے قطعے کی تشہیرِ عام ہوگی جو انہوں نے مولانا حسین احمد مدنی کے بارے میں لکھا تھا۔ پھرمفتی محمود صاحب کے ایک قول کو سیاق و سباق

سے ہٹا کر دہرایا جائے گا۔ یہ ثابت کیا جائے گا کہ چونکہ ان کے اکابر پاکستان بنانے کے خلاف تھے، اس لیے یہ انہی کے ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے اکھنڈ بھارت کے علم بردار ہیں۔تاریخ یہ ہے کہ جب بھی غداری کا کھیل کھیلا گیا، اس نے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ تاریخ کا سبق مگریہ بھی ہے کہ تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتا۔ ایک بار پھر 1970ء کاماحول پیدا کیاجا رہاہے۔ کوئی یہ نہیں دیکھ رہاکہ اُس مہم جوئی کا انجام کیا ہوا تھا۔ ریاستیں غدار پیدا نہیں کرتیں، غداروں کو قومی دھارے میں لاتی ہیں۔ ریاست مدینہ کی بات کرنے والے کاش اس ریاست کا پہلا باب ”میثاقِ مدینہ‘‘ یا دورِ اوّل کا آخری باب ”فتح مکہ‘‘ پڑھ لیتے۔ مولانا طارق جمیل سے کہتے کہ ان کو پڑھ کرسنا دیں۔میں جانتا ہوں کہ ایسا نہیں ہو گا۔ اس لیے اب سب ذمہ داری مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام کے کندھوں پر ہے۔ انہوں نے ایک پُرامن احتجاجی تحریک چلانی ہے جس کا مقصد ملک میں حقیقی جمہوریت کی بحالی ہے۔ یہ منفی نہیں، ایک مثبت مقصد ہے۔ یہ کسی ادارے کے خلاف نہیں، آئین کی بالادستی کے حق میں ہے۔ اِس سیاسی نظام نے ثابت کر دیا کہ اس میں تنازعات کو حل کرنے کی صلاحیت نہیں۔ اس کا خاتمہ اب ناگزیر ہوچکا۔ تبدیلی کا واحد پرامن راستہ نئے انتخابات ہیں۔انتخابات کیسے منصفانہ ہوں گے، پی ڈی ایم کو اس پرضرور بات کرنی چاہیے اور اپنا موقف قوم کے سامنے رکھنا چاہیے۔ مولانا کے کندھوں پر ایک بھاری ذمہ داری آن پڑی ہے۔ یہ ان کی بصیرت کا امتحان ہے کہ اس تحریک کے نتیجے میں ملک کیسے بہتری کی طرف پیش قدمی کرتا ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *