صف اول کے صحافی نے سی سی پی او لاہور کے خلاف چلنے والی مہم کا مرکز و محور بتا دیا

لاہور (ویب ڈیسک) ایک صاحب ہیں‘ آپ کہہ سکتے ہیں وہ ایک موٹیویشنل لکھاری ہیں‘ کہانیاں گھڑتے ہیں۔ اصل ہدف تاریخ کے حقائق پیش کرنا نہیں بلکہ اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے فرضی اور جھوٹے واقعات کا استعمال ہے۔ مدت سے انہیں پڑھنا چھوڑ رکھا ہے۔ لکھنے والا جب تیل مالش والا بن جائے

نامور صحافی اشرف شریف اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ تو اسے کون پڑھے گا۔ چند ہفتے قبل ایک ریٹائرڈ ایڈمرل اور تحریک انصاف کے سابق عہدیدار نے تحریک آزادی کے دوران پنجاب کے کردار پر سوال اٹھایا تھا۔ میں ان کے تعصب کو اخبار میں زیر بحث نہیں لانا چاہتا تھا اس لیے انہیں سوشل میڈیا پر ہی جواب دے دیا۔ پھر ایک صاحب نے سرائیکی پنجابی تعصب میں مسلسل لکھنا شروع کردیا۔ ان کے بقول ہر خرابی کی جڑ پنجابی ہیں۔ میرے جواب پر ریٹائرڈ ایڈمرل نے پوزیشن بدلی کہ مغربی پنجاب کے لوگوں کی جدوجہد بتائیں۔ میں نے کچھ لوگوں کا نام لیا تو ایک بار پھر ڈھٹائی سے مطالبہ کیا کہ یہ تو سکھ ہیں مغربی پنجاب کے مسلمانوں کے کردار پر بات کریں۔ میں نے ایک قدیم ریکارڈ میں موجود پنجابی حریت پسندوں کی فہرستیں بھیج دیں ،تاہم مغربی پنجاب کے مسلمانوں کی تحریک آزادی میں حصہ داری کو سمجھنے کے لئے نام نہاد مئورخین عقل استعمال نہیں کر سکے ،وہ یہ بات بھول چکے ہیںکہ پنجاب مسلم اکثریتی علاقہ رہاہے۔ انگریز نے یہ علاقہ سکھوں سے چھینا تو انہیں سیاسی حمایت کے لیے مسلمانوں کی ضرورت تھی۔ پنجاب میں مسلمان سیاسی طور پر پسے ہوئے اور کمزور نہیں تھے۔ انگریز نے یہاں سر سکندر حیات کی تجویز پر نہریں نکالیں۔مسلمانوں کو طاقتور بنانے کے لئے جاگیریں دی گئیں،مسلمان اشرافیہ اس لیے انگریز کی حامی تھی کہ وہ سکھ دور کو بھگت چکی تھی۔ پنجاب کے مزاج پر بات کرنے والے پنجابی و غیر پنجابی جب حقائق سے چشم پوشی کرتے ہیں تو ان کی تحریر میں نفرت کے سوا کچھ نہیں رہ جاتا۔ محترم کالم نگار نے پنجاب کوبرا بھلا کہنے کی ساری کہانی سی سی پی او لاہور عمر شیخ کو نالائق ثابت کرنے کے لیے گھڑی۔ اب یہ کسے معلوم نہیں کہ عمر شیخ کے خلاف مہم کون سی سیاسی جماعت چلا رہی ہے۔اسی لئے میں نے اپنے ساتھیوں سے شرط لگائی کہ نواز شریف عمر شیخ کا ذکر کریں گے ۔میں شرط جیت گیا!

Sharing is caring!

Comments are closed.