صف اول کے صحافی نے وارننگ جاری کردی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ارشاد احمد عارف اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔عمران خان اپنی ناقص ٹیم اور اڑھائی سالہ بُری کارگزاری کی بنا پر اپنے ہی خیر خواہوں اور مداحوں کو مایوسی کی طرف دھکیل چکا ہے۔ عمران خان کے باتونی مشیر اور بزدار ‘ محمود خان ‘ اسد عمر‘ غلام سرور خان‘

عمر ایوب ٹائپ ساتھی مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں اور عوام کو جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ فراہم کرنے سے قاصر۔ بیورو کریسی بار بار کے تبادلوں اور اعلیٰ سطحی فیصلوں میں عدم ثبات کے باعث کام کرنے کو تیار نہیں اور وفاقی کابینہ میں ہم آہنگی مفقود ہے۔ اڑھائی سال کا قیمتی وقت محض باتوں اور بیانات میں گزر گیا‘ اگر عالمی سرپرستی میں حکومت گرانے کے لئے کوئی منظم تحریک شروع ہوئی تو اس کا مقابلہ کون اور کیسے کرے گا؟ یہ سوالیہ نشان ہے۔ 1969ء میں ایوب خاں عالمی سازش کا شکار ہوئے تو وہ تنہائی اور تاشقند معاہدے کے تحت عدم مقبولیت کا شکار تھے‘1977ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی حالت ایوب خان سے بدتر تھی۔ عمران خان مگر اس وقت مقبولیت کے عروج پر نہ سہی مگر اپنے حامیوں اور کارکنوں کی تائید و حمائت کے ہھتیار سے لیس ہیں اور پاک فوج کی قیادت بھی آئین کے مطابق سول حکومت کی وفادار ہے لیکن دبائو کا مقابلہ کرنے کے لئے عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو مزید کچھ کر دکھانے کی ضرورت ہے‘ ایسا کچھ کہ اندرونی اور بیرونی عناصر تبدیلی کے بارے میں سوچتے ہوئے اندیشوں‘ خدشات اور خوف کا شکار ہوں۔1969ء اور 1977ء میں امریکہ ‘کو پاکستان سے پرخاش تھی نہ بھارت کو افغانستان میں بدامنوں کو تربیت دینے کی سہولت حاصل۔ سی پیک ایسا کوئی منصوبہ امریکہ اس کے اتحادیوں کے لئے سوہان روح تھا نہ چین کی ابھرتی ہوئی عسکری و دفاعی طاقت کسی سپر پاور کے لئے خطرہ۔ پاکستان کا دفاع تو الحمد للہ مضبوط ہے مگر سیاسی استحکام؟ بیرونی ریشہ دوانیوں اور اندرونی یورش کا مقابلہ کرنے کے لئے بیانات سے آگے بڑھ کر کچھ کر دکھانے کی ضرورت ہے۔ امریکہ بھارت گٹھ جوڑ‘ مودی اشرف غنی روابط اور پاکستان میں بھارتی شردھالوئوں کی بیرونی پشت پناہی کا توڑ باتوں سے نہیں حکمت و دانائی اور لاتوں سے کرنے کا وقت ہے ‘مودی ’’دشمن کے دشمن کو دوست‘‘ بنانے کی دیرینہ پالیسی پر عمل پیرا ہے‘ امریکہ اور اسرائیل ہمنوا ہیں اور اندرون ملک نفرت انگیز مہم برپا مگر گفتار کے غازی اپنی روش پر قائم ۔اللہ خیر کرے۔

Comments are closed.