صف اول کے صحافی نے پیشگوئی کر دی

لاہور (ویب ڈیسک) 13دسمبر2020کا جلسہ مگر حکومتی ترجمانوں کے اعصاب پر چھایا محسوس ہورہا ہے۔نظر بظاہر وفاقی کابینہ نے مجوزہ جلسے کی ’’اجازت‘‘ دے دی ہے۔ اصولی طورپر یہ فیصلہ اگرچہ لاہور انتظامیہ کی ذمہ داری واختیار تھی۔ سنا ہے کہ آئین میں اٹھارویں ترمیم نامی کوئی شق موجود ہے۔ ’’امن وامان‘‘ سے جڑے تمام مسائل

نامور کالم نگار نصرت جاوید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی بدولت صوبائی حکومت کی بلاشرکتِ غیرے (Exclusive)ذمہ داری شمار ہوتے ہیں۔آئینی امور کی بابت تقریباََ جاہل ہوتے ہوئے میں لہٰذا سمجھ نہیں پایا کہ ’’وفاقی کابینہ‘‘ نے PDMکو لاہور میں جلسہ کرنے کی ’’اجازت‘‘ کس بنیاد پر دی ہے۔ تحریک انصاف یقینا وفاق کے علاوہ پنجاب میں بھی حکمران جماعت ہے۔اس تناظر میں مناسب تو یہی تھا کہ ’’وفاقی کابینہ‘‘کے بجائے تحریک انصاف کی سنٹرل کمیٹی کااجلاس ہوتا۔وہ بطور ایک ’’سیاسی جماعت‘‘ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کو لاہور والے جلسے کی بابت درگزر کا مشورہ دیتی نظر آتی۔ ’’وفاقی کابینہ‘‘ کے فیصلے نے مگر ایک بار پھر ثابت یہ کیا ہے کہ ہمارے ہاں اصل اختیارات اسلاام آباد میں بیٹھے وزیر اعظم ہی کو میسر ہوتے ہیں۔اٹھارویں ترمیم کے تحت ’’یقینی‘‘ بنائی ’’صوبائی خودمختاری‘‘ محض کتابی باتیں ہیں۔کمانڈ اینڈ کنٹرول کا حتمی سوئچ وزیر اعظم کی اُنگلی ہی سے آن یا آف ہوتا ہے۔سندھ میں پیپلز پارٹی کی وجہ سے یہ کارآمد نظر نہ آئے تو ’’دیگر‘‘ذرائع استعمال کرنا پڑتے ہیں۔بارش سے جمع ہوئے پانی کی بروقت نکاسی کو یقینی بنانے کے لئے بھی ’’دوسروں‘‘ سے رجوع کرنا ہوتا ہے۔اٹھارویں ترمیم کو اپنا فخرومان تصور کرتی پیپلز پارٹی کے مرادعلی شاہ اس ضمن میں شرمندگی دکھانے کی جرأت سے بھی ڈھٹائی کی حد تک محروم نظر آتے ہیں۔بہرحال ’’وفاقی کابینہ‘ ‘نےPDMکو لاہور میں جلسہ منعقد کرنے کی ’’اجازت‘‘ بہم پہنچادی ہے۔اس جلسے کے لئے ’’تمنبو قناتیں‘‘لگانے والوں کے خلاف البتہ  نجانے کونسی دفعات کے تحت پرچے بھی کٹیں گے۔ ممکنہ ’’جلسی‘‘ میں شرکت کرنے والوں کو دسمبر کی سردی میں کھلے آسمان تلے کھڑا ہونا پڑے گا۔مجوزہ جلسے کے منتظمین کو جدید ترین سائونڈ سسٹم بھی فراہم نہیں ہوپائے گا۔ وہاں موجود ’’قائدین‘‘ کو شا ید ذاتی خرچے سے میگا فون خریدنا ہوں گے۔اسے ہاتھوں میں لے کر وہ ’’جلسی‘‘ سے خطاب کرنے کے بعد شرمندگی سے گھروں کولوٹ جائیں گے

Sharing is caring!

Comments are closed.