صف اول کے صحافی کا حیران کن اعلان ،

لاہور (ویب ڈیسک) جنرل گل حسن کے لیے بہت آسان تھا کتاب لکھ ڈالی اور جنرل نیازی کو کمپنی کمانڈر کی سطح کا افسر کہہ ڈالا۔ لڑنے یہ پلان جنرل نیازی کا تو نہیں تھا۔اس کا ماسٹر مائنڈ تو گل حسن ہی تھے۔سوال تو گل حسن سے پوچھا جانا چاہیے تھا کہ جب مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج

نامور کالم نگار آصف محمود اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ محصور ہو چکی تھی تو آپ کے پاس پلان بی کیا تھا؟ آپ مغربی پاکستان سے اٹیک کر کے بھارت کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے؟ آپ تو جنرل نیازی کی طرح کمپنی کمانڈر کی سطح کے آدمی نہ تھے۔آپ تو بڑے اعلی منصوبہ ساز تھے۔پھر کیا وجہ ہے کہ مشرقی پاکستان کا بدلہ اپ مغربی پاکستان سے نہ لے سکے؟ جنرل نیازی کے ساتھ جو جوان اور سپاہی تھے وہ بھی کسی ماں کے بیٹے تھے۔وہ بکری کے بچے نہ تھے کہ جنرل نیازی انہیں قربان کروا دیتے تا کہ برسوں بعد فیس بک کے رستم اور صدیق سالک جیسے کتابیں لکھ کر ٹارزن بننے والوں کی انا کی تسکین ہوتی۔ہم نے ان سارے سپاہیوں کو گناہ کی طرح بھلا ڈالا۔ وہ محصور تھے تو ہم ان کی مدد نہ کر سکے۔ ہم انہیں ہتھیار نہ دے سکے۔ہم ان تک خوراک نہ پہنچا سکے۔ وہ زخمی تھے ہم انہیں ادویات نہ دے سکے۔ غلط فیصلے یہاں سے ہوتے رہے اور ملامت کے لیے ہم نے ان کو چن لیا جو اس جگہ وہاں کھڑے تھے۔یہ کیسا انصاف ہے؟صدیق سالک اگر اتنے ہی رستم تھے تو بہت سے دوسرے افسران اور جوانوں نے کی طرح وہ بھی سرنڈر کے فیصلے کو تسلیم نہ کرتے۔ کرنل سلمان کی طرح کی کوئی مثال قائم کرتے۔ میجر شجاعت کی طرح امر ہو جاتے، حوالدار مبین بن جاتے، صوبیدار لیاقت جیسی شجاعت دکھا دیتے۔بعد میں کتابیں لکھ کر ٹارزن بننے سے تو بہتر ہوتا

موقع پر کچھ کیا ہوتا۔ بے سروسامانی کے اس عالم میں ان افسران اور جوانوں نے شجاعت کی ایسی داستانیں رقم کیں کہ کوئی اور قوم ہوتی تو ان پر درجنوں فلمیں بن چکی ہوتیں۔ہمیں تو یہ بھی معلوم نہیں مشرقی پاکستان میں جان قربان والے میجر اکرم نشان حیدر کی قبر آج کس حال میں ہے۔ہم تو البدر کو بھی بھول گئے۔ہم نے اپنی اجتماعی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے جنرل نیازی کو نشانے پر رکھ لیا۔اور یوں ایک رسم سی چل پڑی۔لیکن میں اس رسم سے اعلان بغاوت کرتا ہوں۔میرے نزدیک جنرل نیازی بزدل نہ تھا۔بز دل ہم ہیں جو آج تک سچ نہیں بول پا رہے۔ جنرل نیازی اور اس کے سپایہیوں کو مقتل میں بھیج کر نہ ہم انہیں ہتھیار دے سکے، نہ ان تک راشن پہنچا سکے، نہ ان کی فضائی مدد کر دکے، نہ ان کا بحری محاصرہ توڑ سکے، نہ مغربی پاکستان سے بھارت کو دباؤ میں لا سکے، نہ مسئلے کا سیاسی حل تلاش کر سکے، نہ اس کا سفارتی حل ڈھونڈ پائے اور طعنے دینے کے لیے بھی ہم نے انہی کو چن لیا جو مقتل میں لہو کے چراغ جلاتے رہے۔ان کی مائیں یہاں ان کی واپسی کی دعائیں کر رہی تھیں ن جنرل نیازی نے ان حالات میں ان کی واپسی کو یقینی بنایا تو کیا غلط کیا؟ مسئلہ وہی ہے۔ دو فقروں کے بعد ہم ہانپ جاتے ہیں اور سانس پھول جاتی ہے۔پھر معاملے پر مٹی ڈالنے کیلئے ہمیں قربانی کے کسی بکرے کی تلاش ہوتی ہے۔ جنرل نیازی کو بھی ہم نے قربانی کا بکرا بنا لیا۔ہے کوئی ہم سا ؟

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *