صف اول کے صحافی کا حیران کن دعویٰ

لاہور (ویب ڈیسک) مولانا خادم رضوی کوئی کرشماتی شخصیت کے مالک نہیں تھے ، وہ نہ صرف بیماری کی وجہ سے نچلا دھڑ استعمال نہیں کرسکتے تھے بلکہ سوشل میڈیا پر ان کی وائرل ہونے والی ویڈیوز میں سخت کلامی بھی عام ملتی تھی مگر اس کے باوجود آج کے نظریاتی اورمسلکی مخالفین بھی کہہ رہے ہیں

نامور کالم نگار نجم ولی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کہ وہ حقیقت میں عاشق رسول تھے اورانہوں نے جس طرح ختم نبوت اور حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر پہرا دیا اس طرح آج کے دور میں کوئی دوسرا نہیں دے سکا اور اس سے بڑی گواہی اور اس سے بڑا اعزاز کو ئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔میں اپنی تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے اس امر سے مکمل اتفاق نہیں کرتاکہ ہمارے جنازے ہی ہمارے کردار کی گواہی ہیں مگر میرے پاس اس سے ہٹ کر کوئی دوسری گواہی اور کوئی دوسرا پیمانہ بھی نہیں ہے۔ رب پر ایمان،نبی سے محبت اور تقوے کا عروج ہم اسکے سوا کیسے جانچ سکتے ہیں کہ خلق خداکیاکہتی ہے۔ مولانا خادم حسین رضوی کاجنازہ لاہورکی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا، سب سے بڑا اجتماع تھا جہاں لوگوں کو لانے کے لئے کسی ٹرانسپورٹ کا بندوبست نہیں کیا گیا تھا،یہ جنازہ تھا جہاں سیاسی دھرنوں کی طرح لڑکیاں اورہلہ گلہ بھی نہیں تھا اور نہ ہی ان کیلئے بریانی کی دیگیں پکی ہوئی تھیںمگرلوگ اس رشتے کے ساتھ آئے تھے جس رشتے کی بنیاد محض اورمحض دین تھا، رسول اللہ کی محبت تھی۔ یہ کہا جارہا ہے کہ مولانا نے سابق دور میں اسٹیبلشمنٹ کے مقاصد کی تکمیل کی ، جہاں ختم نبوت کے ایشو کو کھڑا کیا وہاں عام انتخابات میں نواز لیگ کوقومی اسمبلی کی کم از کم تیرہ نشستوں سے محروم کردیاکیونکہ سیاسی اور غیر سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق ان کے ساتھ آنے والا ووٹر نواز لیگ کا ہی تھا۔ حوالے کے لئے

راولپنڈی میں شاہد خاقان عباسی کا احوال پڑھ لیجئے مگر دوسری طرف جب میں نے ان کا حالیہ دھرنا دیکھا جس میں ان پر ہونے والا انتظامیہ کا دھاوا تنا خوفناک تھا کہ ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی تومیرا دل چاہا کہ میں گواہی دوں کہ وہ اپنے نظرئیے اور مقصد کے ساتھ کمٹڈ تھے ورنہ مقتدر حلقے کب چاہتے تھے کہ وہ دھرنے دیں مگرمولانا اپنے مقصد کی خاطر ڈٹ گئے۔ ان کے مو¿قف میں اتنی کلئیریٹی تھی، اتنا دوٹوک تھا جس سے حکمرانوں کی خوشامد اور طاقت وروں کی اطاعت کی راہ پر چلنے والے بہت سارے دوسرے دینی سیاسی رہنما محروم ہیں۔اگر آپ نے مولانا خادم رضوی مرحوم کے جنازے میں ان کے صاحبزادے اور نئے مقرر ہونے والے امیر سعد رضوی کو دیکھا اور سنا ہے توانہوں نے لاکھوں لوگوں سے حلف لیا ہے کہ وہ ان کے والد کے نظرئیے کی پاسبانی کریں گے۔ میں مولانا خادم رضوی کے جنازے کو دیکھ رہا ہوں اور اپنے کالم کا عنوان ’الوداع مولانا خادم حسین رضوی ‘سے تبدیل کر کے ’مولانا خادم حسین رضوی آ گئے ‘کر رہا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ آپ مذہب کو پاکستان کی سیاست سے باہر نہیں کر سکتے بلکہ پنجاب کا حال یہ ہے کہ اس کی نمائندہ تین بڑی جماعتوں میں سے دو سنٹر رائیٹ کی ہیں تو تیسرا بڑا ووٹ بنک انتہائی دائیں بازو کا نکل آیا ہے ۔ عام انتخابات کے نتائج اور یہ جنازہ بتا رہا ہے کہ مولانا خادم حسین رضوی گئے نہیں ہیں بلکہ ابھی تو وہ آئے ہیں، دیکھنا صرف یہ ہے کہ ان کے صاحبزادے کس حد تک اپنے والد کے جھنڈے کو بلند رکھ سکتے ہیں اور مولانا کا یہ لہراتا ہوا جھنڈا بہت سارے سیکولر اور دین دشمن طبقوں کے لئے ایک ڈراو¿نا خواب ہوسکتا ہے۔ 

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *