صف اول کے صحافی کا خصوصی تبصرہ

 لاہور (ویب ڈیسک) وزیراعظم پاکستان عمران خان کے حوالے سے خبر یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنی کابینہ اور تمام انتظامی امور اور اس سے متعلق یا اس سے جڑے افراد کے حوالے سے اور ان کی کارکردگی کے متعلق کسی بھی قسم کی رعایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نامور کالم نگار نصرت جاوید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ 2018 سے حکومت کے قیام کے بعد  آج 2020 کا دسمبر سر اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے اور اس کے اختتام پر وزیر اعظم نے ایک نئی سوچ متعارف کرنے کا فیصلہ کیا ہے یہ فیصلہ درحقیقت اپنے سوئے ہوئے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کو جگانے کی کوشش ہے جس سے کسی بہتر نتائج کی توقع نہیں کی جاسکتی کیونکہ ایک لمبا عرصہ پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی اپنے دفتروں اور اپنے محلات میں ضائع کر چکے ہیں وہ عوام سے اتنا دور جا چکے ہیں کہ اب کسی بھی قسم کا کا نو کمپرومائز انہیں واپس نہیں لا سکتا۔ آج پاکستان تحریک انصاف کے وہ لوگ جو عوام کے ساتھ رہتے ہیں انہیں یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ وہ آئندہ عام انتخابات  میں عوام کا سامنا کیسے کریں گے اور انہیں یہ فکر ہے کہ وہ مشکل ہوتی ہوئی زندگی کے مسائل لے کر کیسے عوام کے سوالات کا جواب دیں گے۔ اس صورتحال میں وزیراعظم کی طرف سے سے سے نو کمپرومائز کی یہ حکمت عملی کارگر ثابت نہیں ہو سکتی بلکہ اب تو سیاسی صورت حال یہ بن چکی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے وہ تمام لوگ جو معاونین خصوصی ہیں یا مشیران ہیں یا کابینہ کے وہ لوگ جو براہ راست عوام کے ساتھ تعلق نہیں رکھتے ہیں وہ ایک لہر میں الیکشن جیتنے میں کامیاب ہوئے لیکن یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ایسے افراد کی اکثریت اپنی زندگی کا پہلا اور آخری الیکشن 2018 میں جیت چکی ہے۔

اب وزیراعظم کی طرف سے اراکین اسمبلی کو جگانے کی ایک کوشش ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمیاں یہ ثابت کر رہی ہیں کہ ملک میں جمہوری جدوجہد جاری ہے اب یہ غلط ہے یا درست اس کا فیصلہ تو بعد میں ہوگا لیکن پارلیمانی جمہوریت میں حزب اختلاف کی جماعتیں ہیں یہی رویہ اختیار کرتی ہیں پاکستان کی سیاسی تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ اپوزیشن جماعتیں کسی بھی حال میں کسی بھی دور میں  خوش یا مطمئن نہیں ہوتیں۔ گوکہ ایسی ہر جدوجہد کا ملک و قوم کو نقصان ہوتا ہے لیکن اس نقصان کے بارے کون سوچتا ہے۔ سیاستدان اپنے فائدے اور نقصان کو دیکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ آج اگر ہم اپوزیشن جماعتوں کو اس مقصد  یا ان کی اسی ضرورت کو دیکھتے ہیں یا ملک و قوم کے اس نقصان کو دیکھتے ہیں تو پھر ہمیں یہ کہنا پڑتا ہے کہ انہیں اس حد تک یا اس سطح تک لانے میں حکومت بھی برابر کی ذمہ دار ہے۔ وزیراعظم پاکستان کا غیر لچکدار  رویہ سیاسی جماعتوں  کو اس اس حد تک لے آیا ہے کہ وہ کسی کی بات سننے کو تیار نہیں اور وہ سخت رویہ کا جواب بھی سخت اور غیر لچک والے رویے سے دے رہے ہیں۔ حالانکہ دونوں یہ جانتے ہیں کہ کہ اتنے سخت اور غیر ذمہ دارانہ رویے یا اتنی سختی  سے فائدہ کسی کا نہیں ہوگا شاخیں دونوں کی کٹ جائیں گی۔ نقصان ملک و قوم کا ہوگا لیکن یہ حقیقت جاننے کے باوجود بھی

نہ تو پاکستان تحریک انصاف اپنا رویہ بدلنے پر تیار ہے اور نہ ہی حکومت ان کی کوئی بات سننے کے لیے تیار ہے۔ اس لیے یہ کہنا مشکل نہیں ہے کہ دونوں اپنے اپنے مفادات نعت یا اپنے سیاسی مستقبل کو دیکھتے ہوئے قوم کے مستقبل اور غریب عوام کے مستقبل کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ گوکہ حکومت چلتی رہے گی  اپنے پانچ سال پورے کرے گی لیکن یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ اس کی قیمت کون ادا کرے گا اس کی قیمت سیاستدان ادا کریں گے یا پھر اس ملک کے بائیس کروڑ عوام ادا کریں گے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ میں شامل سیاسی جماعتیں ہیں استعفوں کی طرف بڑھ رہی ہیں ہیں اور پی ایم ایل این کے تین اراکین تین اپنے استعفے پیش کر چکے ہیں لیکن آنے والے دنوں میں جب مارچ میں سینیٹ انتخابات بھی ہونے ہیں تو سنجیدہ اور سمجھدار اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اپنے استعفوں کا فیصلہ حالات اور وقت دیکھ کر کریں گے البتہ وہ جو خاندانی سیاست یا خاندانوں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں وہ کسی بھی وقت کسی کے آنکھ کے اشارے سے استعفی دے سکتے ہیں لیکن دیگر سیاسی کارکنوں کے لیے ایسا کرنا مشکل ہوگا۔ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ استعفوں کے لیے جنوری کا آخری یا فروری کے پہلے ہفتے کا انتخاب کر سکتی ہے تاکہ وہ  سینٹ کے انتخابات کے راستے میں رکاوٹ پیدا کر سکیں۔ اس صورتحال میں پاکستان تحریک انصاف کے لیے لیے سنجیدہ دہ مسائل ہوں گے کیا یہ بہتر نہیں کہ حکومت اپنا رویہ تبدیل کرے اور پارلیمنٹ میں موجود جماعتوں کے ساتھ بامقصد اور بامعنی گفتگو کا آغاز کرے وہ مولانا فضل الرحمان سے بات نہیں کرنا چاہتے نہ کریں لیکن ان کے لوگ تو اسمبلی میں موجود ہیں اس لئے تصادم سے بچنا اور سیاسی تصادم کو روکنا پاکستان تحریک انصاف کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

Comments are closed.