صف اول کے صحافی کا خصوصی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) عمران خان اور ٹرمپ دونوں میں عجلت ، بدگوئی اور اپنے مخالفوں پر تند وتیز جملے پھینکنے کی عادت مشترک ہے۔ دونوں نے اپنے مخالف رہنمائوںکے لئے ایسے ناپسندیدہ، متنازع جملے کہہ رکھے ہیں جن کا کسی بھی مہذب سیاسی کلچر میں جواز موجود نہیں۔ ٹرمپ میڈیا سے نفرت کرتے تھے،

نامور کالم نگار محمد عامر خاکوانی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ اگرچہ فاکس نیوز گروپ ان کی حمایت میں کھڑا رہا۔ عمران خان بھی میڈیا سے نفرت کرتے ہیں، حالانکہ میڈیا کے بڑے حصے نے ان کی غیر مشروط حمایت کی اور جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ اپنی ٹیم میں مسلسل تبدیلیاں کرنا اور کلیدی عہدوں پر فائز ساتھیوں کو نکالتے وقت عزت نہ دینا بھی مشترک عنصر ہے۔ ٹرمپ کے کئی اہم ساتھیوں کو اپنی برطرفی کا ٹوئٹ یا میڈیا سے پتہ چلتا۔ ہمارے ہاں بھی ایسا ہی معاملہ ہے۔ پنجاب کے صوبائی وزیراطلاعات کی تبدیلی حال ہی میں ہوئی، انہیں رپورٹروں سے پتہ چلا ۔ اپنی کہی بات کو قطعی اور’’ عالمگیر سچ ‘‘سمجھنا بھی کامن فیکٹر ہے۔ ٹرمپ کا اپنی ذات کے بارے میں یہی خیال تھا، ہمارے خان صاحب بھی ایسا ہی کچھ سمجھتے ہیں۔ نرگسیت پسندی کے باعث یہ ہوتا ہے۔ ایسا انسان اپنے وجود سے اتنی محبت کرنے لگتا ہے کہ خامیاں نظر سے اوجھل اور خوبیاں منظر پر چھا جاتی ہیں۔اس کے برعکس سیاسی مخالف شر اور برائی کا پیکر لگتے ہیں۔ عمران خان اور ٹرمپ میں بہت کچھ ایک دوسرے سے قطعی مختلف بھی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ اعلانیہ قسم کے نسل پرست ہیں۔ ان کی انتخابی مہم پر بھی وائٹ مین سپرمیسی (سفید فام کی بالا دستی)کے اثرات نمایاں رہے۔عمران خان کی سیاست میں نسل پرستی یا قوم پرستی کے جذبات موجود نہیں۔ ٹرمپ کی تیز زبان کا نشانہ امریکی معاشرے کے کئی طبقات بنے۔ٹرمپ تارکین وطن پر گرجتے برستے رہے،اسلاموفوبیا کا شکار نظر آئے،

میکسیکو سے آنے والوں پر تیر برساتے رہے، خواتین ان کے خاص کرم کا نشانہ بنیں، ٹی وی اینکرز کے حوالے سے نہایت معیوب جملے کہہ ڈالے۔ایسی باتیں جن کا دفاع کرنا ممکن نہیں تھا۔ عمران خان کے زبانی اٹیکس کا ہدف سیاسی نظام، سٹیٹس کو کی روایتی سیاست کرنے والی جماعتیں اور شریف ، زرداری خاندان بنے ۔عمران خان نے کسی خاص ، نسلی، علاقائی طبقے کی نمائندگی کی نہ کسی کو نشانہ بنایا۔ وہ معاشی اعتبار سے بھی کسی خاص طبقے کے نمائندہ یا مخالف نہیں۔ عمران کی سیاست طبقاتی کشمکش سے بے نیاز ہے۔ ان کی فکر میں لگتا ہے یہ اہم نکتہ مسنگ ہے۔ بھٹو صاحب نے نیشنلائزیشن کر کے صنعت کاروں، سرمایہ داروں کو زبردست دھچکا پہنچایا۔ مزدوروں، کسانوں میں انہیں خاصی پزیرائی ملی، دیہی ووٹ بینک ان کے جانے کے تین چار عشروں بعد تک پارٹی سے جڑا رہا۔پیپلزپارٹی نے ہمیشہ دل کھول کر ملازمتیں دیں، اگرچہ میرٹ ہر بار تہس نہس ہوا۔سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھائی جاتی رہیں۔ گندم کی امدادی قیمت کو تقریبا ً دوگنا کیا گیا اور دس بارہ سال تک اضافی گندم ملتی رہی۔بھٹو اور پیپلزپارٹی کے برعکس نواز شریف صاحب صنعتکاروں، تاجروں کے نمائندہ سمجھے جاتے رہے۔ ہمیشہ بزنس فرینڈلی بجٹ دئیے،ان کے ادوار میںسرکاری ملازمتوں پر بیشتر بین رہا، شہروں میں میگا پراجیکٹ بنے ۔ عمران خان صاحب خیر سے دونوں طبقات(صنعت کاروں، کسانوں)کے لئے تباہ کن ثابت ہوئے۔ دونوں برباد ہوئے۔ ملیں بند ہوئیں،مزدور بیروز گار جبکہ کسان بھی رُل گئے ۔ عمران خان ٹرمپ کے برعکس تارکین وطن کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں،

انہوں نے افغان مہاجرین کو شناختی کارڈ دینے کی بات کی۔ عمران مذہبی اعتبار سے رائٹ کی طرف جھکائو رکھتے ہیں، ریاست مدینہ کو رول ماڈل قرار دیتے ہیں، مگر انہوں نے کسی مذہبی اقلیت کے خلاف کبھی بات نہیں کی۔ٹرمپ نے اپنی ناقد خواتین پر گھٹیا حملے کئے، خواتین اینکرز اور رپورٹرز کی تضحیک کی ۔ٹرمپ کے برعکس خواتین کے حوالے سے خان کا رویہ بہت شائستہ اور مہذب رہا۔ اپنی سیاسی مخالف خواتین کے بارے میں عامیانہ بات نہیں کی۔ ناقدین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ سابقہ بیوی ریحام خان کی نہایت گھٹیا مہم کے باوجود عمران خان نے ایک بھی جوابی جملہ نہیں کہا۔ یہی مثبت رویہ جمائمہ کے حوالے سے اختیار کیا۔ صدر ٹرمپ اور عمران خان میں ایک بڑا ، جوہری نوعیت کا فرق ہے ۔ ٹرمپ نے اپنے ایجنڈے پر خاصی حد تک عمل کیا۔ خاصی حد تک ڈیلیور کیا۔ ٹرمپ ناتجربہ کارتھا، کئی بلنڈر کئے، کانگریس، میڈیا، عدالتوں ، پینٹاگون اور کئی دیگر اداروں کے ساتھ پنگے کئے۔ امریکی معیشت بہتر کرنے میں وہ مگرکامیاب رہا۔ ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ تارکین وطن کو ٹف ٹائم دوں گا اور مقامی امریکیوں کے لئے روزگار کے مواقع کھولوں گا۔ اس پر عمل کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اپنی تمام تر نالائقیوں، بدزبانی، جھگڑے اور کورونا وبا کے دوران بیڈ گورننس کے باوجود ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو ساتھ جوڑے رکھا۔ سات کروڑ سے زیادہ انہوں نے ووٹ لئے ، جس کی مثال نہیں ملتی۔ ٹرمپ کے حامی دیوانہ وار اس کے لئے نکلے ۔ ٹرمپ کو جتنی بڑی مخالفت کا سامنا تھا، کورونا وبا میں اموات کا عظیم بوجھ اس کے کندھوں پر تھا، کوئی اور ہوتا تو اپنے دس پندرہ فیصد ووٹ سے ہاتھ دھو بیٹھتا۔ ٹرمپ نے اپنا ووٹ بینک بڑھایا۔ اس کے مخالفین متحد تھے،غیر جانبدار ووٹرمخالفین سے جڑگئے ، ورنہ ٹرمپ کوہرانا آسان نہیں تھا۔ یہاں پر عمران خان بالکل مختلف انسان نظر آتے ہیں۔ اپنے سوا دو برسوں میں انہوں نے ڈیلیور نہیں کیا،عوام شدید مایوس اور فرسٹریٹ ہیں۔ عمران اپنے حامیوں کو ایک لالی پاپ تک نہیں دے سکے ، جس سے وہ لطف اٹھاتے۔ ٹرمپ کو امریکی اسٹیبلشمنٹ ناپسند کرتی تھی، اس کی خواہش تھی کہ ٹرمپ الیکشن نہ جیت سکے، ممکن ہے کہیں تھوڑا بہت عملی کردار بھی ادا کیا گیا ہو۔ عمران خان الیکشن سے پہلے اور بعد میں اسٹیبلشمنٹ کے فیورٹ رہے ہیں۔آئندہ بھی نہیں لگتا کہ عمران ازخود فاصلہ پیدا کریں گے۔ ٹرمپ کی نرگسیت پسندی آخر انہیں کھا گئی۔ عمران خان کی نرگسیت پسندی میں اسٹیبلشمنٹ کی حد تک عملیت پسندی کاعنصر موجود ہے۔ لگتا ہے یہی فیکٹر ان کی بقا کا ضامن ہوگا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *