صف اول کے صحافی کی ناقابل یقین پیشگوئی

لاہور (ویب ڈیسک) ایک نواب صاحب دسمبر کے مہینے میں ململ کے کُرتے میں صبح کی چہل قدمی کو نکلے ،ان کے ایک ملنے والے نے پوچھا ،اتنی سخت سردی میں آپ لان کےکپڑوں میں چہل قدمی کے لئے نکلے ہیں ،آپ کوسردی نہیں لگ رہی ہے؟توانہوں نے دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے

نامور کالم نگار خلیل احمد نینی تال والا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں سمیٹتے ہو ئے فرمایا، بھائی سردی تو نہیں لگ رہی ،مگر یہ کم بخت کپکپی نہیں جا رہی ۔ کچھ ایسی ہی حالت پی ٹی آئی حکومت کی دکھائی دےرہی ہے۔جب سے پی ڈی ایم نے گوجرانوالہ میں اپنا جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کیا ۔ایک طرف اجازت بھی دے دی تو دوسری طرف شیخ رشید ترجمان اعلیٰ پی ٹی آئی نے پریس کانفرنس بھی کرڈالی اور کہا کہ دسمبر کے بعد شین (ن)سے غائب ہو جائے گا اور پی ٹی آئی حکومت کو کچھ نہیں ہو نے جا رہا ۔سب ٹھیک ہے ، یہ حضرت کبھی کبھی مشکوک قسم کی با ت بھی کرنے کے ماہر ہیں اور میڈ یا پر بہت مقبول ہیں اکثر تو وہ وزیر ریلوے ہر گز نہیں لگتے۔ ہر دور کے یہ ہر د ل عزیزفرزندِ لال حویلی پی ٹی آئی کے اصلی تے وڈے ترجمان لگتے ہیں۔کبھی کہتے تھے، خان صاحب تم ایک تانگے کی سواری سے زیا دہ تو کچھ نہیں ہو ،جواب میں خان صاحب فرماتے تھے،اے اللہ مجھے شیخ رشید جیسا سیاست دان نہ بنانا ۔یہ اس وقت کی بات ہے جب دونوں کے پاس 1،ایک سیٹ تھی،مگر اللہ کی شان آج حالات کیا بدلے، شیخ رشید مع اپنی عوامی مسلم لیگ کو تو بھول ہی چکے ہیں ،اپنی پوری سیا ست پی ٹی آئی کی جھولی میں ڈال کر اپنا وقت گزار رہے ہیں ۔ رہی وزارت اور ریلوے دونوں ہی تبدیلیوں کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں ،اکثر ایک آدھ فوٹو سیشن خان صاحب سے کروا کے اپنا حق ادا کر رہے ہیں

جس دن انہوں نے محسوس کیا یا پھر اوپر والوں کی نظر کرم خان صاحب سے ہٹی تو قوم دیکھے گی ان کی چھلانگ ایسے لگے گی کہ جیسے جانتے نہیں، پہچانتے نہیں۔شیخ رشید نے ضیا ء الحق سےلے کر نواز شریف پھر پرویز مشرف کے بعد دوبارہ نواز شریف کا دروازہ کھٹکھٹایا ،مگر جب اندر سے جواب نہیں آیا تو عمران خان کی پی ٹی آئی سے ناطہ جوڑ لیا دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت تھی۔ ایک اندھا دیکھ نہیں سکتا تھا،دوسرا لنگڑا چل نہیں سکتا تھا ،سو ایک دوسرے پر سوار ہو کر نئی منزل کی طرف نکلے قسمت اچھی تھی۔حلقوںکو دونوں بھا گئے ۔اگر چہ ناکام ترین ثابت ہو چکے ہیں ،مگر ابھی تک اپوزیشن مل کر کچھ نہیں کر سکی ۔البتہ جے یو آئی کے مولانا فضل الرحمٰن 28مہینوں کی دن رات محنت کے بعد میاں نواز شریف کو اُن کی صاحب زادی مریم نواز کے ذریعے شیشے میں اتارنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔اس کی وجہ بھی اب لندن جانے والی غلطی خود ان کے گلے میں آچکی ہے۔خودوہ آنہیں سکتے ،وجہ بھی قوم کو معلوم ہے ۔ علاج بھی نہیں کروایا، 6ماہ آرام کر لیا اب ان کی جگہ لینے کے لئے مریم صاحبہ کو میدان میں اتا را گیا ہے۔اب پی ٹی آئی کا نعرہ گھبرانا نہیں ہے خود گھبرا گیا ہے کہ مولانا سے پوچھا جا رہا تھا کہ آپ جلسہ گاہ تک کیسے آئیںگے اور خدا بھلا کر ے جاتی امرا عرف عام رائیونڈ والی نواز شریف کی رہائش گاہ سے باہر جانے والے راستےبھی کنٹینروں سے بند کر دئیے گئے تھے ۔دیکھا جائے تو

پنجاب میں ووٹ بینک میاں نواز شریف کا ہی ہے۔پی پی پی تو اضافی نفری ہے،بلاول بھٹو ابھی تک پنجاب میں مقبولیت حاصل نہیں کرسکے اور نہ ہی پی پی پی کا ووٹ بینک بچا ہے ۔ بقایا 6جماعتیں وہ کھانے کی میز پر منہ میٹھا کرنے کے لئے سجائی جاتی ہیں۔اتفا ق سے سارے بڑے نیب میں اپنی اپنی پیشیاں بھگتانے میں لگے ہوئے ہیں اور باہر والے آوازیں لگارہے ہیں ۔ہم این آر او نہیں دیں گے ۔ا ن سے بھلا کوئی پوچھے کسی ایک نے بھی این آر او مانگاہے۔وہ تو ڈھائی سال میں دیکھتے دیکھتے پی ٹی آ ئی کی کمزوریوں ،نادانیوں اور ناکامیوں سے فائدہ اٹھا کر اب ان پر تقریباََسوار ہونے کو ہیں ۔خود پی ٹی آئی کی اکثریت یہ محسوس کر چکی ہےکہ اتنی جلدی تو آج تک کسی سیاسی جماعت نے عوام کا اعتماد نہیں کھویا جتنی جلدی پی ٹی آئی اور عمران خان بحیثیت وزیر اعظم مقبولیت کی انتہا ء چھوکر اب تیزی سے گراف نیچے جا رہا ہے کہ سنبھالے نہیں سنبھل رہا ۔یہ جلسہ اپوزیشن کے لئے یوٹرن ثابت ہو سکتا ہے، عوام کا موڈ لاہور کا جلسہ طے کرے گا کہ پی ٹی آئی کتنی مقبول ہے اور وزیر اعلیٰ بزدار کا بھی امتحان ہو جائے گا۔جب سے نواز شریف کی تقریر ہوئی ہے، مالی بدعنوانی کی گردان پس منظر میں چلی گئی ہے اور غداری و بغاوت پیش منظر پر آ گئی ہیں، اِس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بدعنوانی کے الزامات کو ایک ہی تقریر کی آندھی اُڑا لے گئی اور یہ خیال بھی باطل ثابت ہو گیا ہے کہ تقریر ٹی وی پر چلنے دو، نواز شریف خود ہی ’’ایکسپوز‘‘ ہو جائے گا۔ابھی ’’ایکسپوژر‘‘ کا عمل شروع ہی ہوا تھا،اس پر تو اظہارِ مسرت ہونا چاہئے تھا کہ لوگ حکومت کے بقول نواز شریف کی حقیقت جاننا شروع ہو گئے، لیکن اس کے برعکس حکومت کے اوسان خطا ہونا شروع ہو چکے ہیں ۔نوازشریف نے ابھی تین تقاریر ہی کی ہیں کہ اقتدار کے ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی ہے اور حکومت کے ترجمانوں کو نوازشریف کے خلاف بیانات دینے پر لگا دیا گیا ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *