صف اول کے میڈیا گروپ کا خصوصی سیاسی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی خاور گھمن اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے مزید جلسوں کیساتھ 31 جنوری تک اپنی تحریک میں مزید تیزی لانے کا اعلان کردیاہے۔ اپوزیشن نے لاہور جلسے میں وزیر اعظم عمران خان کو 31 جنوری تک کا وقت دیا ہے کہ وہ استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں

تا کہ نئے انتخابات کرائے جا سکیں۔ پی ڈی ایم قیادت کا خیال ہے اس وقت تک اپنی مہم کو اس نہج پر پہنچا دیں گے کہ وزیر اعظم کے پاس مستعفی ہونے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہے گا۔دوسری جانب دبائو میں آنے کی بجائے بظاہر وزیر اعظم کی خود اعتمادی میں مزید اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اپنے حالیہ انٹرویوز میں انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ وہ اپوزیشن کے استعفوں کو منظور کرنے میں بالکل دیر نہیں لگائیں گے اور فوراً ضمنی انتخابات کروا دیں گے۔ وزیر اعظم کا مزید کہنا تھاکہ اگر اپوزیشن استعفے دے دیتی ہے تو ان کی حکومت مزید مضبوط ہو جائے گی تاہم انہیں یہ یقین بھی ہے کہ اپوزیشن استعفوں کا راستہ ہر گز نہیں اپنائے گی۔ اس صورتحال میں ملین ڈالر سوال یہ ہے کہ وزیراعظم کی بڑھتی خود اعتمادی کے پیچھے ممکنہ محرکات کیا ہو سکتے ہیں؟ ویسے تو ماضی میں ہر جانے والی حکومت یہی کہتی رہی ہے کہ ان کے اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں، تاہم تحریک انصاف حکومت کے اعتمادکو دیکھا جائے تو یہ ضرورت سے کچھ زیادہ ہے۔شہرِ اقتدار کے اہم سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اور مقتدرہ کے درمیان ابھی تک کوئی تنائو نہیں اور یہی وہ سب سے بڑی وجہ ہے جس نے وزیر اعظم کو اس قدر پُر اعتماد رکھا ہواہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کو اڑھائی سال ہونے کو ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی کی ہر حکومت میں اتنے وقت کے بعد سرکار اور مقتدرہ کے درمیان اختلافات کی

خبریں زبان زد عام ہوتی تھیں لیکن سردست ایسا کچھ نہیں۔ دونوں اطراف سے جب بھی بات چیت کا موقع ملا گرمجوشی دیکھی گئی اور ایک مشترکہ جواب سننے کو ملا کہ ’’ایک پیج‘‘ سے ہٹنے کے لیے معقول اختلافی وجہ کا ہونا ضروری ہے، خوش قسمتی سے جس کا ابھی تک وجود نہیں۔ نواز شریف اور فوج کی مخالفت کی بنیاد ہمیشہ نواز شریف کا بھارت کی جانب لچکدار رویہ بنا تو پیپلز پارٹی کو راولپنڈی کو ا عتماد میں لیے بغیر آزاد خارجہ پالیسی کی خواہش لے کر ڈوبتی رہی۔ یہاں تو ابھی تک ایسا کچھ نہیں، جو ہو رہاہے باہمی مشاورت سے ہو رہاہے۔  حکومت کا خارجہ اور دفاعی پالیسیوں پر مؤقف پہلے دن سے واضح ہے ، ایک انتہائی سینئر سیکیورٹی اہلکار کے مطابق ملکی حالیہ تاریخ میں شائد عمران خان پہلے وزیر اعظم ہیں جنہوں  نے بھارت کے حوالے سے زور دار بیانیہ بنایا اپنایا۔ بھارتی وزیراعظم کو فاشسٹ کہنا اور وہ بھی دنیا کے تمام فورمز پر کوئی معمولی بات نہیں۔ اس کیساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ ہو، افغانستان یا پھر امریکہ سے تعلقات کا معاملہ، سول اور ملٹری قیادت میں کوئی اختلاف رائے نہیں، ہر معاملے پر کھل کر بات ہوتی ہے اور اس کے بعد فیصلوں پر عملدرآمد کیا جاتا ہے۔ ماضی میں سول ملٹری تنائوکی دوسری بڑی وجہ داخلی ایشوز بھی ہوا کرتے تھے 2008 ء میں پیپلزپارٹی کی طرف سے ایک ایجنسی کو سویلین کنٹرول میں لانے کی ناکام کوشش کی گئی تھی تو نواز شریف کے دور میں مشہور زمانہ ڈان لیکس سب کے سامنے

ہے۔ اس وقت کی (ن) لیگ کا دعویٰ تھا کہ وہ ملک میں حالات پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ایجنسیز حکومت کے خلاف کام کرتی ہیں۔اس حوالے سے جب ہم تحریک انصاف حکومت کا طریقۂ کار دیکھتے ہیں تو وہ ماضی کی حکومتوں کے بالکل بر عکس ہے۔ وزیر اعظم ہر موقع پر اداروں کی تعریف کرتے نظر آتے ہیں اور مختلف حکومتی امور میں تحقیقی ا داروں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ مالی چوری اور بدعنوانی پکڑنے کیلئے بنائی جانے والی کمیٹیوں اور کمیشنز میں بھی حساس اداروں کے اہلکاروں کو حصہ بنایا جاتا ہے اور پھر ان کے کردار کو سراہا جاتا ہے۔  تحریک انصاف کے سینئر اراکین مطمئن ہیں تاہم ان کا ماننا ہے کہ مہنگائی اور بڑے پیمانے پر بیروزگاری 2ایسے مسائل ہیں جن پر حکومت کو فوری اور خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ملک اور پارٹی کے مستقبل کیلئے اس کا حل نکالنا ہوگا، مقتدرہ کے مکمل تعاون کے باوجود اگر ہم عوام کو ریلیف نہ دے سکے تو آئندہ انتخابات میں عوام ہماری باتوں پر کان نہیں دھریں گے۔ لوگ ایک ہی سوال کریں گے کہ آپ دیانت دار تھے ، بتائیں آپ کی دیانت داری کا ہمیں کیا فائدہ ہوا؟  حکومت کا سوچنے کا انداز تبدیل ہو سکتا تھا اگر اپوزیشن کا لاہور کا جلسہ بھرپور ہوتا۔ حکومت کو یہ فکر لاحق ہو جاتی کہ عوام نے حکومت کے خلاف پی ڈی ایم کا بیانیہ قبول کرلیا ہے اور وہ سڑکوں پر نکل آئے ہیں لیکن اپوزیشن نے یہ نادر موقع کھو دیا اور (ن) لیگ کے گڑھ میں ایک اوسط درجے کا ہی پاور شو ممکن ہو سکا۔ بیرون ملک بیٹھ کر نواز شریف کی اداروں پر تنقید کو لیگی حلقوں میں بھی پذیرائی نہیں مل رہی ، اس کیساتھ پیپلزپارٹی کے قریبی ذرائع کا کہناہے کہ پیپلز پارٹی سندھ حکومت کی کسی طور قربانی نہیں دے گی جبکہ انہیں اس بات کا بھی اندیشہ ہے کہ یہ قربانی رائیگاں جا ئے گی۔  اس سب جمع تفریق کے باوجود باخبر ذرائع کاکہناہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطے قائم ہو چکے ہیں اور دونوں طرف سے سنجیدہ سیاستدان اس بات پر متفق ہیں کہ معاملات کو اس حد تک نہیں جانا چاہیے جہاں ساراکھیل کسی اور کے ہاتھ میں چلا جائے اور سب کو ایک ساتھ ہی گھر جانا پڑے۔ ہمیں توقع رکھنی چاہیے کہ سیاستدان ماضی کی طرح پھر یہ نوبت نہیں آنے دیں گے، اسی میں ملک اور جمہوری نظام کی بقاء ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.