صف اول کے میڈیا گروپ کے سینئر ایڈیٹر کے انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک)نامور کالم نگار فضل حسین اعوان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ بائوجی!…یہ میاں نوازشریف کی شخصیت ان کی سیاست، خاندان مقدمات اور دیگر امور پر لکھی جانے والی کتاب ہے۔ میاں نوازشریف نے خود سے ابھی تک کوئی کتاب تحریر نہیں کی۔ اپنے بارے میں نہ کسی دیگر یا خاص موضوع پر۔

البتہ ان پر کئی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مطلوب وڑائچ کی ’’بائو جی‘‘ کی ایک خاص اہمیت اور انفرادیت ہے۔ پاکستان میں عموماً کسی بڑی شخصیت کے بارے کتابیں اس کی مدح سرائی یا ہرزہ سرائی میں لکھی جاتی ہیں مگر بائو جی غیرجانبداری سے لکھی گئی۔ جہاں سراہے جانے کی ضرورت ہے وہاں سراہا گیا ہے اور جہاں گرفت کی ضرورت وہاں مصلحت سے کام نہیں لیا گیا۔ کتاب اسی وجہ سے انفرادیت اور امتیاز لئے ہوئے ہے۔ کلثوم نواز کی موت کے حوالے باب قاری کو دکھی کر دیتا ہے۔ مریم نوازشریف کے مصائب کا ذکر بھی دل سوزی سے ملے گا۔ مصنف کی نظر میں میاں نوازشریف آجکل جن مشکلات سے دوچار ہیں‘ وہ عارضی ہیں۔ وہ انہیں قسمت کا دھنی قرار دے دیتے ہیں۔ اپنے تجزیئے میں لکھتے ہیں کہ وہ دوبارہ اقتدار میں آسکتے ہیں۔ ان کی سیاست کا ستارہ پھر چمک سکتا ہے۔ کتاب میں میاں نوازشریف کی کئی حوالوں سے ستائش کی گئی مگر حقائق سے صرف نظر نہیں کیا گیا۔ وہ انہیں روایتی سیاستدان قرار یتے ہوئے لکھتے ہیں کتاب میں کیا کچھ اس کا اندازہ موضوعات دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے۔ جج ویڈیو کیس ‘ روداد سفر‘ دل کا وزیراعظم‘ پانامہ ہنگامہ‘ سزائوں کی معافی‘ جج ارشد ملک کا تہلکہ خیز بیان‘ گاڈ فادرسسیلن ‘ مایوسی کا سفر‘ قائداعظم ثانی ۔میاں نوازشریف کس طرح پاکستان سے باہر گئے۔ اس حوالے سے اپنے ذرائع سے مصنف نے ایک کہانی بیان کی ہے۔ میاں نوازشریف کسی ڈیل کے نتیجے میں گئے یا جو نظر آرہا تھا وہی حقیقت تھی۔

ہماری اطلاعات کے مطابق دونوں موقف یا تھیوریاں درست ہیں۔ حکومت اور میاں نوازشریف کے مابین ڈیل یا سیاسی ایڈجسٹمنٹ 14 ارب ڈالر میں طے پائی۔ اس میں شریف خاندان کی درخواست پر ایک ارب ڈالر کی کمی کردی گئی۔ ہماری معلومات کے مطابق 13 ارب ڈالر میں معاملات طے ہوگئے۔ پاک فوج بھی چاہتی تھی میاں نوازشریف باہر چلے جائیں تاکہ ریاست اور ریاستی ادارے کسی بڑی مخالفت اور رکاوٹ کے بغیر معاملات اور امور جاری رکھ سکیں۔ 13 ارب ڈالر معمولی رقم نہیں ، نہ جانے کیسے جان جوکھوں کے بعد شریف خاندان نے اتنا دھن دولت بنایا اور اس سے محروم ہونا بھی آسان نہیں مگر جان پر بنی ہو تو بہت کچھ ہوسکتا ہے۔ 13 ارب ڈالر کا بندوبست کرلیا گیا۔ اس کے بعد نہ جانے میاں نوازشریف کے ذہن نے کام کیا یا صلاح کار نے مشورہ دیا کہ ’’ڈیل‘‘ کو بریکیں لگ گئیں اور رازداروں کے سامنے ایک نئی تھیوری آگئی۔ کہا جاتا ہے میاں صاحب نے 13 ارب ڈالر میں سے محض ایک ارب ڈالر لگا کر اپنے معاملات سیدھے کرائے۔ ایک ارب ڈالر میں 15 ہزار کروڑ روپے ہوتے ہیں۔ ذرا گننے کی کوشش کریں۔ ایک کروڑ دو کروڑ دس کروڑ سو کروڑ ہزار کروڑ دو ہزار کروڑ اور پندرہ ہزار کروڑ۔ یہ سرمایہ کاری جن لوگوں پر کی گئی انہوں نے میاں نوازشریف کے ملک سے باہر جانے کی بڑی مہارت سے راہ ہموار کردی۔کتاب جمہوری پبلی کیشنز لاہور نے شائع کی۔ یہ کتاب سیاست کے طالبعلموں خصوصی طورپر مسلم لیگ (ن) کے حامیوں کیلئے ایک ریفرنس کا درجہ رکھتی ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *