صف اول کے کالم نگار نے سبق آموز واقعہ بیان کرکے عمران اینڈ کمپنی کی حمایت کر ڈالی

لاہور (ویب ڈیسک) ایک گھر والوں نے ڈرائیور رکھا۔ یہ ڈرائیور بہت بے ایمان تھا۔ پٹرول کے پیسوں میں ہیرا پھیری کرتا۔ سودا سلف لینے جاتا تو بے ایمانی کرتا۔ آہستہ آہستہ اس نے انتہائی قیمتی گاڑی کے پرزے نکال کر فروخت کرنا شروع کر دیے۔ گاڑی ناکارہ ہونا شروع ہو گئی اور رفتہ رفتہ بالکل برباد ہو گئی۔

نامور کالم نگار بلال الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ایک دن جب وہ گاڑی کا آخری قیمتی پرزہ نکال رہا تھا تو مالک نے آکر اسے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ اس کو فوراً نوکری سے نکال دیا گیا۔ پھر ایک انتہائی ایماندار شخص کو ڈرائیور رکھا گیا۔ جب یہ ایماندار ڈرائیور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اور جب اس نے سلف گھما کر گاڑی سٹارٹ کرنے کی کوشش کی تو تباہ حال گاڑی نے سٹارٹ ہونے سے انکار کر دیا۔ اس وقت مالک کا بھائی باہر نکلا اور طنزیہ لہجے میں کہنے لگا: یہ ہے تمہارا ایماندار ڈرائیور، جو گاڑی بھی سٹارٹ نہیں کر سکتا؟اب اس کہانی کے تضادات دیکھیے۔ نیا ایماندار ڈرائیور کوئی انجان شخص ہرگز نہیں تھا بلکہ وہی روز گھر کے مالک کو بے ایمان ڈرائیور کی بے ایمانی کی داستانیں سنایا کرتا تھا۔ اسی نے گاڑی کا پرزہ نکالتے ہوئے بے ایمان ڈرائیور کو رنگے ہاتھوں گرفتار کروایا۔ اس کا کہنا یہ تھا کہ وہ گاڑی کی تباہ حالی سے مکمل طور پر واقف ہے۔ اسے ایک موقع دیا جائے، وہ اسی گاڑی کوصرف بھگائے گا ہی نہیں بلکہ ہوا میں اڑا کر بھی دکھائے گا۔ ایماندار ڈرائیور کا کہنا یہ تھا کہ وہ اسی تباہ حال گاڑی کو چلا کر، لوگوں سے اتنے پیسے اکٹھے کرے گا کہ گاڑی کی تمام خرابیاں بھی دور ہو جائیں گی اور گھر والوں کے سب معاشی مسائل بھی۔ وہ صرف ڈرائیور نہیں تھا بلکہ اس کے بقول اس کے پاس گھر والوں کے تمام معاشی مسائل کا حل بھی موجود تھا۔اب میں آپ سے ایک اور سوال پوچھتا ہوں۔ اگر آپ ایک بے ایمان منیجر اور اس کے انڈر کام کرنے والے تمام بے ایمان ملازمین کو فارغ کر دیں۔ پھر آپ ایک ایماندار منیجر رکھیں اور اسے گھر کے انتظامات ٹھیک کرنے کا ٹاسک دیں لیکن اگلے دن وہ آکر یہ کہے کہ بے ایمان منیجر کا رکھا گیا فلاں بندہ ناگزیر ہے، اسے دوبارہ رکھنا ہوگا۔ مجبوراً آپ اس کی بات مان لیں۔ پھر دوسرے دن بے ایمان منیجر کا دوسرا ملازم رکھنا پڑے۔ ہوتے ہوتے نوبت یہ آجائے کہ پچھلے منیجر کے تمام بے ایمان اور نالائق ملازم اس ایماندار منیجر کے نیچے جمع ہو جائیں تو پھر تبدیلی کس طرف سے آئے گی؟ اس صورتِ حال میں ایماندا ر منیجر آپ کی نظر میں کتنا ایماندا ررہ جائے گا؟ حقیقت یہ ہے کہ قاف لیگ، پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے سارے چلے ہوئے کرتوس تحریکِ انصاف میں جمع ہو چکے ہیں۔ عمران خان کے ذاتی ایماندارانہ تشخص کی وجہ سے لوگ یہ سب برداشت کر تے رہے لیکن یہ دو سال جس طرح گزرے ہیں، اس کے بعد بھی اگر کسی کا حسنِ ظن باقی ہے تو یہ ایمانداری کی نہیں کسی اور چیز کی نشانی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.