صف اول کے کالم نگار کا خصوصی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) بلاول‘ مریم نوا اوزر عمران خان گلگت بلتستان (جی بی) میں انتخابات جیتنے کیلئے پرعزم اور دعویدار بھی ہیں۔ آزادکشمیر میں طویل اور جی بی میں مختصر عرصہ سے حکومت اُسی پارٹی کی بنتی ہے جس کی مرکز حکومت ہو۔ ان علاقوں کے لوگ سیانے ہیں۔ مرکز کے ہم قدم چلتے ہیں

نامور کالم نگار فضل حسین اعوان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔جس کے ساتھ تمام مفادات وابستہ ہوتے ہیں۔ مرکز مخالف پارٹی کو اقتدار میں لا کر یہ لوگ حکومتوں کے دست و گریبان ہونے کا تماشا ہی دیکھ سکتے ہیں۔ مگر یہ لازم اور پتھر پر لکیر نہیں ہے کہ مرکز والی پارٹی ہی میں آزادکشمیر اور جی بی میں جیتے گی۔ کے پی کے میں حکومتی پارٹی کبھی تسلسل سے دوسری بار نہیں جیتی تھی۔ وہاں یہ روایت ٹوٹی تو جی بی میں بھی ٹوٹ سکتی ہے۔ اپوزیشن درست کہتی ہے۔ حکومت کے پلے کیا ہے۔ مہنگائی ‘ بیرروزگاری اور معیشت کی زبوںحالی‘ زور بیاں کیلئے کرپشن اور قرضوں کی انتہا کا بھی الزام لگایا جاتا ہے۔ ن لیگ اور پی پی پی کے پاس جی بی کو دینے کیلئے کیاہے؟ وعدے ہیں‘دعوے ہیں۔ پاکستان اور صوبوں میں یہ پارٹیاں طویل عرصہ حکمران رہی ہیں۔ وہ کونسے دور کا ماڈل جی بی میں پیش کریں گی؟ ان کے پاس ہے کیاجی بی کو دینے کیلئے!کسی کو سائیکل کا پیڈل مل گیا‘ اس نے کہا چلو اس میں سائیکل ڈلوا لوں پھر مزے ہی مزے۔ ایک شخص بڑبڑاتا جا رہا تھا۔ گھر جائوں گا جاتے دیسی گڑ‘ خالص دودھ‘ باسمتی چاولوں کی کھیر بنائوں گا۔ منجی کی’ دون’ پائنتی کس کے اس پر بیٹھ کے انگلی کے ساتھ مزے لیکر کھیر کھائوں گا۔ اس شخص کے ساتھ ایک اور بھی چل رہا اور اس کی خواہش سن رہا تھا۔” بھائی آپ کے پاس ان چیزوں میں سے کیا کیا ہے؟۔‘‘ ’’میرے پاس اُنگلی ہے‘‘ آج اپوزیشن کے پاس فی الحال انگلی ہی ہے۔ اپنی انگلی‘ ایمپائر کی نہیں۔ بہرحال امید پر دنیا قائم ہے۔ پیوستہ رہ شجر سے…عمران خان نے جی بی کو عبوری صوبہ بنانے کا اعلان کیا۔مریم صاحبہ اور بلاول صاحب کو اس پر بڑا ‘وَٹ’ چڑھا ہوا ہے۔مریم کے پاس دینے کیلئے اپنے ابا جی کی تقریروں اور وعدوں کے سوا کچھ نہیں البتہ بلاول پانچ سات سمندری جزیرے گلگت بلتستان کو دے کر وزیر اعظم عمران خان کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ٹرمپ وائٹ ہائوس جمے رہنے کا کہہ رہے ہیں مگر ممکن نہیں معاملہ سپریم کورٹ جائیگا۔ وہاں ایک چیف آف جوائنٹ سروسز تین افواج کے کمانڈر بھی ہیں۔ وائٹ ہائوس کے کچھ فاصلے پر انڈریو Andrew  ایئر بیس بھی ہے۔ جہاں تک وائٹ ہائوس سے الوداع ہونیوالے صدر کوہیلی کاپٹر میں سوار کراکے گھر پہنچایا جاتا ہے۔ ٹرمپ کو بڑے احترام سے وائٹ ہائوس سے نکال دیا جائے گا۔ پھر وہ کہتے پھریں مجھے کیوں نکالا۔ امریکیو! ہورچوپو! دکاندار کو صدر بنائو گے تو سیاست اور جمہوریت میں یہی ’’کمالات‘‘ گھولے گا۔ دکاندار حاکم چیچڑ کی طرح چمٹ جاتے ہیں۔جل جاتے ہیں تتی چمٹی سے بھی الگ نہیں ہوتے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *