صلح کی تین شرائط

وزیر اعظم عمران خان نے ایک غیر ملکی چینل کو انٹرویو میں بتایا تھا کہ حکومت کالعدم تنظیم تحریک تالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے جا رہی ہے تاکہ ملک میں امن قائم ہو سکے۔ان کے بیان کے بعد ذرائع سے معلوم ہوتا رہا کہ مذاکرات میں کتنی پیش رفت ہو رہی ہے۔ اس میں تحریک تالبان کے

قیدیوں کی رہائی کی باتیں بھی سامنے آئیں اور اس کے علاوہ افغان تالبان کے پاکستانی تالبان پر دباؤ کا ذکر بھی ہوتا رہا۔ اس میں افغان تالبان کی جانب سے عبوری حکومت کے وزیر داخلہ اور حقانی نیٹ ورک کے اہم رکن سراج الدین حقانی کا کردار اہم سمجھا جا رہا ہے۔گزشتہ روز قومی سلامتی کے ایک اجلاس کے بعد ایک حکومتی وزیر نے بریفنگ سے متعلق کہا کہ ‘تالبان سے مذاکرات کی تین شرطیں رکھی گئی ہیں، جن میں پاکستان کے آئین کو تسلیم کرنا، ہتھیار پھینکنا اور پاکستان کے شناختی کارڈ بنوانا یعنی اپنی شناخت ظاہر کرنا شامل ہے۔’اس سوال پر کہ کیا تمام تالبان کے ساتھ مذاکرات کیے جا رہے ہیں اور یہ کہ کیا ’ہارڈ کور شرپسندوں ‘ کے لیے بھی مفاہمت کا راستہ کھلا رکھا گیا ہے، انھوں نے کہا کہ ’تمام بارہ گروہوں کے ساتھ مذاکرات ہوں گے۔‘’ان کی تعداد دو ہزار سے پچیس سو کے قریب ہے۔ ان میں شامل وہ افراد جو کسی دباؤ یا معاشی بدحالی کے باعث ان کا حصہ بنے یا ان کے حل طلب تخفظات ہیں تو ہم ان سے بات چیت کر رہے ہیں۔ اگر 80 فیصد ہتھیار ڈال دیں گے تو باقی بیس فیصد کا حل بھی نکال لیں گے۔‘تالبان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات کے اہم نکات میں دونوں جانب سے کمیٹیوں کے قیام پر اتفاق ہوا ہے جو مذاکراتی عمل آگے بڑھائیں گی۔فریقین کی جانب سے ایک ماہ کی یعنی 9 نومبر سے 9 دسمبر تک لڑائی بندی ہو گی جس میں توسیع کی جا سکتی ہے، افغان تالبان ان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہی ہے۔

Comments are closed.