ضمنی الیکشن والے دن ڈسکہ کی دھند میں دراصل کیا کچھ ہوا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حامد میر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ہفتے کی صبح چھ بجے یہ لاپتہ پریذائڈنگ افسران اپنے ریٹرننگ افسر کے پاس واپس پہنچے اور بتایا کہ وہ دھند کی وجہ سے لیٹ ہو گئے تھے۔ کسی کی طبیعت خراب تھی اور کسی نے اپنی عینک گم ہو جانے کا

بہانہ کیا لیکن دھند والے دلچسپ بہانے سے کئی افسانے بن گئے۔ ڈسکہ کی دھند سے برآمد ہونیوالے لاپتہ پریذائڈنگ افسران نے جو کہانیاں سنائیں وہ ایک ایسی دھند کا پتہ دیتی ہیں جو کم ہونے کی بجائے بڑھتی جا رہی ہے دھند کا بہانہ بنا کر کئی گھنٹے تک لاپتہ رہنے والے پریذائڈنگ افسران سے پوچھا گیا کہ ریٹرننگ افسر کی طرف سے آپ کو بار بار فون کئے گئے، کیا فون بھی دھند کی وجہ سے بند تھا؟ بیچارے کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ ہمارے انتخابی عمل نے پہلے محکمہ زراعت کو بدنام کیا اب محکمہ موسمیات کو بدنام کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے این اے 75میں نامعلوم دھند کے باعث کئی گھنٹے تک لاپتہ رہنے والے پریذائڈنگ افسران کی بازیابی کیلئے پنجاب کے چیف سیکرٹری اور اعلیٰ پولیس افسران سے بھی رابطہ کیا لیکن کسی نے الیکشن کمیشن سے تعاون نہیں کیا۔ اس معاملے پر الیکشن کمیشن کی طرف سے 20فروری کو جاری کیا جانے والا بیان صرف پنجاب حکومت نہیں بلکہ وفاقی حکومت کے خلاف بھی ایک چارج شیٹ ہے۔ الیکشن کمیشن کے بیان پر غور کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ جب گریڈ 22کے کسی بڑے افسر کا ضمیر لاپتہ ہو جائے تو گریڈ 21اور گریڈ 20کے پولیس افسران سے لے کر گریڈ 19اور گریڈ 18کے بہت سے سرکاری افسران نامعلوم دھند میں پھنس جاتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی نوکریاں بچاتے بچاتے آئین و قانون کو تباہ کر دیتے ہیں۔ جب آئین و قانون بھی لاپتہ ہو جائے تو پھر عام شہریوں کی نظر میں کسی ادارے کا احترام باقی نہیں رہتا اور جب اداروں کا احترام باقی نہیں رہتا تو پھر قومی غیرت بھی لاپتہ ہو جاتی ہے۔ شکر ہے کہ نامعلوم دھند میں لاپتہ ہونے والے ضمیروں کی تعداد زیادہ نہیں اور پاکستانی قوم متحد ہو کر ان ضمیر فروشوں سے ضرور نجات حاصل کرے گی۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *