طاقتور ترین ملک میں اذان پر لگی پابندی ختم ۔۔۔ملک اللہ اکبر کی صداؤں سے گونج اٹھا

لاہور (ویب ڈیسک) اذان دینے پر یہ پابندی ایک مسیحی جوڑے کی شکایت پر عائد کی گئی تھی کہ اذان سے ان کی مذہبی آزادی میں مداخلت ہوتی ہے تاہم عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اذان کی آواز سننے والوں کے کسی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔مغربی جرمنی کے شہر مونسٹر کی

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مقامی مسجد کو نماز جمعہ کے لیے اذان دینے کی اجازت ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ اوہرایر کنشویک قصبے کی انتظامیہ کی اس اپیل پر سنایا جس میں مسجد کو اذان دینے پر عائد پابندی کے سابقہ فیصلے کو منسوخ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ جج Annette Kleinschnittger نے اپنے فیصلے میں کہا کہ”ہر سماج کو یہ بات تسلیم کرنی چاہیے کہ لوگوں کواس کا علم ہونا چاہیے کہ دوسرے مذاہب کے ماننے والے اپنے عقائد پر کس طرح عمل کرتے ہیں۔”خیال رہے کہ 2018 میں جرمنی میں ایک مقامی عدالت نے مسجد کے قریب رہنے والے ایک مقامی مسیحی جوڑے کی شکایت پر جمعے کی نماز کے لیے مسجد میں اذان دینے پر پابندی لگا دی تھی۔ یہ جوڑا مسجد سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر رہتا تھا۔ اس نے اپنی شکایت میں کہا تھا کہ مسجد کے موذن کے ذریعہ جمعے کے روز لاؤڈ اسپیکر پر دی جانے والی اذان ان کے مسیحی عقائد اور مذہبی آزادی کے منافی ہے۔مونسٹر کی عدالت نے پایا کہ مذہبی آزادی کے قانون کے ایک حصے کی ‘منفی مذہبی آزادی‘ کے طور پر تشریح کی گئی تھی جبکہ یہ قوانین کسی دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے اعتقاد میں مداخلت کا حق نہیں دیتے بلکہ یہ ان کی مرضی کے برخلاف مذہبی امور میں شرکت کرنے کے لیے مجبور کرنے سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔اذان کے خلاف درخواست دینے والے مسیحی جوڑے کے وکیل نے اپنی دلیل میں کہا کہ ان کی شکایت اذان سے پیدا ہونے والے شور پر نہیں بلکہ اذان میں استعمال ہونے والے الفاظ پر تھی۔ درخواست گزار کے وکیل نے اپنے موقف میں کہا، ”اذان کا تقابل کلیسا میں بجنے والی گھنٹی سے نہیں کیا جا سکتا۔ موذن کی اذان میں الفاظ کے ذریعے عقائد کا اظہار کیا جاتا ہے جس کے ذریعے اذان سننے والے کو نماز میں شرکت کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔”

Sharing is caring!

Comments are closed.