عائشہ اکرم دراصل مجھ سے کیا چاہتی ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) ٹاک ٹاکر عائشہ اکرم کو پریشرایز کرنے کے الزام میں گرفتار ملزم ریمبو کا کہنا ہے کہ عائشہ نے نہ جانے کیوں مجھے میڈیا پر بھائی بنایا، مجھے نہیں پتہ کہ گھبرا کر مجھے بھائی بولا۔لاہور کی عدالت کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملزم ریمبو نے کہا

کہ کسی کی جان بچانے کی یہی سزا ملتی ہے، سبق یہی ملتا ہے کہ کسی کا ساتھ نہیں دینا چاہیئے۔ملزم نے کہا کہ 2 ماہ سے عائشہ اکرم کا ساتھ دے رہے تھے، مجھ سمیت گرفتار تمام افراد اس کیس کے گواہ بھی ہیں، منظرِ عام پر آنے والی ویڈیو ایک سال پرانی ہے۔ملزم ریمبو نے مزید کہا کہ عائشہ اکرم مقدمے کے ملزمان سے 5، 5 لاکھ روپے لینا چاہتی تھی، میں نے اسے کہا کہ رقم کے پیچھے نہ بھاگو۔ریمبو کا یہ بھی کہنا ہے کہ سمجھانے پر عائشہ اکرم نے غلیظ زبان استعمال کی، اس نے وارننگ دی کہ اس کے مطابق بیان نہ دیا تو قید خانے کی ہوا کھانی پڑے گی۔ملزم ریمبو نے عائشہ اکرام کے الزامات سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں ہی جانتا ہوں کہ کس طرح عائشہ کو ہجوم سے زندہ لے کر گھر آیا تھا۔واضح رہے کہ مینارِ پاکستان پر خاتون سے بدسلوکی کے واقعے میں اس وقت ٹوئسٹ آیا، جب متاثرہ خاتون عائشہ اکرم نے اپنے دوست ریمبو کو سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا۔ملزم ریمبو پر موبائل فون سے شرمناک ویڈیو چوری کر کے پریشرائز کرنے، مزید ویڈیوز بنانے اور 10 لاکھ روپے بھتہ وصول کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ٹک ٹاکر عائشہ اکرم کا کہنا ہے کہ 14 اگست کو ریمبو نے ہی گریٹر اقبال پارک جانے پر مجبور کیا، ریمبو کے دوست پہلے سے وہاں موجود تھے۔ٹک ٹاکر نے الزام عائد کیا ہے کہ ریمبو نے اسے سیلفیاں بناتے ہوئے رش میں دھکیل دیا، ریمبو کے ساتھیوں نے اسے اچھالنا شروع کر دیا، کپڑے پھاڑ دیئے، زیورات اور نقدی چھین لی۔

Comments are closed.