عابد باکسر کا ایک لیڈی ڈاکٹر سے رشتہ ہوتے ہوتے رہ گیا تھا ، مگر کیوں اور کیسے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی شاہد اسلم بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔پولیس مقابلوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے عابد باکسر کی نجی زندگی بھی متاثر ہوئی۔ ان کے مطابق ’برسرِ روزگار اور والدین کا اکلوتا بیٹا ہونے کے باوجود انھیں کوئی رشتہ دینے پہ راضی نہ ہوتا

بلکہ لڑکی والے ان کا نام سن کر بھاگ جاتے تھے۔‘عابد باکسر نے بتایا ’1997 میں جب میں ایس ایچ او لوہاری تعینات تھا تو ایک روز ایک بڑی اچھی فیملی سے رشتہ آیا۔ لڑکی نے ایم بی بی ایس کیا ہوا تھا، وہ بھی خوش تھے کہ ایک ہی بیٹا ہے، انسپکٹر ہے اور گھر بار بھی ٹھیک ہے۔ میں انھیں پسند آ گیا اور پھر میری منگنی ہو گئی۔‘انھوں نے بتایا کہ ’کچھ روزبعد انھوں نے فون کر کے پوچھا کہ بیٹا آپ کا اصل نام کیا ہے۔ میں نے کہا جی عابد حسین، انھوں نے کہا کہ آپ کو ویسے کیا کہتے ہیں، میں نے کہا جی کہ مجھے عابد حسین ہی کہتے ہیں تو وہ بولے تو بیٹا یہ عابد باکسر کون ہے۔ تب تک میں سمجھ گیا تھا کہ معاملہ گڑبڑ ہے،میں نے جواب دیا کہ میں ہی عابد باکسر ہوں۔ اس پر انھوں نے کہا بیٹا اپنا لائف سٹائل تبدیل کریں اور وہ رشتہ توڑ دیا۔‘’ایک فیملی تو میرے مخافظوں کی تعداد دیکھ کر دروازے سے ہی بھاگ گئی اور دوسری میرا نام سُن کر۔ اس کے بعد جب بھی کوئی فیملی رشتہ دیکھنے گھر پر آتی تو ہم سب سے پہلے ہتھیار وغیرہ چھپا دیتے اور ساتھ ہی دعا کرتے کہ رشتہ ہو جائے۔ جہاں میری شادی ہوئی وہ لوگ جب مجھے پسند کر کے چلے گئے تو میں نے اپنے ماموں کو کہا کہ منگنی کی بجائے نکاح کرتے ہیں ایسا نہ ہو کہ انھیں بھی پتا چل جائے کہ میں عابد باکسر ہوں اور یہ بھی رشتہ ٹوٹ جائے۔‘’انھیں بعد میں پتا تو چل گیا لیکن اس وقت تک نکاح ہو چکا تھا اور ہم نے انھیں اعتماد میں بھی لے لیا تھا کہ بہت سے باتیں بس ویسے ہی عابد باکسر کے ساتھ جوڑ دی گئی ہیں جن میں سچائی نہیں ہے‘۔عابد باکسر کے بقول ’1999 میں ہدایت کار سید نور نے کہا کہ میں آپ پر فلم بنانا چاہتا ہوں اسی طرح مولا جٹ کے پروڈیوسر ملک یونس نے بھی کہا کہ آپ پر فلم بنانا چاہتا ہوں لیکن میں نے دونوں بار منع کر دیا تھا۔‘انھوں نے دعویٰ کیا کہ وہ نوکری پر دو سال قبل بحال بھی ہو گئے تھے لیکن فورس دوبارہ جوائن نہیں کی کیونکہ ان کے بقول وہ ایک اچھا دور گزار چکے ہیں اب واپس آ کر کیا کرنا ہے۔(بشکریہ : بی بی سی )

Comments are closed.