عارضی سیٹ اپ کے پیچھے کیا کہانی ہے ؟ تہلکہ خیز حقائق

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار چوہدری فرخ شہزاد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔دنیا بھر میں ہونے والے انقلابوں اور بغاوتوں کی تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے انقلابیوں کا اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب انہیں اقتدار مل جاتا ہے۔ یاد رکھیں حکمرانی کرنا عوام کی معاشی ضرورت کا تحفظ، پر امن بقائے معاشرہ کے

لیے ہتھیار چلانے سے زیادہ مشکل کام ہے جس کے لیے زور بازو سے زیادہ دماغی بصیرت درکار ہوتی ہے۔اس وقت تالبان پر وہی وقت ہے کہ انہوں نے تاریخ میں اپنے مقام کا تعین کرنا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس چیلنج سے کیسے سرخرو ہوتے ہیں۔ اس وقت دنیا بھر کی نظریں کابل پر ہیں ۔ امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین کے صدر ابراہیم رئیسی نے تالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں عام انتخابات کرائیں اور افغان عوام کی امنگوں کے مطابق وہاں منتخب پارٹی کو اقتدار دیں یہ مشورہ نظریاتی حد تک تو خوب ہے لیکن عملاً یہ ایک ناممکن مفروضہ ہے۔تالبان کو اس وقت جو سب سے بڑا چیلنج ہے وہ بذات خود تالبان ہیں کہ اس اتحاد کو کیسے رکھا جائے کیونکہ یہ بہت سے چھوٹے بڑے گروپوں کا مجموعہ ہے جو آپس میں معاہدوں کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھے چل رہے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ کابل پر قبضے کو تین ہفتے کا عرصہ گزر جانے کے بعد باقاعدہ طور پر حکومت کا اعلان تو کر دیا گیا ہے مگر اس کے ساتھ یہ بتایا گیا ہے کہ یہ عبوری انتظام ہے۔ اصل سیٹ اپ بعد میں آئے گا۔ اس وقت سب سے بڑا ایشو تالبان کی اندرونی صفوں کو ٹوٹنے سے بچانا ہے۔ اتحادی گروپوں کو ساتھ رکھنا اور ان کی معاشی ضرورتوں کا خیال رکھنا ’’تنگ آمد بجنگ آمد ‘‘ سے بچنے کے لیے ناگزیر ہے۔ اس میں لوکل ملیشیا بھی ہے اور انٹرنیشنل پاور بروکرز بھی شامل ہیں۔

ماضی میں بھی تالبان نے صوبہ بدخشاں میں Copper Mining کی آمدنی سے متعلق مقامی گروپوں سے معاہدے کررکھے ہیں جس سے آمدنی کا حصہ تقسیم ہوتا تھا۔ اسی طرح جنگلات کی لکڑی کے بارے میں ایک دوسرے کی حصہ داری کا حق تسلیم کام گیا تھا۔ تالبان اتحادی گروپوں اور لوکل ملیشیا کو ساتھلے کر نہ چلے تو یہ گروپا لبان سے الگ ہو جائیں گے جس کا فائدہ تالبان مخالف قوتوں کو ہو گا۔ اس وقت افغانستان میں سب سے خوفناک تنظیم اسٹیٹ آف خراسان ہے جسے ISK کے نام سے مغرب میں شناخت کیا جاتا ہے۔ یہ وہی گروپ ہے جس نے 26 اگست کو کابل ایئر پورٹ پر اٹیک کی ذمہ داری قبول کی جس میں 160 افراد جان سے گئے جن میں 13 امریکی فوجی بھی تھے جس پر امریکہ نے انتقام لینے کا اعلان کیا تھا۔ اسٹیٹ آف خراسان (ISK) کون ہیں یہ دراصلتالبان کا ایک منحرف گروپ ہے جو علیحدگی کے بعد ISK کے نام سے سرگرم عمل ہے۔ ملا عمر کی وفات کے بعد ان کے جانشین ملا اختر منصور نے تالبان کے اندر شدید رجحان کے خاتمے اور سیاسی ریفارم کا عمل شروع کیا تو اس میں بہت سے عناصر جو اپنی بربریت، نسلی تعصب اور قیادت سے آزاد من مانے فیصلوں جیسی خصوصیات کے حامل تھے۔ انہیں یا تو تالبان سے نکال دیا گیا یا وہ خود چھوڑ کر چلے گئے اور اپنا ایک علیحدہ گروپ قائم کر لیا۔ ملا اختر منصور 2016ء میں امریکی ڈرون اٹیک میں جاں بحق ہو گئے مگر اس گروپ نے اپنی ایک

شناخت قائم رکھی۔ اس وقت خدشہ یہ ہے کہ اگر تالبان کے موجودہ اتحاد سے جو بھی Defection ہو گی یہ لوگ ISK میں شامل ہوں گے اور تالبان کے اقتدار کے لیے خطرہ بنیں گے۔ لہٰذا انہیں ساتھ رکھنا بہت ضروری ہے۔ اگرتالبان اقتدار کے دوران ISK اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی تو چین کی افغانستان میں اربوں ڈالر کی ممکنہ سرمایہ کاری رک سکتی ہے بیجنگ سارے معاملے کو بہت قریب سے دیکھ رہا ہے۔ ISK اس وقت تالبان کا سب سے بڑا چیلنج ہے جسے سمجھنے کے لیے ہمیں پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کی مثال دینا پڑے گی۔ ISK ایک طرح سے افغانستان کی ق لیگ ہے جو ساری کی ساری راتوں رات ن لیگ سے الگ ہو کر نئی پارٹی بن گئی تھی۔ISK شیعہ سنی فرقہ بندی میں بہت بدنام ہے اور افغانستان کے شیعہ ہزارہ قبائل کو نشانے پر رکھتی ہے اگر اس نے یہ سلسلہ بند نہ کیا تو خطرہ یہ ہے کہ ایران اپنے شیعہ کی حمایت کے لیے اپنا چھاپہ مار سکواڈ افغانستان میں داخل کر دے گا یہ بہت ہی منظم گروہ ہے جو کمانڈو تربیت یافتہ ہے جس کو ایران اس سے پہلے عراق اور لیبیا میں استعمال کر چکا ہے مگر اس وقت انہیں واپس ایران بلا لیا گیا ہے یہ بڑا مارخور گروپ ہے۔ ابابلبان کو اپنی سیاسی تدبیر سے اس طرح کے حالات سے بچنا ہو گا تا کہ وہ غیر ضروری مہم جوئی میں مشغول ہو کر عدم استحکام کا شکار نہ ہو جائیں۔ISK کی ہیبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے

کہ اب امریکہ میں فوجی سطح پر اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ شرپسند گروپوں کے خاتمے کے لیے امریکہ اور تالبان مل کر لڑائی کریں یہ بات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے جس کا دارو مدار امریکہ تالبان کے آپس کے تعلقات اور چائنا کے کردار کے بعد واضح ہو گا۔تالبان کی دوسرے درجے کی قیادت کابل پہنچ چکی ہے مگر ابھی تک سپریم قیادت روپوش ہے۔ جس میں تالبان سربراہ ملا ہبت اللہ اخوند اور تالبان کے عسکری وند کے کمانڈر اور ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب بھی شامل ہیں یہ لوگ پبلک میں نہیں آتے اور نہ انہیں کسی نے آج تک دیکھا ہے۔ سابقہ امیر ملا اختر منصور کی ڈرون اٹیک میں وفات کے بعد تالبان نے فیصلہ کیا تھا کہ ان کی اعلیٰ قیادت پس پردہ رہے گی۔ مگر اب دور بدل چکا ہے تالبان کو اس پر نظر ثانی کرنا ہو گی کیونکہ اب وہ ایک سیاسی حکومت کے وارث ہیں لیکن اس میں شاید ابھی کچھ وقت لگے گا جب تک امریکہ اور تالبان کے آپس کے تعلقات کلیئر نہیں ہو جاتے۔اسی اثنا میں پاکستان کے انٹیلی جنس چیف میجر جنرل فیض حمید نے کابل کااچانک دورہ کیا۔ اس دورے کی اہمیت اس لحاظ سے زیادہ ہے کہ یہ دورہ دنیا کو بتانے کے لیے کیا گیا ہے کہ افغانستان میں استحکام پاکستان کے لیے اہم ہے۔ ایک وقت تھا کہ انڈین نیشنل ایڈوائزر اجیت دوول بڑے فخر سے اسی کابل پیلس میں اشرف غنی سے ملاقات کی تصویر چھپوا کر پاکستان کے سینے پر مونگ دلتے نظر آتے تھے مگر وقت تبدیل ہو گیا ہے۔ انڈیا کی تین ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری انڈیا کے تمام خوابوں سمیت ڈوب چکی ہے۔ اس وقت دنیا کے بڑے بڑے capitlals جس میں بیجنگ ، واشنگٹن، لندن، دہلی ہر جگہ اس تصویر پر خفیہ ردعمل جاری ہے۔

Comments are closed.