عارف نظامی نے وزیراعظم عمران خان کو زبردست مشورہ دے دیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار عارف نظامی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اپوزیشن تو کجا وزیراعظم کا اپنے اتحادیوں سے بھی تال میل نہیں ہے۔ مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین یہ گلہ کر چکے ہیں کہ جب وہ شدید علیل تھے تو خان صاحب نے

انہیں تیمارداری کیلئے فون تک نہیں کیا، قومی اسمبلی میں بھی وہ شاذ ہی آتے ہیں لہٰذا ان کا اپنے پارٹی کے ارکان اسمبلی سے بھی بہت کم رابطہ ہے۔ یہ سب کچھ پارلیمانی نظام کی روح کے خلاف ہے۔ خان صاحب کے ایسے معاملات میں یک رکنی ’’فائر بریگیڈ‘‘ جہانگیرترین ہی تھے جو وزیراعظم کے معتمد خصوصی ہونے کی بنا پر کچھ وعدے و عید کر کے ناراض اتحادیوں کو راضی کر لیتے تھے۔ جمعرات کووزیراعظم نے پرویز خٹک کو اتحادیوں کے خدشات دور کرنے سے متعلق ٹاسک دے دیا۔ اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں اسد عمر، پرویز خٹک، اسد قیصر، شفقت محمود اور بابر اعوان شریک تھے، اجلاس میں بی این پی مینگل سے ہونے والے مذاکرات اور رابطوں پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں بی این پی مینگل کے 6 مطالبات کے نکات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا، جن نکات پر عمل نہیں ہوا ان کی وجوہات بی این پی مینگل سے شیئر کرنے کی ہدایت کی گئی۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بی این پی مینگل سے دوبارہ باضابطہ رابطہ کیا جائے، اس کے مطالبات اور خدشات دور کئے جائیں۔لیکن اب مذاکرات کا کامیاب ہونا مشکل نظر آرہا ہے کیونکہ بلوچستان کے حالات دگرگوں ہیں۔ حکومتی اتحاد کو قومی اسمبلی میں 180 ارکان کی حمایت حاصل ہے، خان صاحب 176 ووٹ لے کر وزیراعظم بنے تھے جبکہ اپوزیشن 159 ارکان پر مشتمل ہے۔ اس میں اب بی این پی کے چار ارکان قومی اسمبلی شامل ہو جائیں گے، شاید حکومت کو فوری طورپر کوئی خطرہ نہ ہو لیکن اب باقی ماندہ اتحادیوں بالخصوص مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم، جی ڈی اے اور چندآزاد ارکان پر اس کا انحصار بڑھ جائے گا۔ مسلم لیگ ق کوہی لیں، ان کی قومی اسمبلی میں پانچ اور پنجاب میںدس نشستیں ہیں۔ اب مرکز اور پنجاب میں چودھریوں کی چودھراہٹ بڑھ جائے گی۔ چودھری پرویزالٰہی بڑے شریفانہ انداز میں حکمران جماعت سے گلے شکوے کرتے رہتے ہیں لیکن شاید اب ان کے لہجے میں بھی مزید تلخی آ جائے لیکن ایم کیو ایم تو ماضی میں اپنے اتحادیوں کو بلیک میل کرنے میں خاصی مشہور ہے، اس کی فرمائشیں بھی خان صاحب کو پوری کرنا پڑیں گی۔ یہ بھی امکان ہے کہ اپوزیشن ایک صفحے پر اکٹھی ہو کریہ مطالبہ داغ دے کہ خان صاحب کی حکومت اعتماد کا ووٹ حاصل کرے لیکن فی الحال اس کا امکان کم ہے تاہم حکمرانی کے موجودہ انداز زیادہ عرصہ نہیں چل سکتے۔ خان صاحب کو محض ’’خلائی مخلوق‘‘ پر انحصار کرنے کے بجائے اتحادیوں، اپوزیشن اور خود اپنی جماعت کے بارے میں روئیے میں مثبت تبدیلی لانا پڑے گی، مزید برآں انہیں اس کا بھی احساس ہونا چاہیے کہ پاکستان میں صدارتی نہیں وفاقی پارلیمانی نظام نافذ ہے۔ پارلیمانی نظام میں وزیراعظم دیگر پارلیمنٹیرین کے برابر ہوتا ہے لہٰذا شاہانہ رویوں کو ترک کرکے چھوٹے صوبوں کی حساسیت کا خیال رکھنا چاہیے صرف اسی صورت میں جمہوریت اور فیڈریشن کی گاڑی آگے چل سکتی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.