عارف نظامی نے پیشگوئی کردی

 لاہور (ویب ڈیسک) جہاں تک شو آ ف ہینڈ زکا تعلق ہے اس سے مراد اوپن بیلٹ ہے جس سے یہ سب کے علم میں ہو گا کہ کس رکن اسمبلی نے اپنے ووٹ کا استعمال کس کے حق میں کیا ۔ عمو ما ً ایسی تجاویز اپوزیشن کی طرف سے آتی ہیں نہ جانے حکمران

نامور کالم نگار عارف نظامی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ جماعت کو کیوں خدشا ت ہیں کہ ان کے ووٹوں پر دھاوا بولا جائے گا ۔ سینیٹ کے یہ انتخابات اس لحاظ سے انتہائی اہم ہیں کہ ان کے ذریعے پی ٹی آئی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اکثریتی جما عت کے طور پر ابھرے گی اور اس طرح اپنے ڈھب کے قوانین منظور کر اسکے گی ۔ اگر سینیٹ میں جیسا کہ اس وقت ہے کسی اپوزیشن پارٹی کی اکثریت ہو تو اس سے حکومت کو قانون سازی میں مشکلات تو پیدا ہوتی ہیں لیکن چیک اینڈ بیلنس کا نظام قائم رہتا ہے اور اس اصول پر عمل درآمد کیلئے حکومت کو قانون سازی کی خاطر اپوزیشن کا تعاون حاصل کرناپڑتا ہے خاص طور پر پاکستان جیسا ملک جہاں حکومتیں نظریاتی طور پر جمہوری پراسس کو تج کر نے کو تیا ر رہتی تھیں اس رجحان کاخیر مقدم ہی کیا جا سکتا ہے ۔ ما ضی میں ایسی مثالیں موجود ہیں جیسا کہ میاں نوازشریف کے دوسرے دور میں جب ان کے سر پر بھاری مینڈیٹ کا بھوت سوار تھا اور وہ امیر المومنین بننا چاہتے تھے ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں بھی ان کو6اگست 1990کو فارغ کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس وقت کی عسکری قیادت سمجھتی تھی کہ پیپلز پارٹی کو سینیٹ کے انتخابات میں اکثریت حاصل ہو گئی تو پتہ نہیں وہ کیا گل کھلائے گی؟ ۔ اس پس منظر میں سینیٹ انتخابات میں گھمسان کا رن پڑے گا ۔ پارٹی پوزیشن کو سامنے رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی یقیناسینیٹ میں غالب جما عت ہو گی جہاں تک الیکشن فروری میں کرانے کی تجویز ہے، ماہرین آئین و قانون کے مطابق یہ کروائے جا سکتے ہیں لیکن اس بارے میں ضدکی تُک سمجھ میں نہیں آتی ،بہرحال ان معاملات میں سپریم کورٹ ہی بہترفیصلہ کرسکتی ہے جب اس سے رہنمائی کرنے کی درخواست کی جائے گی ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.