عارف نظامی کا تہلکہ خیز سیاسی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) جمعہ کے روز بہت سے واقعات ایسے ہوئے جن پر یقین نہیں آتا ،حکومت نے یہ سب کچھ کیونکر قبول کیا یا انہیں مجبوراً عمل کرنا پڑا۔ مثال کے طور پر میاں نواز شریف کے ویڈیولنک کے ذریعے خطاب اور مریم نواز، بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمٰن و دیگر مقررین کی تقریریں

جن میں حکومت کو خوب رگڑا لگایا گیا۔نامور کالم نگار عارف نظامی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔تحریک انصاف کے کھلاڑیوں نے جو پروں پر پانی نہیں پڑنے دیتے کیونکر یہ سب کچھ ہونے دیا۔ خان صاحب کو اسے وارننگ سمجھ کر بلاتاخیر گورننس کے معاملات درست کرنا پڑیں گے۔ انہیں اپنے وزرا زیادہ تر معاونین خصوصی اور مشیروں کی چھٹی کرانا پڑے گی۔ تحریک انصاف کی حکومت اپنی نصف مدت پوری کر چکی ہے لیکن بلندو بانگ دعوئوں، نعرے بازی اور الزام تراشی کے سوا موجودہ حکومت کی کارکردگی قریباً صفر ہے۔ اگر حکومت نے اپنی سمت درست نہ کی تو عوام واقعی اسے فارغ کر دیں گے۔ عوام مہنگائی کی چکی میں پس کر رہ گئے ہیں۔ عمران خان کو ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہیے کہ ایک برس پہلے عوام جو کسی حکومت مخالف تحریک کا ساتھ نہیں دے پا رہے تھے اوروہ پی ٹی آئی کی نئی حکومت کو پورا موقع دینا چاہتے تھے،اتنے کم عرصے میں کیسے تبدیل ہو گئے، لیکن خان صاحب اپنی انا نیت سے سرشار رہے اور نوشتہ دیوار نہ پڑھ سکے۔ گوجرانوالہ کے اجتماع میں شریک زیادہ تر غریب عوام تھے جن کے چولہے ٹھنڈے ہو چکے ہیں ، دو وقت کی روٹی سے محروم ہو چکے ہیں ،وہ تنگ آمد بجنگ آمد احتجاج کرتے ہوئے حکومت مخالف تحریک میں شرکت کے لیے سٹیڈیم پہنچنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ ویسے صوبائی انتظامیہ کو بھی یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ سب کچھ کسی جانی و مالی نقصان کے بغیر پر امن انداز سے مکمل ہو گیا۔ اپوزیشن کے آئندہ اجتماعات میں بھی ان کی حاضری بھرپور ہوگی۔ مصیبت یہ ہے کہ دوسال کی مسلسل بدانتظامی، نا اہلی کی چند ہفتوں میں اصلاح نہیں کی جا سکتی۔ دوسری طرف شیخ رشید جیسے نادان دوست نئے نئے شوشے چھوڑ کر اپنی دکان چمکاتے رہتے ہیں۔فرماتے ہیں اب “بانی متحدہ ٹو” نواز شریف کہلاتے ہیں۔ انہوں نے استنبول کے ایک ہوٹل میں نواز شریف کی کسی خفیہ ملاقات کا،انکشاف کیا ہے۔ شیخ صاحب کی تانگہ پارٹی اس قسم کی درفطنیوں پر انحصار کرتی ہے۔ خدا بھلا کرے میڈیا کا، جنہوں نے شیخ صاحب کی فقرے بازی کے طفیل ان کی دکان چمکائی ہوئی ہے۔ اپنی پریس کانفرنس میں انہوں نے ایک اور شوشہ چھوڑا ہے کہ ملک دشمنوں سے ملی بھگت کے طفیل مسلم لیگ (ن) پر پابندی لگ سکتی ہے۔ اللہ خان صاحب کو اس قسم کے نادان مشیروں سے بچائے۔ حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے افواج پاکستان کو بلاوجہ سیاسی معاملات میں گھسیٹا جا رہا ہے،اس سے اجتناب کرنا چاہئے کیونکہ افواج پاکستان حکومت کی ہے نہ اپوزیشن کی بلکہ وہ تو ریاست کی ہے۔دونوں طرف سے بیانات کی وجہ سے ایک اہم ادارے کو کیوں متنازعہ بنایا جا رہا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.