عارف نظامی کا خصوصی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) دراصل اپوزیشن کے رہنمائوں نے مولانا فضل الرحمنٰ کی باتوں میں آکر اپنی حکمت عملی کے دوررس محرکات پر غور ہی نہیں کیا۔ مثلاً مولانا پی ڈی ایم کو ایک سیاسی جماعت کی طرح چلانے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ یہ اپوزیشن جماعتوں کا ایک اتحاد ہے جس میں

ہر سیاسی جماعت کا اپنا مخصوص نکتہ نگاہ اور نظریات ہیں اور بنائے اتحاد عمران خان کی چھٹی کرانا ہے۔ نامور کالم نگار عارف نظامی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔مثلاً مولانا جو خود پارلیمنٹ کے رکن نہیں ہیں، استعفوں پہ ادھا رکھائے بیٹھے ہیں لیکن ہر رکن پارلیمنٹ کے لیے استعفیٰ دینا اور کچھ سیاسی جماعتوں کے لیے بھی ایسا کرنا دعوئوں کی حد تک توٹھیک ہے لیکن عملی طور پر ایسے مرحلے پر جب حکومت مستحکم ہو یہ قابل عمل نہیں ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ منزل مزید دور ہو سکتی ہے۔ خود مسلم لیگ ن کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ مریم نواز میاں نواز شریف کی صاحبزادی اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر ہیں، کافی عقابی بن گئی ہیں اور لندن میں مقیم اپنے والد صاحب کی ہدایت پر ضرورت سے زیادہ آگے چلی گئی ہیں۔ ان کے والد کی اینٹی اسٹیبلشمنٹ تقریریں بعض شخصیات کی تسکین قلب کے لیے تو اچھی ہونگی لیکن خود مسلم لیگ ن میں جو انقلابی جماعت نہیں ہے، خدشات پیدا ہو رہے ہیں کہ شہباز شریف کوجو اس طرز سیاست کے حامی نہیں ہیں یکسر سائیڈلائن کر دیا گیا ہے اور اب صاحبزادی کا طوطی بول رہا ہے۔ جہاں تک بلاول بھٹو کا تعلق ہے ان کا جوش خطابت اور ولولہ قابل قدر ہے لیکن آخری فیصلہ ان کے والد آصف علی زرداری ہی کریں گے اور مجھے نہیں لگتا کہ وہ اپنی جماعت کو استعفوں کی آگ میں جھونک دیں گے۔ علاوہ ازیں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن سیاسی میدان میں متحارب جماعتیں ہی ہیں۔نواز شریف نے آصف زرداری کے ساتھ جو سلوک کیا وہ اسے بھولے نہیں۔ جہاں تک پی ڈی ایم کے جلسوں کا تعلق ہے یہ حاضری اور جوش وجذبہ کے لحاظ سے تو کامیاب رہے لیکن آگے کیا کرنا ہے ،کچھ واضح نہیں۔

Comments are closed.