عارف نظامی کا خصوصی سیاسی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) جب نواز شریف نے 1993ء میں صدر غلام اسحق خان کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تو انہوں نے اس وقت معتوب بے نظیر بھٹو کی طرف تعاون کا ہا تھ بڑھا یا لیکن ا س وقت شہبازشریف نے اپنے والد محترم کی مدد سے نوازشریف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان

کراچی میں ظہرانے پر ملاقات کے طے شد ہ پروگرام کو سبوتاژ کر دیا۔ نامور کالم نگارعارف نظامی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔یقینا حالیہ دورے میں شہبازشریف کے لیے آصف زرداری کے در پر حاضری دینا ایک مشکل فیصلہ ہے لیکن مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق انہیں یہ کڑوا گھونٹ پینا پڑا۔ ایک طرف بھا ئی جان کا حکم تھا کہ مونچھ نیچی کر کے زرداری صاحب سے ملیں جبکہ دوسری طرف وہ قوتیں جو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان برف پگھلنے کی مخالف ہیں ان کو ناراض کرنا شہبازشریف کے لیے مشکل فیصلہ ہے۔ نوازشریف کی نئی ہدایات کے تحت ان کی صاحبزادی مریم نواز بھی یکدم فعال ہو گئی ہیں اوران کے لاہور اور اسلام آباد میں حواریوں کے انٹرایکشن، جوش وخروش صدر مسلم لیگ (ن) کے لیے یہ پیغام تھے کہ کیا کروں؟ نیم دروں نیم بروں کی روش اپنائے رکھی تو مسلم لیگ ن کی سیاست سے آؤٹ ہو جائیں گے۔ اسلام آباد میں پیشی کے موقع پر بھارہ کہو اور اس سے پہلے نیب دفتر لاہور کے باہر دونوں جگہ پر مریم نواز کا کارکنوں کی طرف سے زبردست استقبال اور نوازشریف، مریم نوازکے حق میں خوب نعرے بازی ہوئی لیکن شہبازشریف کا انہوں نے ذکر ہی نہیں کیا۔ اسی بناپر شہبازشریف کو چپ کا روزہ توڑناپڑا۔ آئندہ چند ہفتوں میں یہ پوری طرح واضح ہو جائے گا کہ اپوزیشن جو عمران مخالف الائنس میں اکٹھی ہو رہی ہے حکومت کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے؟۔ صرف چند ہفتے پہلے تک ایسا الائنس بننا مشکل نظر آرہا تھا لیکن اس کی تشکیل میں تحریک انصاف کی حکومت اور نیب نے ’’شبانہ روز محنت‘‘ کی ہے۔ نیب کے تابڑ توڑ مقدمات اور اندھا دھند انتقامی کارروائیوں کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے لیے کوئی دوسرا چارہ کار نہیں تھاکہ وہ ایک صفحے پر آجائیں۔ تاریخ کا سب سے بڑ ا سبق یہ ہے کہ کوئی بھی حکمران تاریخ سے سبق نہیں سیکھتا، سیا سی اپوزیشن کو انتقامی، تعزیری ہتھکنڈوں سے زیر نہیں کیا جا سکتا۔ خان صاحب نے اپنے حالیہ بیان میں اپوزیشن کو بھارتی ایجنٹ قرار دیا ہے۔ ہر حکمران روایتی طور پر اپنے مخالفین پر اس قسم کے الزامات لگاتا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا اپوزیشن کو مذاکرات کی میز پرلاکر ان کے تحفظات دور کئے جاتے لیکن خان صاحب سمجھتے ہیں کہ مقتدر اداروں کی تائید سے اپوزیشن کے بازو آسانی سے مروڑے جا سکتے ہیں۔ اپوزیشن سے تال میل اور مذاکرات کسی بھی جمہوری نظام کا خاصا ہوتے ہیں لیکن یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ اگر اپوزیشن کوئی بات کرے تو حکمران جماعت پنجے جھاڑ کر پیچھے پڑ جاتی ہے کہ یہ این آر او مانگ رہے ہیں۔ اسی بنا پر وطن عزیز میں سیا سی اشرافیہ کا کوئی بنائے اتحاد نہیں بن پا رہا کیونکہ حکومت کے دوسال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی حکمرانوں کو کوئی پروا نہیں کہ خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے جو خاکم بدہن پورے سسٹم کو بھی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.