عارف نظامی کا نواز شریف کو حیران کن مشورہ

لاہور (ویب ڈیسک) خوب چرچا ہے کہ وزیراعظم عمران خان چلی کے سابق ڈکیٹیٹر آگسٹو پینوشے Pinochet Augusto جواب ا س دنیا میں نہیں رہے کی طرح میاں نو از شریف کو ہر حال میں واپس لانے کے لیے پر عزم ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ خان صاحب کے مشیر جن کی تعداد ضرورت سے کہیں زیادہ ہے

نامور کالم نگار عارف نظامی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ ان کو طفل تسلیاں اور نواز شریف کو واپس لانے کے حوالے سے طرح طرح کی تاویلیں دے رہے ہیں۔ زمینی حقائق تو یہ ہیں کہ نواز شریف کی مصروفیات ان کے اس بیانیے سے لگا نہیں کھاتیں کہ وہ شدید بیمار ہیں۔ کافی پینے اور دیگر مصروفیا ت کے علا وہ اب وہ سیاست میں بھی بھرپور حصہ لے رہے ہیں، اس امر کے باوجود کہ تکنیکی طور پر وہ نااہل قرار دیئے جا چکے ہیں انھوں نے اے پی سی کے موقع پر ایک گھنٹہ طویل خطاب میں حکومت اور مقتدر اداروں کو خوب رگڑا لگایا۔ بدھ کو نواز شریف نے ویڈیو لنک سے مسلم لیگ (ن) کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس سے دوسرا اور جمعرات کو پارٹی کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے تیسرا خطاب کیا جن میں انھوں نے کہا اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہو گی کہ عدالتو ں پر دباؤ ہے، عدلیہ سے مرضی کے فیصلے کرائے جاتے ہیں، پارلیمنٹ کو کٹھ پتلی بنا دیا گیا۔ انگریزوں کی غلامی سے نکل کر اپنوں کی غلا می میں آ گئے۔ پارلیمنٹ کو ربڑ سٹمپ اور کٹھ پتلی بنا دیا گیا۔ عزت نہ ہو تو کون سی سیاست، کیسی سیاست؟۔ یہ عجیب صورتحا ل ہے کہ نواز شریف عد التوں اور حکومت کے رونے دھونے کے باوجود ا ب ان کی دسترس سے باہر ہیں۔ میاں صاحب کی تقریروں سے لگتا ہے کہ وہ زیادہ رجائیت پسند ی کا شکار ہیں ان کے مطابق حکومت چند مہینوں یا چند ہفتوں کی مار ہے اور جیسے ہی کال دی جائے گی لوگ حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں گے اور عمران خان کی حکومت اور ان کے پشت پناہ خس و خاشاک کی طرح بہہ جائیں گے

لیکن زمینی حقائق قدرے مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ آصف جب تک پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کو گا لی نہ دے لیں ان کی روٹی ہضم نہیں ہوتی۔ انھوں نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ آصف زرداری کے بارے میں میری رائے تبدیل نہیں ہوئی، مجھے ان پر یقین نہیں ہے آج بھی ان پر تحفظات ہیں۔ حالانکہ بظاہر میاں نواز شریف اور آصف زرداری ایک ہی صفحے پر ہیں لیکن خواجہ آصف کا تازہ واکھیان کہ زرداری پر تحفظات ہیں ان کے بارے میں رائے نہیں بدلی اس کے جواب میں نواز شریف کو اپنی پارٹی کے سینئر لیڈر سے اختلاف کرتے ہوا مجبوراً کہنا پڑا کہ ایسی کوئی بات نہیں، زرداری پی ڈی ایم کا حصہ ہیں میں ان کا دلی احترام کرتا ہوں۔ ابھی تو ابتدائے عشق ہے، آگے آگے دیکھئیے ہوتا ہے کیا۔ اس قسم کی غیر ذمہ دارانہ بیان بازی کے پس منظر میں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کی بیل کیسے منڈھے چڑھ سکتی ہے۔ اگرچہ میاں صاحب کے جوابی بیان کے بعد خواجہ صاحب کوخود سوچنا چاہیے کہ وہ اس پارٹی میں کیا کر رہے ہیں جس کا سربراہ ان کے بیانیے سے اختلاف رکھتاہے۔ اس صورتحال میں تو خواجہ آصف کو خو د ہی گھر چلے جانا چاہیے تھا بصورت دیگر پارٹی کو انھیں فارغ کر دینا چاہیے لیکن شاید اب میاں صاحب اس پوزیشن میں نہیں ہیں لہذا بہتر ہو گا کہ میاں صا حب کو اپنے سینئر پارٹی رہنماؤں سے بات چیت کرکے نہ صرف ان کے تحفظات دور کرنے چاہئیں بلکہ ان کو اس قسم کے پارٹی دشمن بیانات سے باز رہنے کی تلقین کرنی چاہیے۔ میاں صاحب جو پہلے ہی مشکلات میں گھر ے ہوئے ہیں خواجہ صاحب جیسے پورس کے ہاتھیوں سے بچیں کیونکہ یہ مسلم لیگ (ن) کے لیے تحریک انصاف سے بڑا خطرہ ثابت ہونگے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *