عاصمہ شیرازی نے زبردست بات کہہ ڈالی

لاہور (ویب ڈیسک) حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں کے خلاف حکومتی سطح پر مہم چل جانا کوئی خاص بات نہیں اور یہ وباء پوری دنیا میں عام ہے اسی وجہ سے پاکستان میں بھی آئے روز سوشل میڈیا پر صحافیوں کے خلاف کوئی منفی مہم یا مخالفت پر مبنی ہیش ٹیگ گردش میں رہتے ہیں ۔

حال ہی میں پاکستان تحریک انصاف کے ایک تصدیق شدہ ٹوئٹر اکاؤنٹ سے دو ٹویٹس کی گئیں۔ پہلی ٹویٹ میں ان صحافیوں کی فہرست چسپاں کی گئی جو حکمراں جماعت کے مطابق ’وہ اینکرز اور میڈیا کے لوگ ہیں جو بدعنوان لوگوں کا بیانیہ چلاتے ہیں۔‘ اس اکاؤنٹ کو فالو کرنے والوں کو ہدایت کی گئی کہ ’چلیں ان کے نام بلند اور واضح انداز میں لیں۔‘جبکہ دوسری ٹویٹ میں چند صحافیوں کے نام شامل کیے گئے اور لکھا گیا ’ان (فہرست میں شامل صحافی) کے بجائے ہمیں ایسے بہادر اور بے باک صحافیوں کی حمایت کرنی چاہیے جو سچ اور انصاف کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔‘یہ ٹویٹس جلد ہی ڈیلیٹ کر دی گئیں اور تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کے ایک عہدے دار نے ٹوئٹر پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کے نوٹس میں آتے ہیں ان ٹویٹس کو ڈیلیٹ کر دیا گیا۔ سوشل میڈیا عہدیدار جبران الیاس نے لکھا ’معذرت قبول کریں۔ یہ ٹویٹس پی ٹی آئی کے مرکزی ٹوئٹر اکاونٹ ( @PTIofficial) سے نہیں بلکہ ایک ریجنل اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی تھیں اور انھیں جلد ہی ہٹا دیا گیا۔یہی سکرین شاٹس شیئر کرتے ہوئے صحافی اور اینکر عاصمہ شیرازی نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’پی ٹی آئی کے تصدیق شدہ اکاؤنٹ سے پسندیدہ اور قابلِ نفرت میڈیا پرسنز کی مہم لانچ کی گئی ہے۔ پی ٹی آئی اور موجودہ حکومت اپنی خلاف تنقید کے ساتھ اس طرح نمٹتے ہیں۔‘عاصمہ شیرازی کا نام بھی ’ناپسندیدہ‘ صحافیوں کی فہرست میں شامل ہے۔ تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عاصمہ شیزازی نے کہا کہ

وہ اس اقدام کو ’اپنے لیے کسی تمغے سے کم نہیں سمجھتیں۔‘ان کا کہنا تھا ’اگر حکومت آپ کو تنقید کرنے پر قابلِ نفرت سمجھتی ہے اور بُرا صحافی کہتی ہے۔۔۔ اس سے بڑا تمغہ تو کسی بھی صحافی کے لیے نہیں ہوتا۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’صحافیوں کو نشانہ بنا کر مغلطات اس لیے کی جاتی ہے کہ آپ ڈر جائیں اور تنقید نہ کر سکیں۔ اور لوگوں کو نہ بتا سکیں کے پاکستان کے کیا حالات ہیں اور پاکستان میں حکومت کیسے چل رہی ہیں۔‘عاصمہ شیزاری کے بقول انھیں ہر حکومت سے ایسے ہی ’تمغے‘ ملتے رہے ہیں۔ ’مسلم لیگ نواز کے پانچ سال میں ہم نے ان پر بھی خوب تنقید کی۔ ہم کبھی ان کے پسندیدہ لوگوں میں نہیں رہے تھے۔‘پی ٹی آئی کی ٹویٹ میں ’بہادر، بے باک اور سچے‘ صحافی قرار دیے جانے والے لیکن اس ٹویٹ سے لاعلم اینکر سمیع ابراہیم نے پہلے تو ہنستے ہوئے اپنے اس فہرست میں شامل ہونے پر خوشگوار حیرت کا اظہار کیا اور پھر ٹویٹ ڈیلٹ ہونے پر اسے احسن اقدام قرار دیا۔ان کا کہنا تھا ’جب ہم نے صحافت کی تو کہا جاتا تھا کہ صحافیوں کو غیر جانبدار ہونا چاہیے۔ اس کی خبر سے کسی بھی طرح یہ تاثر نہیں ملنا چاہیے کہ وہ ایک معاملے پر کسی کی حمایت یا مخالفت کر رہے ہیں۔ لیکن اب پوری دنیا میں انداز بدل گیا ہے۔ اب پاکستان میں بھی اپنی رائے کا کھلم کھلا اظہار ہوتا ہے اور میرے خیال میں اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔‘سمیع ابراہیم کا کہنا تھا ’آپ مسلم لیگ ن یا پاکستان تحریک انصاف کے حامی ہو سکتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ آپ اپنا کام بھی دیانت داری کے ساتھ کر سکتے ہیں۔ اگر وہ پُراثر تجزیہ کر رہے ہیں اور حقائق کو تباہ نہیں کر رہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے لیے صحافیوں کے رجحانات بھی عام شہریوں کی طرح ہوتے ہیں کیونکہ وہ بھی انتخابات میں ووٹ ڈالتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اب اس حوالے سے لوگ زیادہ اظہار کرنے لگے ہیں۔سمیع ابراہیم کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی حوالے سے اپنی رائے رکھنا غلط نہیں ہے لیکن اس رائے پر یہ کہنا کہ وہ مجرموں کے ساتھ ہیں یہ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ حامد میر ہوں یا عاصمہ شیرازی ہوں یا کوئی بھی دوسرا صحافی ان کی اپنی ایک رائے ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ وہ مجرموں کے ساتھ ہیں منفی رجحان ہے۔‘

Sharing is caring!

Comments are closed.