عاصمہ شیرازی کی دھماکہ خیز پیشگوئی

لاہور (ویب ڈیسک) مثلث تین کونوں پر مشتمل وہ خطوط ہیں جو مختلف سروں کو باہم جوڑتے ہیں، مختلف آل خیال، مختلف نظریات اور مختلف وضع ایک جگہ اور ایک صفحے پر جُڑ جاتے ہیں تو مثلث تشکیل پاتی ہے۔ یہاں ذرا سا ٹیڑھا خط نئے جغرافیے اور نئے بیانیے کو جنم دے سکتا ہے۔

نامور خاتون صحافی عاصمہ شیرازی بی بی سی کے لیے اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔مملکت پاکستان میں اختیارات کی مثلث کا ذکر بار بار ملتا ہے جس میں انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ شامل ہیں۔ البتہ ان کے اختیارات کی تقسیم یوں معنی نہیں رکھتی کہ مثلث موجود ہے اور اختیارات مثلث سے باہر۔بظاہر انتظام انتظامیہ کے ہاتھ، قانون مقننہ کے ہاتھ اور انصاف عدلیہ کے پاس ہوتا ہے لیکن شو مئی قسمت مملکت کے وجود میں آتے ہی ان کے اختیار کا ارتکاز کہیں اور دکھائی دیتا ہے۔آخر کبھی نہ کبھی تو اسے چیلنج ہونا ہی تھا، سو اب ہو گیا۔اس سے پہلے یہاں تک نوبت آنے ہی نہ دی گئی۔ ساری کشتیاں کبھی نہ جلائی گئیں، سارے پتے ایک ساتھ نہ کھیلے گئے، کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی طریقے ہوا کی کوئی کھڑکی، بات چیت کا کوئی دروازہ کھلا رکھا گیا۔اکثر یہ فوج کے براہ راست اقتدار میں ہی دیکھنے کو ملا مگر حالیہ دور میں ’آئینی اور قانونی طور پر منتخب‘ حکومت کے چلنے پر جتنا زور لگا اس سے دُگنا اختلاف کو دبانے میں لگایا گیا۔کچھ یوں بھی ہوا کہ جن کی امانت داری پر شرطیں لگیں وہ کارکردگی کے ہاتھوں بے نقاب ہوئے۔ اتفاق کے سارے راستے بند اور نفاق کی کوششش نے نظام کو نقصان پہنچایا۔مقابلہ اُس اپوزیشن کے ساتھ ہوا جس کے پاس تجربہ بھی تھا اور وقت پر کھیلنے کا طریقہ بھی۔ برس ہا برس سے اقتدار کی راہداریوں سے واقف جانتے ہیں کہ ترپ کا پتہ کب چلنا ہے اور میز کے اس طرف کس طرح آنا ہے۔اقتدار اور اختیار کی اس لڑائی میں ریاستی اور سیاسی کرداروں کی مثلث ٹکراؤ کی صورت پیدا کر چکی ہے۔ ارباب اختیار کی مثلث اپنی جگہ موجود تو مولانا، میاں نواز شریف اور آصف زرداری کی اختلافی مثلث بھی گیارہ جماعتی اتحاد کی حمایت یافتہ ہے۔ ایسے میں اب مثلث کا مقابلہ مثلث سے ہے۔عوامی بیانیے اور ریاستی مفہوم میں فرق بڑھتا چلا جا رہا ہے، اختیارات کی آئینی مثلث فقط خطوط کی حد تک اور نظام کارساز کہیں اور مرتکز۔ افراد اداروں سے بڑے اور نظریات ذات کے گرد گھوم رہے ہیں۔مفاد کی بھینٹ ادارے اور اشخاص کی بھینٹ بیانیے چڑھ رہے ہیں۔ اس سب کے درمیان اُمید سے مایوسی کی جانب تیزی سے بڑھتے عوام راستے سے ہی بے خبر ہو چکے ہیں۔ ایسا کب تک ہو گا؟غلطی کہاں ہوئی؟ رہنماؤں کو مائنس کرتے کرتے عوام مائنس کیوں ہوئے ہیں؟ جتنا نقصان ہو چکا ہے اُسے فائدے نہ سہی کم سے کم خسارے میں کیسے بدلنا ہے؟ جلد یا بدیر مذاکرات کی میز پر آنا ہو گا۔ عوامی اور معاشی دباؤ کس کو کتنا مصلحت پسند بنا سکتا ہے اس کا اندازہ جمہوری تحریک کے آغاز سے ہی ہو جائے گا۔اب جبکہ ارباب اختیار اور ارباب اختلاف آمنے سامنے ہیں تو کسی ایک مثلث کو منفی ہونا ہی ہے۔ اب کی بار کون اپنی جگہ چھوڑے گا؟

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *