عالمی ادارہ صحت نے وارننگ جاری کردی

لندن (ویب ڈیسک) ایک بیان میں عالمی ادارہٴ صحت نے براعظم یورپ میں کیسز کے اضافے کو حیران کن اور پریشان کن قرار دیا۔ ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا کہ اس صورت حال پر قابو نہ پایا گیا تو مریضوں کی تعداد اندازوں سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر

ڈاکٹر ہانس کلوگے نے کہا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں کورونا وائرس کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد پچاس ہزار سے زائد ہوجانا انتہائی خطرناک ہے۔ خیال ہے کہ مریضوں کی تعداد میں اضافے کی ایک وجہ ٹیسٹ کی سہولیات میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ڈاکٹر ہانس کلوگے کا کہنا ہے کہ حالیہ اضافے میں دیکھا گیا ہے کہ وائرس کا شکار ہونے والے افراد کی عمریں پچیس سے انچاس برس کے درمیان ہیں۔ان کے مطابق وائرس کی لپیٹ میں آنے والوں میں بزرگ افراد کی تعداد بھی بڑھی ہے۔ ساٹھ برس سے زائد عمر کے وہ لوگ جنہیں امراضِ قلب یا شوگر کا سامنا ہے، انہیں کووڈ انیس کے ‘رسک گروپ‘ میں شمار کیا جاتا ہے۔بعض ممالک نے قرنطینہ کی مدت میں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ ایسے ممالک میں فرانس بھی شامل ہے، جہاں اس کی مدت نصف یعنی سات دن کر دی گئی ہے۔ اسی طرح برطانیہ اور آئر لینڈ میں بھی قرنطینہ کی مدت دس روز کی جا چکی ہے۔ باقی ملک بھی اس پر غور کر رہے ہیں۔لیکن عالمی ادارے نے قرنطینہ کے ایام کو کم کرنے سے بھی باز رہنے کی ہدایت کی ہے اور اسے کم از کم چودہ دن رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ جرمنی میں کورونا کی لپیٹ میں آنے والے مریضوں کا ریکارڈ رابرٹ کوخ انسٹیٹیوٹ رکھتا ہے۔ اس کے مطابق اپریل کے بعد صرف ایک دن میں وائرس کا سب زیادہ شکار ہونے والے افراد کی تعداد 2194 ہے اور یہ رواں ہفتے بدھ سولہ ستمبر کو ریکارڈ کی گئی۔ جرمنی میں کووڈ انیس کی لپیٹ میں آنے والے افراد کی کل تعداد دو لاکھ پینسٹھ ہزار سے زائد ہے جبکہ وائرس 9300 مریضوں کی جان لے چکا ہے۔برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے پَبز کے مالکان سے کہا ہے کہ وہ دیر رات تک انہیں مت کھلا رکھیں اور جلد بند کیا کریں۔ انگلینڈ اور نیو کاسل میں لوگوں کو گھروں کے باہر میل ملاقات سے روک دیا گیا ہے۔ برطانیہ میں کورونا سے ہونے والی اموات اکتالیس ہزار سات سو پانچ ہیں، جو یورپ میں سب سے زیادہ ہیں۔جرمنی کے ہمسایہ ملک آسٹریا نے بھی اپنے شہریوں کو کورونا کی دوسری لہر سے خبردار کیا ہے۔ حکومت نے گھروں میں ہونے والی تقریبات کے شرکاء کی زیادہ سے زیادہ تعداد دس افراد تک محدود کی ہے۔ یہی ضابطہ ہر طرح کی پارٹیوں اور تقریبات پر قابو لاگو ہو گا۔ہسپانوی دارالحکومت میڈرڈ میں لوگوں کی نقل و حرکت اور رابطوں کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح فرانسیسی حکومت نے ٹینس کے اہم ٹورنامنٹ فرنچ اوپن میں تماشائیوں کی تعداد ساڑھے گیارہ ہزار سے کم کرکے پانچ ہزار کر دی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.