عام طور پر پٹرول کی قیمت میں اضافہ مہینے کی آخری تاریخ کو ہوتا ہے ، مگر اس بار 4 دن پہلے کیوں ؟

اسلام آباد(ویب ڈیسک )عوام کو جون کے مہینے میں سستی قیمت پر پٹرولیم مصنوعات فراہم نہ کرنے پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (اوایم سیز)کے خلاف جارحانہ رویہ رکھنے کے بعد وفاقی حکومت نے بالآخر جمعہ کو اس کارٹل کے سامنے مکمل طورپر سرنڈرکردیا اورپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کانوٹیفکیشن چار دن پہلے ہی جاری کردیا۔

آئندہ 35روز کیلئے قیمتوں میں 66فیصد تک اضافہ کردیاگیاہے ۔جون میں چونکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کافی گرگئی تھیں اس لئے او ایم سیز نے ان نرخوں پر پٹرول فراہم کرنے سے انکار کردیاتھا جس کی وجہ سے دستیابی کا مسئلہ آگیا تھا اور لوگ بہت پریشان تھے۔اس لئے اب حکومت نے فیصلہ کیاہے کہ قیمتیں بڑھادی جائیں تاکہ پٹرول کی دستیابی کا مسئلہ حل ہوسکے ‘عمومی طورپر اوگراپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تخمینہ لگاتی ہے مگر اس بار پٹرولیم اور خزانہ ڈویژن کے حکام نے اوگراکا کردار نظرانداز کردیا اور خفیہ طورپر قیمتوں کا تعین خود ہی کردیا تاکہ پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے ۔اگرچہ حکومت ملک کے 70سے 80فیصد علاقوں میں پٹرول کی سپلائی بحال کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی تاہم کئی علاقوں میں اب بھی پٹرول دستیاب نہیں تھا۔ اب حکومت نے آئل مافیا کے دباؤمیں آکر قیمتوں میں اضافہ کردیا جس کی وجہ عوام کو مزیدمالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.