عبدالقدیر نے اس موقع پر ہندو فوجی کو کیا تاریخی جملہ کہا تھا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار عبدالرافع رسول اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔مشرف کے اقتدارکے زوال کے بعد بھی ڈاکٹر عبدالقدیرخان صاحب اپنے گھرپربدستور نظر بند رہے اور یکے بعددیگرے پاکستان کے سب وزرائے اعظم نے پاکستان کے قومی ہیرکوو وہ عزت وتوقیرنہیں بخشی جوان کے شایان شان تھی اورجس کے

وہ مستحق تھے۔اس سے بڑ ھ کرکسی ملک کی قیادت کے لئے شرم کامقام کیاہوسکتاہے کہ محضٗ امریکہ کے کہنے پراپنے ملک کے ہیرو کی بے توقیری کرے۔ لیکن اس بے توقیری کے باوجود ہم نے دیکھاکہ ڈاکٹرعبدالقدیرخان صاحب نے اپناروناکبھی نہیں رویا بلکہ یہ عظیم شخصیت پاکستان کی قیادت پررنجیدہ،آزردہ،اداس،افسردہ،اندوگیں تھے کہ جوہری قوت ہونے کے باوصف بھی پاکستان کے حکمران قومی پالیسیوںسیاسی بزدلی پرمنحصر ہے اورمعاشی اعتبار سے اپنے عوام کومایوس کررہے ہیں۔ فخرپاکستان ، مایہ ناز سائنسدان، پاکستان کے ایٹمی ہتھیار کے خالق ڈاکٹر عبد القدیر خان اپریل 1936 کو برٹش انڈیاکے شہر بھوپال میں ایک اردو بولنے والے پشتون گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ نے1952 میں سر پر اپنا چھوٹا سا بکسہ اٹھایاجس میں چند جوڑے کپڑے اور کچھ درسی کتب تھیں کھوکھراپار کے راستے مملکت خداداد پاکستان کی طرف ہجرت کی ۔کھوکھراپار کے ریلوے سٹیشن پر اترنے کے بعد پاکستان کے بارڈر پر تک 7کلو میٹر سفر درپیش تھا۔کسمپرسی کے عالم میںپیدل چل کریہ سفراس طرح طے کیاراستہ میں ریت زیادہ ہونے کی وجہ سے جوتوں کے ساتھ سفر کرنا مشکل ہوگیاتو پاک سرزمین کی محبت میںجوتے اتار کر بارڈر تک پہنچنے توپائوں میںچھالے پڑ چکے تھے۔کھوکھراپار بارڈر پرقائم بھارت کی آخر چوکی پرپہنچے تو ایک بھارتی فوجی اہلکاران سے ان کے جیب میں موجود انکا سب سے پیارا قلم ( (Original parker pen made in ukیہ کہہ کر لے لیتا ہے کہ تم پاکستان جا کر نیا قلم لے لینا جس پر وہ کہتے ہیں جسے اللہ پاک قلم اور علم عطا کر دے اس سے کوئی لے نہیں سکتا یہ پین کیا چیز

ہے میرارب مجھے پاکستان میں اور بہت کچھ دے گا ۔مہاجرنوجوان کی یہ دعاقبول ومنظور ہوئی اورچشم فلک نے نظارہ کیا کہ بغیر جوتے کے پیدل چل کربھوپال سے مملکت خدادامیںہجرت کرکے آنے والا نوجوان ڈاکٹراے کیوخان کہلاتاہے اورایک مایہ ناز ایٹمی سائنسدان بن جا تا اور دن دگنی رات چوگنی کرکے پاکستان کواسکے ازلی دشمن بھارت کے شرسے محفوظ کرنے کیلئے اسے جوہری طاقت بنانے کیلئے محنت شاقہ سے کام کر تا ہے۔ بالآخروہ اپنی ٹیم کے ہمراہ اس جستجواوراس کوشش میں کامیاب ہوجاتے ہیں اوربھارت کے ایٹمی تجربات کے فوراََبعد پاکستان 28 مئی1998 کوصوبہ بلوچستان کے چاغی کے ایک فلک بوس پہاڑ میں زمین دوز قعرسرنگیں بناکر ایٹمی تجربات کر کے 57مسلمان ممالک میںپہلا مسلمان ایٹمی قوت کا اعزاز حاصل کر لیتا ہے ۔ ڈاکٹر قدیرنے اعلیٰ تعلیم کے لئے یورپ کارخ کرلیااور مغربی برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی، ہالینڈ سے ماسٹرز آف سائنس جبکہ بیلجیئم سے ڈاکٹریٹ آف انجینئری کی اعلیٰ تعلیم پانے اوراعلیٰ اسناد حاصل کرنے کیساتھ31مئی 1976 میں ذوالفقار علی بھٹو کی دعوت پر(Engineering Research Laboratories)کے پاکستانی ایٹمی پروگرام میں حصہ لیا۔بعدازاں اس وقت کے صدر پاکستان جنرل محمد ضیا الحق نے یکم مئی 1981 کواس ادارے کا نام تبدیل کرکے((Dr AQ Khan Research Laboratories رکھ دیا۔ یہ ادارہ پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان نے نومبر 2000 میں ککسٹ نامی ادارہ کی بنیاد رکھی۔ڈاکٹرعبد القدیر خان وہ مایہ ناز سائنس دان ہیں جنہوں نے آٹھ سال کے انتہائی قلیل عرصہ میں انتھک محنت و لگن کی ساتھ ایٹمی پلانٹ نصب کرکے دنیا کے نامور نوبل انعام یافتہ سائنس دانوں کو ورطہ حیرت میں ڈالدیا۔