عبداللہ بابر اعوان نے پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کی بولتی بند کروا دی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور قانون دان بابر اعوان کے صاحبزادے عبداللہ بابر اعوان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔اوپن ووٹ میں آخر پی ڈی ایم کو مسئلہ کیا ہے۔ آئیے اس وقت ملک کے سیاسی منظرنامے پر موجود سوال اور ان کے لیگو کانسٹی ٹیوشنل جواب دیکھ لیں۔پہلا سوال: کیا ہائوس آف فیڈریشن میں

خفیہ ووٹ کا مطالبہ صرف پی ٹی آئی کی حکومت یا وزیر اعظم جناب عمران خان کر رہے ہیں‘ یا یہ مطالبہ تحریک انصاف کے حکومت میں آنے سے پہلے 2018 سے قبل بھی موجود تھا؟ اس کا سب سے بڑا جواب مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف اور پی پی پی کی سابق وزیر اعظم بی بی صاحبہ کے دستخطوں سے ملتا ہے‘ جس کا ثبوت 14 مئی 2006 کو تیار کیا جانے والا وہ ‘چارٹر آف ڈیموکریسی‘ ہے جس پر ویسٹ منسٹر ڈیموکریسی کو دل و جان سے لاگو کرنے کے لئے، ویسٹ منسٹر سے واکنگ فاصلے پر موجود ماربل آرچ میں مفرور رہنما اور مرحوم رہنما نے مل کر سائن کیا تھا۔ اس چارٹر آف ڈیموکریسی کے آرٹیکل نمبر23 میں قوم کو یہ راز کی بات بتائی گئی تھی۔”آرٹیکل23: کرپشن اور فلور کراسنگ روکنے کیلئے سینیٹ اور اِن ڈائریکٹ نشستوں کے انتخابات کھلے اور قابل شناخت بیلٹ پیپر کے ذریعے کرائے جائیں گے۔ ان انتخابات میں پارٹی لائن کے خلاف ووٹ دینے والے ممبر کی رکنیت ختم ہو جائے گی۔ اس مقصد کیلئے متعلقہ پارٹی کا پارلیمانی لیڈر متعلقہ ایوان کے سپیکر یا چیئرمین سینیٹ کو ایک خط کے ذریعے آگاہ کرے گا۔ اس خط کی ایک نقل الیکشن کمیشن کو برائے نوٹیفکیشن بھیجی جائے گی۔ اگر خط ملنے کے 14دن کے اندر نوٹیفکیشن نہ ہوا تو بھی متعلقہ ممبر کی نشست خالی قرار پائے گی‘‘۔اس کے علاوہ جب پی پی پی کے یک اَز مالکان آصف علی زرداری صاحب نے پچھلے دور میں نواز شریف سے کہا تھاکہ میں تمہاری حکومت بلوچستان میں گرا دوں گا‘

تو پھر اس بیان کے نتیجے میں 100 فیصد ایسا ہی ممکن ہو گیا تھا۔ اسی طرح جب موصوف نے نواز شریف سے کہا تھاکہ میں تمہیں سینیٹ بھی نہیں لینے دوں گا، تو تب بھی نواز شریف کی حکومت برسرِ اقتدار ہونے کے باوجود ویسا ہی ہوگیا۔ یہ سب کچھ ہم سب جانتے ہیں۔اس کے باوجود کیا یہ بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ بلوچستان میں (ن) لیگ کی حکومت اور سینیٹ آف پاکستان میں (ن) لیگ کی شکست کسی بابے کی پھونک سے نہیں ہوئی‘ بلکہ ضمیروں کی منڈی سجا کر اور نوٹوں کے انبار لگا کر پی ڈی ایم کے اِن دونوں لیڈروں کے درمیان ووٹ کو عزت دینے کا مقابلہ ہوا تھا۔پاکستان میں دو کام ہر سیاسی جماعت نے کررکھے ہیں۔ ایک یہ کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی، اس لئے اس کے نتائج کو چیلنج کردیا گیا۔ دوسرا کام یہ کہ ہر سیاسی جماعت کے لیڈر کا ویڈیو کلپ سینیٹ میں الیکشن کے حوالے سے ووٹ فروشی پر موجود ہے۔ ساری پارٹیوں نے ہارس ٹریڈنگ کے خلاف زبانی اور تحریری جہاد کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس لئے کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ ابھی تک مفرور سابق وزیر اعظم، مولانا صاحب اور انقلابی پی پی پی کے پاس اوپن اور قابل شناخت ووٹ یا شو آف ہینڈز پر اعتراض ہے کیا؟دوسرا سوال یہ ہے کہ پچھلے 7 ہفتے تک سینیٹ چلتا رہا۔ پچھلے 3 ہفتے تک این اے کا سیشن جاری رہا۔ دونوں جگہ الزام بازی اور ہلڑ بازی کے علاوہ اوپن ووٹ کے خلاف کون سی دلیل اور کون سی وجہ تھی جو پی ڈی ایم کی پارٹیوں نے ہائوس کے ذریعے قوم کے سامنے رکھی؟ البتہ، سیکرٹ بیلٹ کے ذریعے دیہاڑی ضائع ہونے کا خدشہ ضرور موجود ہے۔فاضل عدالت بھی بار بار سیاسی جماعتوں سے ایک ہی سوال پوچھ رہی ہے: اوپن ووٹ! آخر مسئلہ کیا ہے؟؟؟

Comments are closed.