عبرت سکھا دینے والے حقائق

لاہور (ویب ڈیسک) لیاری کی تنگ وتاریک اور گند سے اٹی گلی میں عزیر بلوچ کے گھر چوتھی بار داخل ہوا تو کانپ اٹھا ۔ ہر سو پھیلا خوف میرے اندر بھی اتر گیا ۔ ایک لمحے کے لیے لگا میں کسی عقوبت خانے میں آگیا ہوں ‘ وہاں وحشت کا راج تھا جو ہر آنے والے

نامور کالم نگار انجم فاروق اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔کو کاٹ کھانے کودوڑتا تھا ۔یہ گھر‘ گھرنہیں بلکہ مقبرہ تھا ان تمام مظالم کا ‘ ان سارے کالے کرتوتوں کا ‘ جو عزیر بلوچ کے حکم پرہوتے تھے۔ اس مکان کے درودیوار چیخ چیخ کر بتا رہے تھے کہ ہر عروج کو زوال ہے ۔جہاں کبھی لیاری کا بے تاج بادشاہ عزیر بلوچ رہتا تھا وہاں اب صرف ویرانی تھی اور اداسی‘ موت جتنی بے رحم اداسی ۔ نظر گھما کر دیکھا تو نہ ڈر اور نہ آتشیں ہتھیاروں کی نمائش ‘ صرف چھ نقاب پوش خواتین خالی تالاب کو گھور رہی تھیں ۔کیمرہ دیکھ کر عزیر بلوچ کی بیٹی اور پھوپھی آگے بڑھیں اور دھاڑیں مارکر رونے لگیں ۔ بیٹی کا کہنا تھا ”میراوالد شریف ترین انسان ہے ‘ اس کا قصور یہ ہے کہ وہ غریبوں کا ہمدرد ہے ۔ حکومت اسے جان بوجھ کر پھنسا رہی ہے۔ ہماری مالی حالت نہایت خستہ ہو گئی ہے ‘ ابو کا کوئی دوست ہماری مدد نہیں کر رہا‘‘۔ یہ واقعہ مجھے عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ پڑھتے ہوئے یاد آیا تو سوچ میں پڑگیا کہ198 افراد کی جان لینے والے کی بیٹی اب کیامحسوس کررہی ہو گی ؟کروڑوں کا بھتہ اور اربوں کی لوٹ مارکرنے والے کا خاندان دو وقت کی روٹی پوری کرنے کے لیے کس کے آگے ہاتھ پھیلا رہا ہو گا ؟عزیر بلوچ کی رسی دراز تھی ‘ جو اب کٹ چکی ۔ آج نہیں تو کل اسے اپنے کیے کا حساب چکانا ہے‘ یہی قانونِ فطرت ہے ۔

Comments are closed.