عدنان صدیقی نے حیران کن انکشافات کر ڈالے

لاہور (ویب ڈیسک) میرے پاس تم ہو پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے مقبول ترین ڈراموں میں سے ہے۔ جہاں اسے عوام میں زبردست پذیرائی حاصل ہوئی تو وہیں اس کے مصنف خلیل الرحمان قمر کے خواتین کے حوالے سے متنازع بیانات اور اس ڈرامے کے چند ڈائیلاگز کی وجہ سے یہ ڈرامہ تنقید کا نشانہ بھی بنا۔

بی بی سی کے ایک نمائندے نے عدنان صدیقی کا اںٹرویو کیا ۔ جب پہلا سوال کیا گیا کہ یہ ڈرامہ اتنا مقبول کیوں ہے؟ اس سوال پر عدنان صدیقی کہتے ہیں کہ ’اس کی مقبولیت کی وجہ اس کی لکھائی تھی، وہ ایک انداز جو جملوں کا ہوا کرتا تھا کسی زمانے میں، وہ لگتا تھا کہ واپس آ گیا ہے۔‘عدنان صدیقی کہتے ہیں کہ دوسری کامیابی اس کی یہ تھی کہ اس میں کردار کم تھے، کہانی صرف تین لوگوں کی تھی، بیچ میں ایک اور خاتون آتی ہیں جن کی کہانی شروع ہوجاتی ہے، اور اس کے بعد ہدایت کاری کمال کی تھی۔عدنان کہتے ہیں کہ زندگی میں کبھی کبھار ایسے کام آتے ہیں جو آپ کو بھا جاتے ہیں، اور اُن سے زیادہ یہ لوگوں کو بھا گیا اور لوگوں نے اسے پسند کیا۔’اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس کی کامیابی ہر شعبے میں رہی، چاہے لکھائی ہو، ہدایت کاری ہو، اداکاری ہو، لوکیشنز ہوں، اور پھر وہ موضوع ہی ایسا تھا کہ لوگوں کو پسند آیا۔ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے لاتعداد کردار ادا کیے ہیں مگر شہوار کا کردار سب سے زیادہ ہٹ ہونے والے کرداروں میں سے ہے جس کی شخصیت وغیرہ لوگوں کو بہت پسند آئی، تو عدنان صدیقی نے کہا کہ وہ اس کا کریڈٹ ندیم بیگ کو دیں گے۔’ندیم نے مجھے باقاعدہ کہا کہ اس میں سوٹ پہننے ہوں گے، اچھا دکھنا ہوگا، امیر نظر آنا ہوگا، تو میں نے ان سے کہا کہ بنوائیں کپڑے۔”اس پر انھوں نے کہا کہ نہیں نہیں، کپڑے بنوائیں گے تو مزا نہیں آئے گا، آپ اپنے کپڑے نکالیں،

تو میں نے پورے ڈرامے میں اپنے ذاتی کپڑے پہنے ہیں۔’عدنان صدیقی کہتے ہیں کہ وہ میک اپ نہیں کرتے لیکن انھیں میک اپ بھی کروا دیا گیا۔’میک اپ کیا تھا، ہلکا پھلکا پاؤڈر ہی لگا تھا، مگر سب سے زیادہ کام بالوں پر ہوا۔ بالوں پر کلر سے مجھے سخت الرجی ہوجاتی ہے، تو پھر مسکارا کے ذریعے بالوں کو سیاہ کرنا، اس میں بہت وقت لگتا تھا۔’جب ان سے سیٹ پر ہونے والے کسی دلچسپ واقعے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے ایک منظر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا:’تھپڑ والا سین جو تھا اس میں، دانش آتا ہے، دروازہ بند کرتا ہے، میرے کولیگز بیٹھے ہوتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ یہاں بیٹھے رہو کوئی ہلے گا نہیں، اگر ہلا تو خیر نہیں ۔ تو وہ بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ اب باہر جا کر یہ کچھ کہے گا نہیں کیونکہ اس کے ساتھ جو ہوا ہے۔ تو اس وقت میں سوچ رہا تھا کہ اس کو ضرورت کیا ہے۔ تو اس کے بعد شہوار نے ان تین لڑکوں کو تو بالکل نہیں نکالا، جب دنیا کو پتا لگ گیا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا تو تمہارے نہ بتانے یا بتانے سے کیا فرق پڑ جائے گا۔”میں نے ایک اور بات کی تھی کہ مہوش کے لیے ایک تھپڑ ہی کیوں، دو بھی کھا لیتا، اس میں کیا بات ہے۔’وہ کہتے ہیں کہ ان کا سب سے پہلا فلمایا گیا سین وہ تھا جس میں ‘دو ٹکے’ والی بات تھی۔’جب ہمایوں یہ ڈائیلاگ بول رہا تھا تو اس کی نوعیت مجھے سمجھ آ گئی تھی

کہ یہ بہت سخت ڈائیلاگ ہے۔ اب تو پڑھنا پڑے گا پورا سکرپٹ، ایسے تو مزا نہیں آئے گا۔ پہلے میں نے اپنے سین پڑھے تھے، پھر پورا سکرپٹ پڑھا۔ اس کے بعد سمجھ آیا کہ یہ بات ہے۔’وہ ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ جب میں سفر کر رہا ہوتا ہوں تو لوگ اکثر یہ سوال پوچھتے ہیں کہ مہوش نہیں آئیں آپ کے ساتھ؟ وہ کہتے ہیں کہ خاص طور پر ڈرامے کے دنوں میں تو یہ بات بہت کہی جاتی تھی، بالخصوص اگر وہ اسلام آباد جا رہے ہوتے۔ ‘میں انھیں کہتا کہ بھئی وہ شہوار کے ساتھ ہے اور میں عدنان ہوں۔’کچھ کردار اتنے مشہور ہوجاتے ہیں کہ ان کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے دباؤ بڑھ جاتا ہے، کیونکہ اس سے کم میں عوام خوش نہیں ہوتے، اس سوال پر عدنان صدیقی نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعی ایک ذمہ داری ہے اور ان کے کندھوں پر آ چکی ہے۔’سمجھ نہیں آ رہا کہ آگے کیا کام کیا جائے، ایک دو کام آفر بھی ہوئے ہیں مگر مزہ نہیں آ رہا۔ معیار جب عوام بڑھا دیتے ہیں تو اس معیار کو برقرار رکھنا یا اس سے بہتر ہونا آسان کام نہیں ہے۔’انھوں نے کہا کہ اب اگر وہ کوئی ڈرامہ کریں گے بھی تو وہ ‘میرے پاس تم ہو’ نہیں ہو سکتا اور اگر کوئی ایسا ڈرامہ آتا ہے جسے وہی پذیرائی ملتی ہے تو ان سے زیادہ کوئی خوش قسمت آدمی نہیں ہوگا۔’ایسا ڈرامہ کوئی 10 سال میں آتا ہے، کچھ سال قبل ہمسفر آیا تھا، اس کے بھی آٹھ دس سال بعد تو آیا ہوگا

یہ ڈرامہ۔ تو مجھے نہیں لگتا کہ اس نوعیت کا اس پائے کا کوئی ڈرامہ میں کر پاؤں گا۔’وہ مذاقاً کہتے ہیں کہ انھوں نے ایک سال سے کچھ نہیں کیا مگر کرنا تو ہے کیونکہ ‘تین بچے ہیں، گھر ہے، سب کو سنبھالنا ہے۔’انھوں نے بتایا کہ انھیں ایک ‘مزیدار سا’ سیریل آفر ہوا ہے مگر انھوں نے ابھی اسے آگے پڑھ کر فیصلہ کرنا ہے۔عدنان صدیقی بتاتے ہیں کہ جب امریکہ میں کووڈ اپنے عروج پر تھا تو وہ، ہمایوں سعید اور حرا مانی امریکہ میں تھے۔وہ کہتے ہیں کہ جب وہ واپس آئے تو انھوں نے اور ہمایوں سعید نے آئسولیشن میں رہنے کا فیصلہ کیا اور ایک ہوٹل میں رک گئے۔انھوں نے بتایا کہ انھوں نے ہمایوں سعید کے ساتھ وہاں 15 دن گزارے۔’سفر میں اور ساتھ رہنے میں دوستی کا اور اندازہ ہوتا ہے کہ کیسے مزاج ہیں، کیا حالات ہیں، پھر ثمینہ [پیرزادہ] کے گھر سے مزیدار کھانے بن کر آتے تھے، ایک آدھ مرتبہ میرے گھر سے بھی آیا۔’عدنان صدیقی کہتے ہیں کہ وہ اس حوالے سے ‘وہ پندرہ دن’ کے نام سے کوئی کہانی لکھنا چاہیں گے۔انھوں نے بتایا کہ انھوں نے اس دوران ہمایوں سعید کے ساتھ مل کر لائیو ویڈیوز بنانی شروع کیں، دوستوں سے لائیو ویڈیوز پر باتیں کرنی شروع کیں، کچھ کتابوں کا مطالعہ کیا، پرانی فلموں اور نیٹ فلکس کے ساتھ وقت گزاری کی۔وہ کہتے ہیں کہ ان حالات میں خود کو مصروف رکھنے کے لیے یہی کرنا تھا کیونکہ گھر سے باہر نہیں جا سکتے تھے، ‘تو اس کی وجہ سے میں شاید سوشل میڈیا پر متحرک ہوگیا۔’

عدنان صدیقی کہتے ہیں کہ جب انھوں نے اداکاری کا سلسلہ شروع کیا تھا تو یہ کوئی ریس نہیں تھی۔ ‘کیا ریٹنگز آ رہی ہیں، کیوں آ رہی ہیں، ایسا کوئی سلسلہ نہیں تھا۔”اس دور کا ہر ڈرامہ مشہور ہوجاتا تھا کیونکہ چینل ہی ایک تھا۔ اس دور میں جو بھی خواتین اور حضرات اداکاری کرتے تھے، وہ ایک ڈرامہ کرتے تھے اور پورے پاکستان میں مشہور ہوجاتے تھے کیونکہ اس کی پہنچ ہی اتنی ہوتی تھی۔’عدنان صدیقی شوخ انداز میں کہتے ہیں کہ انھیں خود نہیں سمجھ آتا کہ انھیں فلم کی پیشکش ہی نہیں کی جاتی۔ ‘کیا میرے والدین پہلے غریب تھے اس لیے مجھے فلم میں نہیں لیتے؟ کیا وجہ ہے مجھے خود نہیں سمجھ آتا۔’وہ کہتے ہیں کہ انھیں کیمیو (چھوٹے کرداروں) کے لیے فلموں کی پیشکش بہت ہوتی ہیں مگر انھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس کے لیے پیسے لیں گے ورنہ نہیں کریں گے۔پھر وہ خود ہی اس بات کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب ان کی „ہیرو جتنی عمر بھی نہیں رہی اور ہر کوئی ہمایوں بھی نہیں ہو سکتا۔‘’دنیا بھر میں میری جیسی ادھیڑ عمر کے لوگ ہیرو ہی آتے ہیں، سوائے اِدھر کے۔ اب جو عوام کو پسند ہو۔’کیا اپنی پروڈیوس کی گئی فلم میں خود کو کاسٹ کرنے کا سوچا؟اس سوال پر عدنان صدیقی کہتے ہیں کہ وہ اس کہانی میں فٹ ہی نہیں ہوتے تھے کیونکہ وہ کہانی نوجوان لڑکے اور لڑکی کی تھی۔ ‘اور پھر میری پنجابی بھی بالکل اچھی نہیں ہے، اس لیے شاید فٹ نہیں ہو رہا تھا۔’

Comments are closed.