عزم وہمت اور قابلیت کی بے مثال کہانی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی محمد زبیر خان بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔آئرلینڈ میں آئی سرجن (آنکھوں کی جراحی) کی تربیت مکمل ہونے کے بعد شاید میں وہ واحد آئی سرجن ہوں جسے میرے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ پروفیسر کیگن نے اپنے پاس مستقل کام کرنے کی دعوت دی تھی۔

مگر مجھے پاکستان اور پسماندہ علاقوں کے لیے کام کرنا تھا۔ اس لیے بہت زیادہ مراعات چھوڑ کر اب گلگت بلتستان میں آغا خان ہیلتھ سروسز کے تعاون سے ادارہ چلا رہی ہوں۔‘یہ کہنا ہے سرجن ڈاکٹر زبیدہ سیرنگ اسیر کا جنھیں آنکھوں کے حوالے سے آپٹیکس میڈ ایزی لاسٹ منٹ ریویو آف کلینکل آپٹکس تحقیقاتی کتاب لکھنے پر عالمی شہرت ملی ہے۔ڈاکٹر زبیدہ سیرنگ اسیر اس وقت گلگت بلتستان کے دارالحکومت گلگت میں آغا خان ہیلتھ سروسز کے تعاون سے خدمات سر انجام دے رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ علاقے کی پہلی خاتون ہیں جنھوں نے آئی سرجری کے لیے بیرون ملک سے اعلیٰ تربیت حاصل کی تھی۔ان کا تعلق اپر چترال کے علاقے سے ہے۔ یہ مجموعی طور پر پانچ بہنیں اور ایک بھائی ہیں اور ان کے والدین درس و تدریس کے شعبے سے منسلک ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ میرے والد شیر ولی خان اسیر ترقی پسند مصنف بھی ہیں۔ ’وہ ہمیشہ کہتے ہیں کہ اگر پاکستان نے ترقی کرنی ہے تو خواتین کو اعلیٰ تعلیم دلانے کے علاوہ مختلف پیشوں میں اپنی خدمات انجام دینا ہوں گی۔‘ڈاکٹر زبیدہ سیرنگ اسیر کا کہنا تھا کہ یہ ہی وجہ ہے کہ میں نے جب چترال میں تعلیم حاصل کی تو چترال کے نامی گرامی سکولوں میں پڑھی تھی اور جب اس کے بعد وہ مردان گئیں تو وہاں کے بھی بڑے سکولوں اور کالجوں میں تعلیم حاصل کی۔ڈاکٹر زبیدہ کہتی ہیں کہ جب وہ سات برس کی تھیں تو انھوں نے اپنی ایک کزن کو پانی کی ڈرپ لگا دی تھی۔’اب اس کو جب بھی میری کامیابیوں کی اطلاع ملتی ہے تو مجھے فون کر کے کہتی ہے کہ تمھاری پہلی تجربہ گاہ میں ہی تھی۔ میں بھی اس کو

کہتی ہوں کہ پتا نہیں اس وقت تم بچ کیسے گئی تھی۔‘ڈاکٹر زبیدہ کا کہنا تھا کہ ایف ایس سی میں بھی عمدہ نتائج کے بعد ان کے والدین نے مشورہ دیا کہ آغا خان میڈیکل یونیورسٹی میں داخلہ لوں اور کچھ کر کے دکھاؤں۔ڈاکٹر زبیدہ سیرنگ اسیرکہنا تھا کہ ’آغا خان میڈیکل یونیورسٹی میں داخلہ امتحان پاس کر لیا جس کے بعد مجھے میرے والدین خود کراچی چھوڑنے گے۔ ہم سب بہن بھائی پڑھ رہے تھے۔ سب ہی اچھے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کررہے تھے۔ مگر مجھے نہیں یاد کہ کبھی کسی مہینے میرے پاکٹ منی، ہاسٹل اور میس کی فیس تاخیر کا شکار ہوئی ہو۔ ‘اس کے ساتھ ساتھ وہ آغا خان میڈیکل یونیورسٹی کے اسکالر شپ اور سافٹ لون کی سہولیات سے بھی فائدہ اٹھاتی رہیں۔ڈاکٹر زبیدہ سیرنگ اسیر کا کہنا تھا میڈیکل کی تعلیم مکمل ہوتے ہی ان کی شادی ہوگئی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ وہ خود کو بہت خوش نصیب سمجھتی ہیں جس کو اپنے والد اور خاوند کا قدم قدم پر تعاون ملا ہے۔’آپ جانتے ہیں کہ اس وقت کتنی خواتین ڈاکٹر ہیں جن کے ساتھ ان کے خاوند تعاون نہیں کرتے اور وہ اس وقت گھروں میں بیٹھی ہیں۔ ان کی تعلیم پرنہ صرف یہ کہ ملک و قوم کا قیمتی خزانہ خرچ ہوتا ہے بلکہ وہ سیٹیں بھی استعمال کرکے کسی حق دار کا حق کھا رہی ہوتی ہیں۔ جس سے اس وقت مختلف مسائل بھی پیدا ہورہے ہیں۔ ‘انھوں نے بتایا کہ اس موقع پر پاکستان اور آئرلینڈ باہمی تعاون سے آئی سرجری کی تربیت کے لیے آئر لینڈ اسکالر شپ دیتا ہے جس کے لیے انھوں نے درخواست دی اور انٹرویو کے بعد انھیں منتخب کر لیا گیا۔ڈاکٹر زبیدہ سپرنگ اسیر کا کہنا تھا کہ ان کے خاوند

کنسلٹنسی کے شعبے سے منسلک تھے۔’اس موقع پر میں نے ان سے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو انھوں نے نہ صرف حامی بھر لی بلکہ بہت بڑی قربانی بھی دی کہ میرے ساتھ آئرلینڈ چل پڑے جہاں پر انھوں نے بھی اپنی پوسٹ گریجوایشن مکمل کرلی تھی۔‘ڈاکٹر زبیدہ سیرنگ اسپر کا کہنا تھا کہ آغا خان یونیورسٹی میں اپنے اساتذہ کی مشاورت سے آغا خان ہیلتھ سروسز کو دعوت دی کہ اگر وہ چاہیں تو میں ان کی مدد سے پاکستان کے پسماندہ علاقوں جیسے گلگت بلتستان، چترال، بلوچستان اور سندھ کے دور دراز علاقوں میں جہاں پر آنکھوں کے علاج کی سہولتیں دستیاب نہیں ہیں کام کرسکتی ہوں۔’آغا خان ہیلتھ سروسز نے مجھے اس پر بہت سراہا اور پھر ہم نے باہمی مشورے سے اس وقت گلگت میں کام کا آغاز کردیا ہے۔ گلگت میں ہم انتہائی جدید ترین مشنیری لگانے جارہے ہیں۔ جس پر کام آئندہ چند دن میں مکمل ہوجائے گا۔ جس کے بعد میں اپر چترال اور لوئر چترال میں ایسے مراکز قائم کرنا چاہوں گی جہاں پر پچیدہ آپریشن سمیت تمام سہولتیں میسر ہوں گی۔‘وہ کہتی ہیں کہ ان کے تجربے میں آرہا ہے کہ پسماندہ اور شمالی علاقوں میں آنکھوں کی بیماریاں دوسرے علاقوں کی نسبت میں زیادہ ہیں۔’یہ لوگ عموماً دھوپ میں محنت مزدوری کرتے ہیں۔ دھول ہوتی ہیں۔ پھر آنکھوں کے امراض پر توجہ ہی نہیں دی جاتی، مہنگے ترین علاج اور آپریٹ کے لیے وسائل اورسہولتیں ہوتی ہی نہیں ہیں۔ جس وجہ سے یہ مرض بڑھتے جاتے ہیں۔‘ڈاکٹر زبیدہ سیرنگ اسیر کا کہنا

تھا کہ پہلے مرحلے میں گلگت اور چترال میں مراکز قائم کرنے کے بعد وہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں کا رخ کریں گی۔’میری خواہش ہے کہ پاکستان کے ہر پسماندہ علاقے میں پہنچ کر وہاں کے لوگوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کروں اوراس کے ساتھ ساتھ ایسی رسرچ کروں جو اس شعبے میں انقلاب کا سبب بنے۔‘ڈاکٹر زبیدہ سیرنگ اسیر کا کہنا تھا کہ جب وہ آئی سرجن بننے کے لیے زیر تربیت تھیں اس میں ان کا ایک امتحان آپٹکس پر ہوتا ہے جس میں زیر تربیت آئی سرجن کو مائیکروسکوپ، لینز وغیرہ پڑھنا ہوتا ہے۔ایمازون کے مطابق ان کی کتاب 2019 میں ایمازون کے پاس آپٹو میٹری کی کتابوں میں سے سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ہے۔ایمازون نے 2020 اور 2021 میں ڈاکٹر زبیدہ کی کتاب کو آپٹکس کے موضوع پر چھپنے والی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب قرار دینے کے علاوہ اس کو آپٹکس کے موضوع پر لکھے جانے والی کتابوں میں سے بہترین کتاب قرار دیا گیا ہے۔کتاب کے بارے میں رائل ویکٹوریا آئی اینڈ ایئر ہاسپٹل ڈبلن آئرلینڈ کے سپیلشسٹ رجسڑار برائے آپٹومالوجی ڈاکٹر کرک اسٹیفینس کا کہنا ہے کہ اس میں بنیادی معاملے کا دوبارہ بڑا واضح اور جامع جائزہ لیا گیا ہے جو کہ نہ صرف زیر تربیت، نئے تربیت یافتہ بلکہ تجربہ کار معالجین کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ڈاکٹر امان کرمانی رائل سرے کاوئنٹی ہاسپٹل میں آپٹومالوجی کنسلٹنٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پوسٹ گریجویٹ کرنے والوں کے لیے اس کتاب میں آپٹکس سے متعلق مکمل رہنمائی موجود ہے۔ اس میں موجود مواد، اشکال کو انتہائی آسان کردیا گیا ہے جو ہر ایک کے لیے فائدہ مند ہے۔پاکستان شعبہ میڈیکل میں خدمات انجام دینے والے بریگیڈیر امجد اکرم جو کہ آپٹومالوجی میں کنسلٹنٹ کی خدمات انجام دیتے ہیں، کا کہنا تھا کہ آپٹکس کو انتہائی خشک اور مشکل مضمون سمجھا جاتا ہے۔ اس پر موجود کتب بھی انتہائی مشکل ہیں۔انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر زبیدہ سیرنگ اسیر نے اپنی کتاب میں اس پر انتہائی آسان مواد اور سمجھ میں آنے والا مواد پیش کر کے ایک حیرت انگیز کوشش کی ہے۔

Comments are closed.